<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبر پختونخوا حکومت نے ڈیجیٹل پیمنٹس ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279667/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے &lt;em&gt;خیبر پختونخوا ڈیجیٹل پیمنٹس ایکٹ 2025&lt;/em&gt; کی منظوری دے دی ہے، جو صوبے میں جدید اور شفاف معاشی ڈھانچے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل باقاعدہ منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس اقدام کے ساتھ خیبر پختونخوا پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس نے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک متعارف کرایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ نئے قانون کے تحت تمام سرکاری محکموں، کاروباروں اور سروس سیکٹر میں ادائیگیاں لازمی طور پر کیو آر کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل طریقے سے کی جائیں گی۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل لین دین سے شفافیت، مالی تحفظ اور عوام کو سہولت ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں قانون کے آغاز سے دو سال تک کسی بھی پہلے سے غیر دستاویزی کاروبار کی جانب سے اس ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کیو آر کوڈ کے ذریعے موصول ہونے والی ڈیجیٹل ادائیگیاں کسی نئے ڈائریکٹ سیلز ٹیکس کے نفاذ کی بنیاد نہیں بنیں گی، تاکہ کاروباروں کی دستاویز بندی کی حوصلہ افزائی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم  ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے سے انکار کرنا یا اس پر اضافی چارج لگانا قانون کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔ اس قانون سازی کا مقصد مالی شمولیت کو فروغ دینا، نقد رقم پر انحصار کم کرنا اور صوبائی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ صارف اور کاروباری افراد کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے مضبوط اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ پورا ڈیجیٹل ٹرانزیکشن نظام عالمی معیار کے مطابق ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوام کی سہولت کے لیے حکومت مارکیٹوں اور تجارتی مراکز میں پبلک وائی فائی اور دیگر ڈیجیٹل خدمات بھی فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ حکومت مالی اور ڈیجیٹل تعلیم کو نصابِ تعلیم میں شامل کرے گی جبکہ قانون کے موثر نفاذ، تربیت اور کاروباری برادری کی آسان شمولیت کے لیے ضلعی سطح کے طریقہ کار کو مضبوط بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعلیٰ کے پی نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا پاکستان کی پہلی کیش لیس ماڈل معیشت بننے کے لیے تیار ہے، جو وفاقی حکومت اور دیگر صوبوں کے لیے ایک نمونہ ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جدید ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام وقت کی ضرورت ہے اور اس کا نفاذ نہ صرف شہریوں اور کاروباروں کے لیے سہولت پیدا کرے گا بلکہ مجموعی طرزِ حکمرانی بہتر بنانے میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے کرپشن کے مواقع کم ہوں گے، ریونیو کلیکشن مستحکم ہوگی، ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی کو تقویت ملے گی، ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور سب سے بڑھ کر عوام کا اعتماد سرکاری اداروں پر مضبوط ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے <em>خیبر پختونخوا ڈیجیٹل پیمنٹس ایکٹ 2025</em> کی منظوری دے دی ہے، جو صوبے میں جدید اور شفاف معاشی ڈھانچے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔</strong></p>
<p>بل باقاعدہ منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس اقدام کے ساتھ خیبر پختونخوا پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس نے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک متعارف کرایا ہے۔</p>
<p>وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ نئے قانون کے تحت تمام سرکاری محکموں، کاروباروں اور سروس سیکٹر میں ادائیگیاں لازمی طور پر کیو آر کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل طریقے سے کی جائیں گی۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل لین دین سے شفافیت، مالی تحفظ اور عوام کو سہولت ملے گی۔</p>
<p>مزید برآں قانون کے آغاز سے دو سال تک کسی بھی پہلے سے غیر دستاویزی کاروبار کی جانب سے اس ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کیو آر کوڈ کے ذریعے موصول ہونے والی ڈیجیٹل ادائیگیاں کسی نئے ڈائریکٹ سیلز ٹیکس کے نفاذ کی بنیاد نہیں بنیں گی، تاکہ کاروباروں کی دستاویز بندی کی حوصلہ افزائی ہو۔</p>
<p>تاہم  ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے سے انکار کرنا یا اس پر اضافی چارج لگانا قانون کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔ اس قانون سازی کا مقصد مالی شمولیت کو فروغ دینا، نقد رقم پر انحصار کم کرنا اور صوبائی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔</p>
<p>وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ صارف اور کاروباری افراد کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے مضبوط اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ پورا ڈیجیٹل ٹرانزیکشن نظام عالمی معیار کے مطابق ہوگا۔</p>
<p>عوام کی سہولت کے لیے حکومت مارکیٹوں اور تجارتی مراکز میں پبلک وائی فائی اور دیگر ڈیجیٹل خدمات بھی فراہم کرے گی۔</p>
<p>اس کے علاوہ حکومت مالی اور ڈیجیٹل تعلیم کو نصابِ تعلیم میں شامل کرے گی جبکہ قانون کے موثر نفاذ، تربیت اور کاروباری برادری کی آسان شمولیت کے لیے ضلعی سطح کے طریقہ کار کو مضبوط بنایا جائے گا۔</p>
<p>وزیرِ اعلیٰ کے پی نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا پاکستان کی پہلی کیش لیس ماڈل معیشت بننے کے لیے تیار ہے، جو وفاقی حکومت اور دیگر صوبوں کے لیے ایک نمونہ ثابت ہوگی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جدید ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام وقت کی ضرورت ہے اور اس کا نفاذ نہ صرف شہریوں اور کاروباروں کے لیے سہولت پیدا کرے گا بلکہ مجموعی طرزِ حکمرانی بہتر بنانے میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے کرپشن کے مواقع کم ہوں گے، ریونیو کلیکشن مستحکم ہوگی، ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی کو تقویت ملے گی، ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور سب سے بڑھ کر عوام کا اعتماد سرکاری اداروں پر مضبوط ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279667</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Nov 2025 12:17:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/2312071802b9bc7.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/2312071802b9bc7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
