<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>4.4 کھرب روپے کے نقصانات کے باعث افغان سرحد بند کرنے کا فیصلہ کیا، حکام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279657/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;11 اکتوبر کو پاکستان کی افغان سرحد کی بندش کا فیصلہ بھاری معاشی نقصانات کے باعث کیا گیا، جن میں اسمگلنگ سے سالانہ 3.4 کھرب روپے سے زائد اور افغان ٹرانزٹ گڈز کی غیرقانونی واپسی سے تقریباً ایک کھرب روپے کا نقصان شامل ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کسی سیاسی کشیدگی کا ردعمل نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا، طویل المدتی منصوبہ ہے جس کا مقصد اس غیرقانونی تجارتی نیٹ ورک کو ختم کرنا ہے جو طویل عرصے سے منشیات کی اسمگلنگ، غیرقانونی اسلحے کی ترسیل اور شدت پسند عناصر کی دراندازی سے منسلک رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق صرف انہی راستوں کو بند کیا گیا ہے جو اسمگلنگ، منشیات کی ترسیل اور سرحد پار دہشت گردی کے بڑے مراکز بن چکے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے قومی سلامتی مضبوط ہوگی، معاشی خودمختاری کو تقویت ملے گی اور اہم تجارتی راستوں پر ریاست کا کنٹرول بحال ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پاکستان پر اس اقدام کے نمایاں اثرات مرتب نہیں ہوئے، مگر افغانستان کو شدید معاشی نقصان کا سامنا ہے۔ سرحدی بندش کے باعث افغانستان کو اب تک 200 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے، جس میں صرف طورخم کے راستے ایک ماہ میں 45 ملین ڈالر کا خسارہ شامل ہے۔ پانچ ہزار سے زائد ٹرک سرحد پر پھنسے رہے جبکہ افغان پھل اور موسمی اجناس پاکستانی منڈیوں تک نہ پہنچنے کے باعث ضائع ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقل و حمل کے دورانیے میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جو سامان کراچی کے ذریعے تین سے چار دن میں افغانستان پہنچ جاتا تھا، اب وہ ایران کے راستے چھ سے آٹھ دن اور وسطی ایشیائی راستوں سے تیس دن سے زائد میں پہنچ رہا ہے۔ ایران کے ذریعے ترسیل کی لاگت میں 50 سے 60 فیصد اضافہ ہوا ہے اور فی کنٹینر تقریباً 2500 ڈالر اضافی خرچ آ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بحران نے افغانستان کے پاکستان پر بھاری انحصار کو بھی بے نقاب کر دیا ہے، جہاں اس کی 70 سے 80 فیصد تجارت پاکستانی بندرگاہوں اور شاہراہوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ افغانستان کی نصف سے زائد ادویات بھی پاکستان کے راستے جاتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کی کمزور معیشت متبادل راستوں کے بڑھتے اخراجات، تاخیر اور خطرات کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کے اندر اس کی سماجی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ اسمگلنگ کے خاتمے کے بعد غیرقانونی تجارت، بیک فلو اور کم انوائسنگ سے وابستہ دو لاکھ سے زائد افراد کے روزگار ختم ہو گئے ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان نیٹ ورکس کے خاتمے سے طویل مدت میں غیرقانونی اسلحے، منشیات اور شدت پسندوں کی مالی معاونت پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس پاکستان میں روزمرہ زندگی پر اس فیصلے کا تقریباً کوئی اثر نہیں پڑا کیونکہ اسمگل شدہ افغان مصنوعات زیادہ تر لگژری اشیا تھیں نہ کہ ضروری سامان۔ سی پیک اور چین کے ساتھ براہ راست زمینی روابط برقرار رہنے کے باعث ضروری سپلائی چین میں کسی خلل کا امکان نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ آئندہ پانچ سے دس سال میں پاکستان کو اس فیصلے کے ثمرات ملنا شروع ہوں گے جن میں بہتر سرحدی سلامتی، معاشی رساؤ میں کمی اور زیادہ منظم سرحد پار تجارت شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کو بھی اپنی تجارت کو مشرقی صوبوں سے آگے بڑھا کر ایران اور وسطی ایشیا کی جانب متنوع بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کی قیادت کے سامنے اب ایک اہم فیصلہ ہے کہ وہ یا تو شدت پسند گروہوں کو جگہ دیتی رہے یا پاکستان کے ساتھ مل کر استحکام اور مشترکہ معاشی ترقی کی راہ اختیار کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>11 اکتوبر کو پاکستان کی افغان سرحد کی بندش کا فیصلہ بھاری معاشی نقصانات کے باعث کیا گیا، جن میں اسمگلنگ سے سالانہ 3.4 کھرب روپے سے زائد اور افغان ٹرانزٹ گڈز کی غیرقانونی واپسی سے تقریباً ایک کھرب روپے کا نقصان شامل ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کسی سیاسی کشیدگی کا ردعمل نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا، طویل المدتی منصوبہ ہے جس کا مقصد اس غیرقانونی تجارتی نیٹ ورک کو ختم کرنا ہے جو طویل عرصے سے منشیات کی اسمگلنگ، غیرقانونی اسلحے کی ترسیل اور شدت پسند عناصر کی دراندازی سے منسلک رہا ہے۔</strong></p>
<p>حکام کے مطابق صرف انہی راستوں کو بند کیا گیا ہے جو اسمگلنگ، منشیات کی ترسیل اور سرحد پار دہشت گردی کے بڑے مراکز بن چکے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے قومی سلامتی مضبوط ہوگی، معاشی خودمختاری کو تقویت ملے گی اور اہم تجارتی راستوں پر ریاست کا کنٹرول بحال ہوگا۔</p>
<p>اگرچہ پاکستان پر اس اقدام کے نمایاں اثرات مرتب نہیں ہوئے، مگر افغانستان کو شدید معاشی نقصان کا سامنا ہے۔ سرحدی بندش کے باعث افغانستان کو اب تک 200 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے، جس میں صرف طورخم کے راستے ایک ماہ میں 45 ملین ڈالر کا خسارہ شامل ہے۔ پانچ ہزار سے زائد ٹرک سرحد پر پھنسے رہے جبکہ افغان پھل اور موسمی اجناس پاکستانی منڈیوں تک نہ پہنچنے کے باعث ضائع ہو گئیں۔</p>
<p>نقل و حمل کے دورانیے میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جو سامان کراچی کے ذریعے تین سے چار دن میں افغانستان پہنچ جاتا تھا، اب وہ ایران کے راستے چھ سے آٹھ دن اور وسطی ایشیائی راستوں سے تیس دن سے زائد میں پہنچ رہا ہے۔ ایران کے ذریعے ترسیل کی لاگت میں 50 سے 60 فیصد اضافہ ہوا ہے اور فی کنٹینر تقریباً 2500 ڈالر اضافی خرچ آ رہا ہے۔</p>
<p>اس بحران نے افغانستان کے پاکستان پر بھاری انحصار کو بھی بے نقاب کر دیا ہے، جہاں اس کی 70 سے 80 فیصد تجارت پاکستانی بندرگاہوں اور شاہراہوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ افغانستان کی نصف سے زائد ادویات بھی پاکستان کے راستے جاتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کی کمزور معیشت متبادل راستوں کے بڑھتے اخراجات، تاخیر اور خطرات کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔</p>
<p>افغانستان کے اندر اس کی سماجی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ اسمگلنگ کے خاتمے کے بعد غیرقانونی تجارت، بیک فلو اور کم انوائسنگ سے وابستہ دو لاکھ سے زائد افراد کے روزگار ختم ہو گئے ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان نیٹ ورکس کے خاتمے سے طویل مدت میں غیرقانونی اسلحے، منشیات اور شدت پسندوں کی مالی معاونت پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>اس کے برعکس پاکستان میں روزمرہ زندگی پر اس فیصلے کا تقریباً کوئی اثر نہیں پڑا کیونکہ اسمگل شدہ افغان مصنوعات زیادہ تر لگژری اشیا تھیں نہ کہ ضروری سامان۔ سی پیک اور چین کے ساتھ براہ راست زمینی روابط برقرار رہنے کے باعث ضروری سپلائی چین میں کسی خلل کا امکان نہیں۔</p>
<p>پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ آئندہ پانچ سے دس سال میں پاکستان کو اس فیصلے کے ثمرات ملنا شروع ہوں گے جن میں بہتر سرحدی سلامتی، معاشی رساؤ میں کمی اور زیادہ منظم سرحد پار تجارت شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کو بھی اپنی تجارت کو مشرقی صوبوں سے آگے بڑھا کر ایران اور وسطی ایشیا کی جانب متنوع بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کی قیادت کے سامنے اب ایک اہم فیصلہ ہے کہ وہ یا تو شدت پسند گروہوں کو جگہ دیتی رہے یا پاکستان کے ساتھ مل کر استحکام اور مشترکہ معاشی ترقی کی راہ اختیار کرے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279657</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Nov 2025 10:21:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نزہت نذر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/23102031855b8e7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/23102031855b8e7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
