<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:10:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:10:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغان ٹرانزٹ ٹریڈ نظام، تمام کنٹینرز کی این آئی آئی اسکیننگ لازمی قرار، ایف بی آر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279655/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ (اے ٹی ٹی) کے تحت آنے والے تمام کنٹینرز کو نان انٹروسیو انسپیکشن (این آئی آئی) نظام کے ذریعے اسکین اور جانچنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایف بی آر نے کسٹمز کی فیلڈ فارمیشنز کو ہدایات جاری کر دی ہیں، جن کے تحت ٹرمینلز پر درآمدی اور برآمدی کنٹینرز میں سے 30 فیصد کو لازمی طور پر این آئی آئی سہولت کے تحت منتخب کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے این آئی آئی پروٹوکول کی منظوری اور نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس نظام کا نفاذ مرحلہ وار ہوگا اور یہ طریقہ کار  بغیر کنٹینرز والے کارگو پر بھی لاگو کیا جائے گا۔ این آئی آئی کے تحت کارگو کا معائنہ ایکس رے یا گاما رے اسکیننگ ٹیکنالوجی کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس سے کنٹینر کو کھولے بغیر اس کے اندر موجود سامان کی جانچ ممکن ہوتی ہے اور کنٹینر کی سیکیورٹی متاثر نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ گرین چینل کے تحت آنے والی  چھوتی تعداد میں کلیئر ہونے والی کھیپوں کو بھی بطور ڈیٹرنس چیک کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے مطابق این آئی آئی اسکینرز کے استعمال کے لیے ایک شفاف، واضح اور بین الاقوامی معیار کے مطابق اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر مرتب کیا گیا ہے، جس کا مقصد تجارتی سہولت کو فروغ دینا، سامان کے رکنے کے وقت میں کمی، ریونیو کی بہتر وصولی اور سرحدی سکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ نظام کسٹمز رسک مینجمنٹ سسٹم اور آڈٹ طریقہ کار سے مربوط رہے گا اور ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن کے سیف فریم ورک معیارات سے ہم آہنگ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت تمام کنٹینرز کو داخلے اور اخراج کے مقامات پر سو فیصد این آئی آئی اسکیننگ سے گزارا جائے گا تاکہ سپلائی چین کی حفاظت اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ داخلے اور اخراج کے مقامات پر حاصل کی جانے والی تصاویر کا باہمی موازنہ لازم ہوگا، ترجیحاً یہ عمل اے آئی سے لیس الگورتھم کے ذریعے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمینل آپریٹر یا سروس فراہم کرنے والے ادارے کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ این آئی آئی آلات 98 فیصد اپ ٹائم کے ساتھ کام کریں اور مقررہ تکنیکی معیار، بشمول اسٹیل میں کم از کم 340 ملی میٹر تک نفوذ کی صلاحیت، پر پورا اتریں۔ تمام این آئی آئی تصاویر کو انکرپٹ کر کے ریئل ٹائم میں سینٹرل امیج ریپوزٹری کو منتقل کیا جائے گا تاکہ مقامی سطح پر کسی بھی قسم کی ترمیم یا ڈیلیٹ ہونے کا خدشہ نہ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارگو کے انتخاب کے لیے رسک مینجمنٹ سسٹم کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا، جبکہ کمیٹی کارگو کی درجہ بندی کے لیے مرحلہ وار نظام بھی متعارف کرا سکتی ہے۔ ٹرانس شپمنٹ کارگو کی اسکیننگ بھی مخصوص انٹیلیجنس اور رسک تجزیے کی بنیاد پر کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکین شدہ تصاویر کو بنیادی طور پر تاجر کی جانب سے جمع کرائی گئی گڈز ڈیکلریشن سے موازنہ کرنے، ممنوعہ یا خطرناک اشیا جیسے اسلحہ، منشیات اور تابکار مواد کی نشاندہی اور دورانِ سفر سامان کی چوری کی روک تھام کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاکہ ملکی سپلائی چین کو محفوظ بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ (اے ٹی ٹی) کے تحت آنے والے تمام کنٹینرز کو نان انٹروسیو انسپیکشن (این آئی آئی) نظام کے ذریعے اسکین اور جانچنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایف بی آر نے کسٹمز کی فیلڈ فارمیشنز کو ہدایات جاری کر دی ہیں، جن کے تحت ٹرمینلز پر درآمدی اور برآمدی کنٹینرز میں سے 30 فیصد کو لازمی طور پر این آئی آئی سہولت کے تحت منتخب کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>ایف بی آر نے این آئی آئی پروٹوکول کی منظوری اور نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس نظام کا نفاذ مرحلہ وار ہوگا اور یہ طریقہ کار  بغیر کنٹینرز والے کارگو پر بھی لاگو کیا جائے گا۔ این آئی آئی کے تحت کارگو کا معائنہ ایکس رے یا گاما رے اسکیننگ ٹیکنالوجی کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس سے کنٹینر کو کھولے بغیر اس کے اندر موجود سامان کی جانچ ممکن ہوتی ہے اور کنٹینر کی سیکیورٹی متاثر نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ گرین چینل کے تحت آنے والی  چھوتی تعداد میں کلیئر ہونے والی کھیپوں کو بھی بطور ڈیٹرنس چیک کیا جائے گا۔</p>
<p>ایف بی آر کے مطابق این آئی آئی اسکینرز کے استعمال کے لیے ایک شفاف، واضح اور بین الاقوامی معیار کے مطابق اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر مرتب کیا گیا ہے، جس کا مقصد تجارتی سہولت کو فروغ دینا، سامان کے رکنے کے وقت میں کمی، ریونیو کی بہتر وصولی اور سرحدی سکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ نظام کسٹمز رسک مینجمنٹ سسٹم اور آڈٹ طریقہ کار سے مربوط رہے گا اور ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن کے سیف فریم ورک معیارات سے ہم آہنگ ہوگا۔</p>
<p>افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت تمام کنٹینرز کو داخلے اور اخراج کے مقامات پر سو فیصد این آئی آئی اسکیننگ سے گزارا جائے گا تاکہ سپلائی چین کی حفاظت اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ داخلے اور اخراج کے مقامات پر حاصل کی جانے والی تصاویر کا باہمی موازنہ لازم ہوگا، ترجیحاً یہ عمل اے آئی سے لیس الگورتھم کے ذریعے کیا جائے گا۔</p>
<p>ٹرمینل آپریٹر یا سروس فراہم کرنے والے ادارے کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ این آئی آئی آلات 98 فیصد اپ ٹائم کے ساتھ کام کریں اور مقررہ تکنیکی معیار، بشمول اسٹیل میں کم از کم 340 ملی میٹر تک نفوذ کی صلاحیت، پر پورا اتریں۔ تمام این آئی آئی تصاویر کو انکرپٹ کر کے ریئل ٹائم میں سینٹرل امیج ریپوزٹری کو منتقل کیا جائے گا تاکہ مقامی سطح پر کسی بھی قسم کی ترمیم یا ڈیلیٹ ہونے کا خدشہ نہ رہے۔</p>
<p>کارگو کے انتخاب کے لیے رسک مینجمنٹ سسٹم کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا، جبکہ کمیٹی کارگو کی درجہ بندی کے لیے مرحلہ وار نظام بھی متعارف کرا سکتی ہے۔ ٹرانس شپمنٹ کارگو کی اسکیننگ بھی مخصوص انٹیلیجنس اور رسک تجزیے کی بنیاد پر کی جائے گی۔</p>
<p>اسکین شدہ تصاویر کو بنیادی طور پر تاجر کی جانب سے جمع کرائی گئی گڈز ڈیکلریشن سے موازنہ کرنے، ممنوعہ یا خطرناک اشیا جیسے اسلحہ، منشیات اور تابکار مواد کی نشاندہی اور دورانِ سفر سامان کی چوری کی روک تھام کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاکہ ملکی سپلائی چین کو محفوظ بنایا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279655</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Nov 2025 09:43:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/230942174bddb7a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/230942174bddb7a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
