<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 14:05:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 14:05:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوپ 30: چھوٹا فنڈ، بڑے چیلنجز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279674/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پہلی بار لوس اینڈ ڈیمیج فنڈ کے پاس وعدوں کے بجائے حقیقی پیسہ موجود ہے ، اصل امتحان یہ ہے کہ آیا پاکستان اپنا حصہ حاصل کر پائے گا یا نہیں۔ بیلیم میں سی او پی 30 کے دوران طویل انتظار کے بعد &lt;em&gt;فنڈ فار ریسپانڈنگ ٹو لاس اینڈ ڈیمیج (ایف آر ایل ڈی)&lt;/em&gt; نظریے سے عملی مرحلے میں آ گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بورڈ نے بارباڈوس ایمپلیمینٹیشن ماڈیلٹیز کی منظوری دی اور 2025–26 کے لیے تقریباً 2.5 کروڑ امریکی ڈالر کی پہلی درخواست برائے فنڈنگ کھول دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقی پذیر ممالک کے پاس وسط دسمبر سے شروع ہونے والے چھ ماہ میں تجاویز جمع کرانے کا موقع ہوگا، عام طور پر 0.5 سے 2 کروڑ ڈالر کے دائرہ میں، جو فنڈ کے تجرباتی پائلٹ مرحلے کے طور پر کام کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ہے، مگر پاکستان جیسے ممالک کو درپیش ماحولیاتی تباہی کے پیمانے کے مقابلے میں بہت کم ہے۔یہ رقم بھی سب کے لیے یکساں دستیاب نہیں ہوگی بلکہ زیادہ تر حصہ چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک اور کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے مختص ہے، جس سے درمیانے آمدنی والے، ماحولیاتی خطرے سے دوچار ممالک کے لیے تقریباً 1–1.5 کروڑ ڈالر دستیاب رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے وزیر ماحولیات نے کہا کہ حکومت 1–2 کروڑ ڈالر کی تجاویز جمع کرائے گی، مگر فنڈ کو بوروکریٹک اور کم وسائل والا قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جہاں بات ہو وہاں پیسہ بھی رکھو جو عالمی ماحولیاتی مالیہ میں عملی رقم کی کمی کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سول سوسائٹی گروپس نے ایف آر ایل ڈ ی کے آغاز کا محتاط خیرمقدم کیا، مگر خبردار کیا کہ یہ فنڈ ان تاخیرات کو دہرا سکتا ہے جنہیں ختم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ ایکشن ایڈ یو ایس اے کے برینڈن وو نے کہا کہ فنڈ کو حقیقت میں مؤثر بنانے کے لیے اسے کمیونٹیز کے قریب اور فوری ردعمل دینے والا ہونا چاہیے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آر ایل ڈی کے کو چیئر ژاں کرسٹوف ڈونیلیئر نے اس آغاز کو ٹیسٹ، لرن اور شیپ مرحلے کے طور پر بیان کیا، جو فنڈ کے محدود سائز اور بتدریج بہتری کی توقع ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کسی نظریاتی موقف سے مذاکرات نہیں کر رہا۔ پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ ماحولیاتی خطرے والے ممالک میں شامل ہے۔ 2022 کے بڑے سیلاب نے 3.3 کروڑ افراد کو متاثر کیا اور نقصانات اربوں ڈالر میں پہنچے۔ مگر پاکستان کی مالی صلاحیت محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے آئی ایم ایف کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبل کیلئے مذاکرات کیے اور محدود ماحولیاتی مالیہ حاصل کرنے کے لیے پروگرام ریویوز کیے (تقریباً 1–1.4 ارب ڈالر)، جبکہ ورلڈ بینک نے کئی سالہ ترقیاتی مالی پیکجز دیے ہیں جو بڑے سرمایہ کاری کے راستے ظاہر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ آلات سیاسی اعتبار سے اہم ہیں، مگر وہ فوری امداد اور معاوضے کا متبادل نہیں جو لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیلیم میں سیاسی اختلاف واضح ہے ، ترقی پذیر ممالک فوری، گرانٹ بیسڈ اور مقامی سطح پر دستیاب مالیہ چاہتے ہیں، جبکہ کئی ڈونرز اور بین الاقوامی ادارے شفافیت اور مؤثریت کے لیے سیف گارڈز، نتائج کے فریم ورک اور گورننس پر زور دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ ایف آر ایل ڈی کی پہلی رقم بہت محتاط انداز میں دی جا رہی ہے، باوجود اس کے کہ میڈیا ہیڈلائنز میں فنڈ کے آغاز کی بڑی بات کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلائمیٹ ایکشن نیٹ ورک کی تسنیم ایسوپ نے کہا کہ تیس سال کے مذاکرات کے بعد لوگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ماحولیاتی گورننس واقعی کام کر رہی ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہاکہ اصل امتحان یہ ہوگا کہ رقم بروقت لوگوں تک پہنچے، نہ کہ بیوروکریٹک رکاوٹوں سے گزر کر انہیں ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے فوری سوال حکمت عملی کا ہے کہ چھوٹے، تجرباتی فنڈنگ ونڈو کو کس طرح اسٹریٹجک فائدے میں بدلا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین اہم اقدامات درج ذیل ہیں پہلا یہ کہ ڈونرز ایسے منصوبوں کو فنڈنگ کرتے ہیں، جنہیں سمجھا اور مانیٹر کیا جا سکے۔ پاکستان کو مکمل لاگت اور مقامی سطح پر مرکوز تجاویز پیش کرنی ہوں گی، جیسے فوری ردعمل والے ہاؤسنگ، ماحولیاتی طور پر مضبوط زراعت اور سیلاب سے متاثرہ شہروں میں خطرے کی کمی کے 3سے 5 منصوبے 0.5–2 کروڑ ڈالر کے دائرہ میں پاکستان کو قابل اعتماد امیدوار بنائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا یہ کہ مقامی رسائی اور ادارہ جاتی ڈھانچہ ہے۔ پاکستان کی سب سے مستحکم بات یہ ہے کہ فنڈ تک فوری اور مقامی رسائی ممکن ہے۔ ایف آر ایل ڈی کی شرائط قومی رسائی اور مستند ثالثوں کو اجازت دیتی ہیں، مگر سست منظوری اور مرکزی جائزہ کمیونٹیز کے لیے فنڈز کی تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک قومی لوکل ایکسس فیسی لیٹی صوبائی عمل درآمد، ایم او سی سی فنانس میں چھوٹا ایف آر ایل ڈی ریڈینس یونٹ اور مستند بین الاقوامی فڈیوشری پارٹنرز کے ساتھ فنڈ کے پائلٹ مرحلے کو اسکیل ایبل قومی آلہ میں تبدیل کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا سفارتی اور مالی تنوع ہے &lt;strong&gt;۔&lt;/strong&gt; پاکستان کو ایف آر ایل دی کے کال کو صرف حل کے طور پر نہیں بلکہ لیورج کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوطرفہ وعدے، ایم ڈی بی بلینڈڈ فیسلیٹیز، خیراتی فنڈنگ اور سبز بانڈ یا سکوک جیسے مالیاتی آلات ایف آر ایل ڈی گرانٹس کے ساتھ ملا کر بڑے سرمایہ کاری کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ آئی ایم ایف مذاکرات اور بین الاقوامی کریڈٹ لائنز مالیاتی اعتبار ظاہر کرتی ہیں اور بلینڈڈ فنانس کھولنے میں مدد کر سکتی ہیں، جس سے منصوبے دسیوں ملین سے انفرااسٹرکچر گریڈ ریزیلیئنس میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آر ایل ڈی کا آغاز سنگِ میل ہے، علاج نہیں۔ پاکستان کو حکمت عملی کے ساتھ کام کرنا ہوگا، تیار شدہ درخواستیں دائر کرنا، قومی ڈلیوری میکانزم قائم کرنا اور چھوٹے گرانٹس کو بدل کر بڑی شراکتی مالیہ میں تبدیل کرنا۔ فنڈ کی دوبارہ فراہمی کا انتظار سست اور سیاسی طور پر مشکل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی او پی 30 میں انصاف اور تاریخی ذمہ داری کے مباحث ہوں گے، مگر حقیقی زندگی اور روزگار فوری خطرے میں ہیں۔ پاکستان کے دو اہم فائدے ہیں جس میں حالیہ آفت سے اخلاقی جواز ، قابل بینک منصوبوں اور مقامی آلات کے ذریعے تیاری ظاہر کرنے کی صلاحیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈ کے ابتدائی 2.5 کروڑ ڈالر نقصان کے مقابلے میں چھوٹے ہیں، مگر یہ تجرباتی زمین بھی ہیں۔ کامیابی کا معیار تقریروں یا تصویری مواقع سے نہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ خاندانوں کی چھتیں دوبارہ تعمیر ہوں، کسانوں کی فصل بیمہ ادا ہو اور چند ماہ کے اندر شہر کی نکاسی درست کی جائے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان مذاکراتی ساکھ کو ادارہ جاتی تیاری اور پیکجڈ منصوبوں میں بدل دے تو وہ سی او پی 30 میں صرف دعویدار نہیں بلکہ ایک ماڈل بھی بن جائے گا کہ خطرے والے ممالک چھوٹے ابتدائی مواقع کو کس طرح دیرپا مالی ڈھانچے میں تبدیل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پہلی بار لوس اینڈ ڈیمیج فنڈ کے پاس وعدوں کے بجائے حقیقی پیسہ موجود ہے ، اصل امتحان یہ ہے کہ آیا پاکستان اپنا حصہ حاصل کر پائے گا یا نہیں۔ بیلیم میں سی او پی 30 کے دوران طویل انتظار کے بعد <em>فنڈ فار ریسپانڈنگ ٹو لاس اینڈ ڈیمیج (ایف آر ایل ڈی)</em> نظریے سے عملی مرحلے میں آ گیا ہے۔</strong></p>
<p>اس کے بورڈ نے بارباڈوس ایمپلیمینٹیشن ماڈیلٹیز کی منظوری دی اور 2025–26 کے لیے تقریباً 2.5 کروڑ امریکی ڈالر کی پہلی درخواست برائے فنڈنگ کھول دی۔</p>
<p>ترقی پذیر ممالک کے پاس وسط دسمبر سے شروع ہونے والے چھ ماہ میں تجاویز جمع کرانے کا موقع ہوگا، عام طور پر 0.5 سے 2 کروڑ ڈالر کے دائرہ میں، جو فنڈ کے تجرباتی پائلٹ مرحلے کے طور پر کام کریں گی۔</p>
<p>یہ پیش رفت ہے، مگر پاکستان جیسے ممالک کو درپیش ماحولیاتی تباہی کے پیمانے کے مقابلے میں بہت کم ہے۔یہ رقم بھی سب کے لیے یکساں دستیاب نہیں ہوگی بلکہ زیادہ تر حصہ چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک اور کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے مختص ہے، جس سے درمیانے آمدنی والے، ماحولیاتی خطرے سے دوچار ممالک کے لیے تقریباً 1–1.5 کروڑ ڈالر دستیاب رہیں گے۔</p>
<p>پاکستان کے وزیر ماحولیات نے کہا کہ حکومت 1–2 کروڑ ڈالر کی تجاویز جمع کرائے گی، مگر فنڈ کو بوروکریٹک اور کم وسائل والا قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جہاں بات ہو وہاں پیسہ بھی رکھو جو عالمی ماحولیاتی مالیہ میں عملی رقم کی کمی کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>سول سوسائٹی گروپس نے ایف آر ایل ڈ ی کے آغاز کا محتاط خیرمقدم کیا، مگر خبردار کیا کہ یہ فنڈ ان تاخیرات کو دہرا سکتا ہے جنہیں ختم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ ایکشن ایڈ یو ایس اے کے برینڈن وو نے کہا کہ فنڈ کو حقیقت میں مؤثر بنانے کے لیے اسے کمیونٹیز کے قریب اور فوری ردعمل دینے والا ہونا چاہیے ۔</p>
<p>ایف آر ایل ڈی کے کو چیئر ژاں کرسٹوف ڈونیلیئر نے اس آغاز کو ٹیسٹ، لرن اور شیپ مرحلے کے طور پر بیان کیا، جو فنڈ کے محدود سائز اور بتدریج بہتری کی توقع ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کسی نظریاتی موقف سے مذاکرات نہیں کر رہا۔ پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ ماحولیاتی خطرے والے ممالک میں شامل ہے۔ 2022 کے بڑے سیلاب نے 3.3 کروڑ افراد کو متاثر کیا اور نقصانات اربوں ڈالر میں پہنچے۔ مگر پاکستان کی مالی صلاحیت محدود ہے۔</p>
<p>پاکستان نے آئی ایم ایف کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبل کیلئے مذاکرات کیے اور محدود ماحولیاتی مالیہ حاصل کرنے کے لیے پروگرام ریویوز کیے (تقریباً 1–1.4 ارب ڈالر)، جبکہ ورلڈ بینک نے کئی سالہ ترقیاتی مالی پیکجز دیے ہیں جو بڑے سرمایہ کاری کے راستے ظاہر کرتے ہیں۔</p>
<p>یہ آلات سیاسی اعتبار سے اہم ہیں، مگر وہ فوری امداد اور معاوضے کا متبادل نہیں جو لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>بیلیم میں سیاسی اختلاف واضح ہے ، ترقی پذیر ممالک فوری، گرانٹ بیسڈ اور مقامی سطح پر دستیاب مالیہ چاہتے ہیں، جبکہ کئی ڈونرز اور بین الاقوامی ادارے شفافیت اور مؤثریت کے لیے سیف گارڈز، نتائج کے فریم ورک اور گورننس پر زور دیتے ہیں۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ ایف آر ایل ڈی کی پہلی رقم بہت محتاط انداز میں دی جا رہی ہے، باوجود اس کے کہ میڈیا ہیڈلائنز میں فنڈ کے آغاز کی بڑی بات کر رہا ہے۔</p>
<p>کلائمیٹ ایکشن نیٹ ورک کی تسنیم ایسوپ نے کہا کہ تیس سال کے مذاکرات کے بعد لوگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ماحولیاتی گورننس واقعی کام کر رہی ہے یا نہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہاکہ اصل امتحان یہ ہوگا کہ رقم بروقت لوگوں تک پہنچے، نہ کہ بیوروکریٹک رکاوٹوں سے گزر کر انہیں ملے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے فوری سوال حکمت عملی کا ہے کہ چھوٹے، تجرباتی فنڈنگ ونڈو کو کس طرح اسٹریٹجک فائدے میں بدلا جائے۔</p>
<p>تین اہم اقدامات درج ذیل ہیں پہلا یہ کہ ڈونرز ایسے منصوبوں کو فنڈنگ کرتے ہیں، جنہیں سمجھا اور مانیٹر کیا جا سکے۔ پاکستان کو مکمل لاگت اور مقامی سطح پر مرکوز تجاویز پیش کرنی ہوں گی، جیسے فوری ردعمل والے ہاؤسنگ، ماحولیاتی طور پر مضبوط زراعت اور سیلاب سے متاثرہ شہروں میں خطرے کی کمی کے 3سے 5 منصوبے 0.5–2 کروڑ ڈالر کے دائرہ میں پاکستان کو قابل اعتماد امیدوار بنائیں گے۔</p>
<p>دوسرا یہ کہ مقامی رسائی اور ادارہ جاتی ڈھانچہ ہے۔ پاکستان کی سب سے مستحکم بات یہ ہے کہ فنڈ تک فوری اور مقامی رسائی ممکن ہے۔ ایف آر ایل ڈی کی شرائط قومی رسائی اور مستند ثالثوں کو اجازت دیتی ہیں، مگر سست منظوری اور مرکزی جائزہ کمیونٹیز کے لیے فنڈز کی تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں۔</p>
<p>ایک قومی لوکل ایکسس فیسی لیٹی صوبائی عمل درآمد، ایم او سی سی فنانس میں چھوٹا ایف آر ایل ڈی ریڈینس یونٹ اور مستند بین الاقوامی فڈیوشری پارٹنرز کے ساتھ فنڈ کے پائلٹ مرحلے کو اسکیل ایبل قومی آلہ میں تبدیل کر سکتی ہے۔</p>
<p>تیسرا سفارتی اور مالی تنوع ہے <strong>۔</strong> پاکستان کو ایف آر ایل دی کے کال کو صرف حل کے طور پر نہیں بلکہ لیورج کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔</p>
<p>دوطرفہ وعدے، ایم ڈی بی بلینڈڈ فیسلیٹیز، خیراتی فنڈنگ اور سبز بانڈ یا سکوک جیسے مالیاتی آلات ایف آر ایل ڈی گرانٹس کے ساتھ ملا کر بڑے سرمایہ کاری کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>حالیہ آئی ایم ایف مذاکرات اور بین الاقوامی کریڈٹ لائنز مالیاتی اعتبار ظاہر کرتی ہیں اور بلینڈڈ فنانس کھولنے میں مدد کر سکتی ہیں، جس سے منصوبے دسیوں ملین سے انفرااسٹرکچر گریڈ ریزیلیئنس میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ایف آر ایل ڈی کا آغاز سنگِ میل ہے، علاج نہیں۔ پاکستان کو حکمت عملی کے ساتھ کام کرنا ہوگا، تیار شدہ درخواستیں دائر کرنا، قومی ڈلیوری میکانزم قائم کرنا اور چھوٹے گرانٹس کو بدل کر بڑی شراکتی مالیہ میں تبدیل کرنا۔ فنڈ کی دوبارہ فراہمی کا انتظار سست اور سیاسی طور پر مشکل ہوگا۔</p>
<p>سی او پی 30 میں انصاف اور تاریخی ذمہ داری کے مباحث ہوں گے، مگر حقیقی زندگی اور روزگار فوری خطرے میں ہیں۔ پاکستان کے دو اہم فائدے ہیں جس میں حالیہ آفت سے اخلاقی جواز ، قابل بینک منصوبوں اور مقامی آلات کے ذریعے تیاری ظاہر کرنے کی صلاحیت ہے۔</p>
<p>فنڈ کے ابتدائی 2.5 کروڑ ڈالر نقصان کے مقابلے میں چھوٹے ہیں، مگر یہ تجرباتی زمین بھی ہیں۔ کامیابی کا معیار تقریروں یا تصویری مواقع سے نہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ خاندانوں کی چھتیں دوبارہ تعمیر ہوں، کسانوں کی فصل بیمہ ادا ہو اور چند ماہ کے اندر شہر کی نکاسی درست کی جائے ۔</p>
<p>اگر پاکستان مذاکراتی ساکھ کو ادارہ جاتی تیاری اور پیکجڈ منصوبوں میں بدل دے تو وہ سی او پی 30 میں صرف دعویدار نہیں بلکہ ایک ماڈل بھی بن جائے گا کہ خطرے والے ممالک چھوٹے ابتدائی مواقع کو کس طرح دیرپا مالی ڈھانچے میں تبدیل کر سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279674</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Nov 2025 14:49:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبادت الرحمان بابرنمیر عرفی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/23134324d925a67.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/23134324d925a67.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
