<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بڑھتے انخلا کو روکنے کیلئے فوری اقدامات پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279682/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت کو فوری طور پر ایک جامع سرمایہ کاری اور کاروباری تحفظ پالیسی متعارف کرانے کی ضرورت ہے جس میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے معقول ٹیکس نظام شامل ہو، تاکہ پاکستان سے ان کمپنیوں کے انخلا کو روکا جا سکے اور معیشت کو درپیش سنگین خطرات پر قابو پایا جا سکے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد درآمدات پر انحصار پر مبنی موجودہ ٹیرف تحفظ کی جگہ برآمدات پر مبنی حکمت عملی اپنانا ہونا چاہیے، تاکہ بین الاقوامی کمپنیوں کو پاکستان میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی ترغیب دی جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر سرکاری عہدیدار کے مطابق حکومت فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے غیر دوستانہ ٹیکس سمجھتے ہوئے اس پر نظرثانی پر غور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ ٹیکس دہندگان اور مکمل طور پر دستاویزی کمپنیوں پر عائد بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار ختم کی جائے گی تاکہ کاروباری میدان میں مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں اس وقت 200 سے زائد ملٹی نیشنل کمپنیاں کام کر رہی ہیں جو ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولی کا ایک تہائی سے زائد حصہ ادا کرتی ہیں، تاہم ان کی برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ وہ سالانہ 1.5 ارب ڈالر سے زائد منافع بیرون ملک منتقل کرتی ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق امتیازی ٹیکس پالیسیاں، بلند کارپوریٹ ٹیکس، منافع کی عدم واپسی، پیچیدہ ریگولیٹری نظام اور غیر یقینی پالیسیاں ان کمپنیوں کے انخلا کی بڑی وجوہات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر عوامل میں روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی، بلاکڈ ڈیویڈنڈز، خام مال کی درآمد میں رکاوٹیں اور اچانک پالیسی تبدیلیاں شامل ہیں جس کے نتیجے میں اعلیٰ معیار کی روزگار کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنیوں کا ملک سے جانا پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند برسوں میں کم از کم نو بڑی غیر ملکی کمپنیاں پاکستان سے نکل چکی ہیں جن میں فائزر، سانوفي ایونٹس، ایلی للی اور پی اینڈ جی شامل ہیں، جبکہ دیگر سروس سیکٹر سے وابستہ تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھاری ٹیکسیشن، ریفنڈ میں تاخیر اور ایف بی آر کی جانب سے ہراسانی کے باعث کئی کمپنیاں متحدہ عرب امارات منتقل ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری( او آئی سی سی آئی) اور پاکستان بزنس کونسل نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ مکمل طور پر دستاویزی اور تعمیل کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے ٹیکسوں میں نرمی کی جائے تاکہ ریونیو میں اضافہ ممکن ہو۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان کمپنیوں کا تدریجی انخلا محض کاروباری حکمت عملی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ معاشی خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولا کولا اور نیسلے جیسی کمپنیاں سرمایہ کاری، روزگار اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا بڑا ذریعہ ہیں۔ تاہم منی بجٹس، بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ اور غیر مستحکم پالیسی ماحول ان کمپنیوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو چاہیے کہ ایک سادہ، کم ٹیکس والا اور مستحکم نظام نافذ کرے تاکہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اعتماد کے ساتھ پاکستان میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور ملکی معیشت کو استحکام حاصل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت کو فوری طور پر ایک جامع سرمایہ کاری اور کاروباری تحفظ پالیسی متعارف کرانے کی ضرورت ہے جس میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے معقول ٹیکس نظام شامل ہو، تاکہ پاکستان سے ان کمپنیوں کے انخلا کو روکا جا سکے اور معیشت کو درپیش سنگین خطرات پر قابو پایا جا سکے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد درآمدات پر انحصار پر مبنی موجودہ ٹیرف تحفظ کی جگہ برآمدات پر مبنی حکمت عملی اپنانا ہونا چاہیے، تاکہ بین الاقوامی کمپنیوں کو پاکستان میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی ترغیب دی جا سکے۔</strong></p>
<p>ایک سینئر سرکاری عہدیدار کے مطابق حکومت فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے غیر دوستانہ ٹیکس سمجھتے ہوئے اس پر نظرثانی پر غور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ ٹیکس دہندگان اور مکمل طور پر دستاویزی کمپنیوں پر عائد بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار ختم کی جائے گی تاکہ کاروباری میدان میں مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔</p>
<p>ملک میں اس وقت 200 سے زائد ملٹی نیشنل کمپنیاں کام کر رہی ہیں جو ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولی کا ایک تہائی سے زائد حصہ ادا کرتی ہیں، تاہم ان کی برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ وہ سالانہ 1.5 ارب ڈالر سے زائد منافع بیرون ملک منتقل کرتی ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق امتیازی ٹیکس پالیسیاں، بلند کارپوریٹ ٹیکس، منافع کی عدم واپسی، پیچیدہ ریگولیٹری نظام اور غیر یقینی پالیسیاں ان کمپنیوں کے انخلا کی بڑی وجوہات ہیں۔</p>
<p>دیگر عوامل میں روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی، بلاکڈ ڈیویڈنڈز، خام مال کی درآمد میں رکاوٹیں اور اچانک پالیسی تبدیلیاں شامل ہیں جس کے نتیجے میں اعلیٰ معیار کی روزگار کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنیوں کا ملک سے جانا پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔</p>
<p>گزشتہ چند برسوں میں کم از کم نو بڑی غیر ملکی کمپنیاں پاکستان سے نکل چکی ہیں جن میں فائزر، سانوفي ایونٹس، ایلی للی اور پی اینڈ جی شامل ہیں، جبکہ دیگر سروس سیکٹر سے وابستہ تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھاری ٹیکسیشن، ریفنڈ میں تاخیر اور ایف بی آر کی جانب سے ہراسانی کے باعث کئی کمپنیاں متحدہ عرب امارات منتقل ہو چکی ہیں۔</p>
<p>اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری( او آئی سی سی آئی) اور پاکستان بزنس کونسل نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ مکمل طور پر دستاویزی اور تعمیل کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے ٹیکسوں میں نرمی کی جائے تاکہ ریونیو میں اضافہ ممکن ہو۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان کمپنیوں کا تدریجی انخلا محض کاروباری حکمت عملی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ معاشی خطرہ ہے۔</p>
<p>کولا کولا اور نیسلے جیسی کمپنیاں سرمایہ کاری، روزگار اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا بڑا ذریعہ ہیں۔ تاہم منی بجٹس، بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ اور غیر مستحکم پالیسی ماحول ان کمپنیوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔</p>
<p>حکومت کو چاہیے کہ ایک سادہ، کم ٹیکس والا اور مستحکم نظام نافذ کرے تاکہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اعتماد کے ساتھ پاکستان میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور ملکی معیشت کو استحکام حاصل ہو۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279682</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 12:05:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/24085619de31da3.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/24085619de31da3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
