<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف رپورٹ کو حقیقی معاشی اصلاحات کا لانچ پیڈ بنانے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279670/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ نئی &lt;em&gt;گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ (جی سی ڈی اے)&lt;/em&gt; رپورٹ پاکستان کی معاشی حکمرانی کے لیے ایک نقطۂ آغاز ثابت ہونی چاہیے، کیونکہ اس کی نشاندہیوں نے ان گہرے ساختیاتی مسائل کو بے نقاب کر دیا ہے جو طویل عرصے سے ملکی ترقی، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی ساکھ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی بی ایف کے صوبائی سربراہان ملک طلعت سہیل، اشفاق پراچہ، درو خان اچکزئی اور طارق جدون نے کہا ہے کہ رپورٹ   یاددہانی ہے کہ  ملکی معاشی مشکلات کی بنیادی وجہ مسلسل جاری گورننس کی خامیاں ہیں  جن میں صوابدیدی فیصلے، غیر شفاف مالیاتی عمل اور ایسی غلط پالیسیاں شامل ہیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو مارکیٹوں کو بگاڑتی  ، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور کرتی  اور عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فورم نے کہا کہ یہ مسائل کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ ٹیکس انتظامیہ، سرکاری اداروں (ایس او سیز )، عدالتی طریقہ کار اور پبلک سیکٹر کی نگرانی کے نظاموں میں بھی جڑے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی سی ڈی اے  طویل تاخیر کے بعد جاری کی گئی اور یہ پاکستان کے لیے دسمبر میں آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط حاصل کرنے کی لازمی شرط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تکنیکی ضرورت سے ہٹ کر یہ رپورٹ ایک کھرا تجزیہ پیش کرتی ہے کہ شفافیت کی کمی، غیر مستقل پالیسی عمل درآمد، اور اداروں کے ساتھ امتیازی سلوک کس طرح معاشی کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام بلا وجہ پیچیدہ اور غیر مؤثر ہے، سرکاری ادارے مناسب نظم و ضبط اور احتساب کے بغیر کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بزنس فورم نے کہا کہ آئی ایم ایف کا مرکزی پیغام  یہ ہے کہ &lt;em&gt;مضبوط، شفاف اور اصولوں پر مبنی گورننس کے بغیر معاشی بحالی ممکن نہیں۔&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ نئی <em>گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ (جی سی ڈی اے)</em> رپورٹ پاکستان کی معاشی حکمرانی کے لیے ایک نقطۂ آغاز ثابت ہونی چاہیے، کیونکہ اس کی نشاندہیوں نے ان گہرے ساختیاتی مسائل کو بے نقاب کر دیا ہے جو طویل عرصے سے ملکی ترقی، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی ساکھ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>پی بی ایف کے صوبائی سربراہان ملک طلعت سہیل، اشفاق پراچہ، درو خان اچکزئی اور طارق جدون نے کہا ہے کہ رپورٹ   یاددہانی ہے کہ  ملکی معاشی مشکلات کی بنیادی وجہ مسلسل جاری گورننس کی خامیاں ہیں  جن میں صوابدیدی فیصلے، غیر شفاف مالیاتی عمل اور ایسی غلط پالیسیاں شامل ہیں</p>
<p>جو مارکیٹوں کو بگاڑتی  ، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور کرتی  اور عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہیں۔</p>
<p>فورم نے کہا کہ یہ مسائل کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ ٹیکس انتظامیہ، سرکاری اداروں (ایس او سیز )، عدالتی طریقہ کار اور پبلک سیکٹر کی نگرانی کے نظاموں میں بھی جڑے ہوئے ہیں۔</p>
<p>جی سی ڈی اے  طویل تاخیر کے بعد جاری کی گئی اور یہ پاکستان کے لیے دسمبر میں آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط حاصل کرنے کی لازمی شرط ہے۔</p>
<p>تاہم تکنیکی ضرورت سے ہٹ کر یہ رپورٹ ایک کھرا تجزیہ پیش کرتی ہے کہ شفافیت کی کمی، غیر مستقل پالیسی عمل درآمد، اور اداروں کے ساتھ امتیازی سلوک کس طرح معاشی کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام بلا وجہ پیچیدہ اور غیر مؤثر ہے، سرکاری ادارے مناسب نظم و ضبط اور احتساب کے بغیر کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان بزنس فورم نے کہا کہ آئی ایم ایف کا مرکزی پیغام  یہ ہے کہ <em>مضبوط، شفاف اور اصولوں پر مبنی گورننس کے بغیر معاشی بحالی ممکن نہیں۔</em></p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279670</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Nov 2025 12:49:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/23123202869b14f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/23123202869b14f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
