<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 11:08:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 11:08:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ممکنہ پوٹن ٹرمپ سربراہی ملاقات ایجنڈے میں شامل ہے، روسی نائب وزیر خارجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279649/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک سینئر روسی سفارتکار کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اور ملاقات کا امکان ایجنڈے میں موجود ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرگئی ریابکوف نائب وزیرِ خارجہ نے &lt;strong&gt;اسٹیٹ اونڈ انٹرنیشنل افیئرز میگزین&lt;/strong&gt; کو شائع شدہ ہفتہ کے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ “میں کسی بھی امکان کو رد نہیں کروں گا۔ آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریابکوف کے مطابق روس اور امریکہ کے درمیان رابطے منقطع نہیں ہوئے اور بات چیت کے ذرائع بدستور کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوٹن اور ٹرمپ کی آخری ملاقات اگست میں الاسکا میں ہوئی تھی، تاہم وہ ماسکو کی یوکرین میں جنگ کو روکنے یا کم کرنے کے کسی سمجھوتے پر منتج نہ ہو سکی۔ بعد ازاں بوڈاپیسٹ میں ایک ملاقات کا منصوبہ بنایا گیا تھا، مگر وہ تاحال غیرمعینہ مدت کے لیے معطل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریابکوف نے کہا کہ ہم مسلسل بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس مضبوط اور منظم فارمیٹس اور چینلز موجود ہیں۔ ان میں سے سب نظر آتے ہیں نہ سنائی دیتے ہیں، اور نہ ہی سب کا عوامی سطح پر ذکر ضروری ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ مؤثر طریقے سے چل رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریابکوف کے مطابق &lt;strong&gt;روس اور امریکا کے درمیان مکالمہ قائم کرنے میں ہونے والی پیش رفت قابلِ ذکر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے چین اور امریکا کے ساتھ &lt;strong&gt;تین رکنی جوہری استحکام کے مذاکرات&lt;/strong&gt; کے امکان پر بھی بات کی اور کہا کہ ماسکو کا بیجنگ پر اس حوالے سے دباؤ ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ہتھیاروں کے کنٹرول اور تزویراتی استحکام کے معاملے پر چین سے کوئی سوال نہیں ہے۔
&lt;br&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا کی جانب سے اس طرح کے کسی اجلاس کے لیے روس کو کوئی باضابطہ تجویز موصول نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق امریکی صدر ٹرمپ اس بات میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں کہ چین کو بھی روس اور امریکا کے ساتھ &lt;strong&gt;جوہری ہتھیاروں میں کمی&lt;/strong&gt; کے عمل میں شامل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ ان کا کہنا تھا کہ پوٹن نے دوطرفہ جوہری کشیدگی میں کمی کے امکان کا ذکر کیا ہے اور چین کو بھی اس کوشش کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک سینئر روسی سفارتکار کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اور ملاقات کا امکان ایجنڈے میں موجود ہے۔</strong></p>
<p>سرگئی ریابکوف نائب وزیرِ خارجہ نے <strong>اسٹیٹ اونڈ انٹرنیشنل افیئرز میگزین</strong> کو شائع شدہ ہفتہ کے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ “میں کسی بھی امکان کو رد نہیں کروں گا۔ آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے۔”</p>
<p>ریابکوف کے مطابق روس اور امریکہ کے درمیان رابطے منقطع نہیں ہوئے اور بات چیت کے ذرائع بدستور کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>پوٹن اور ٹرمپ کی آخری ملاقات اگست میں الاسکا میں ہوئی تھی، تاہم وہ ماسکو کی یوکرین میں جنگ کو روکنے یا کم کرنے کے کسی سمجھوتے پر منتج نہ ہو سکی۔ بعد ازاں بوڈاپیسٹ میں ایک ملاقات کا منصوبہ بنایا گیا تھا، مگر وہ تاحال غیرمعینہ مدت کے لیے معطل ہے۔</p>
<p>ریابکوف نے کہا کہ ہم مسلسل بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس مضبوط اور منظم فارمیٹس اور چینلز موجود ہیں۔ ان میں سے سب نظر آتے ہیں نہ سنائی دیتے ہیں، اور نہ ہی سب کا عوامی سطح پر ذکر ضروری ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ مؤثر طریقے سے چل رہا ہے۔</p>
<p>ریابکوف کے مطابق <strong>روس اور امریکا کے درمیان مکالمہ قائم کرنے میں ہونے والی پیش رفت قابلِ ذکر ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے چین اور امریکا کے ساتھ <strong>تین رکنی جوہری استحکام کے مذاکرات</strong> کے امکان پر بھی بات کی اور کہا کہ ماسکو کا بیجنگ پر اس حوالے سے دباؤ ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ہتھیاروں کے کنٹرول اور تزویراتی استحکام کے معاملے پر چین سے کوئی سوال نہیں ہے۔
<br>انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا کی جانب سے اس طرح کے کسی اجلاس کے لیے روس کو کوئی باضابطہ تجویز موصول نہیں ہوئی۔</p>
<p>سابق امریکی صدر ٹرمپ اس بات میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں کہ چین کو بھی روس اور امریکا کے ساتھ <strong>جوہری ہتھیاروں میں کمی</strong> کے عمل میں شامل کیا جائے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ ان کا کہنا تھا کہ پوٹن نے دوطرفہ جوہری کشیدگی میں کمی کے امکان کا ذکر کیا ہے اور چین کو بھی اس کوشش کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279649</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Nov 2025 21:24:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/222048460b27201.webp" type="image/webp" medium="image" height="330" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/222048460b27201.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
