<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عدم فعالیت اور بدانتظامی کا سنگین خمیازہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279646/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئی ایم ایف نے انکشاف کیا ہے کہ اگر پاکستان ریاستی حکمرانی کے ڈھانچے میں موجود خامیاں، کمزوریاں اور اس کے استحصال کو درست کر لے تو آئندہ پانچ برسوں میں اپنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 5 سے 6.5 فیصد تک اضافہ کر سکتا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی موقع ہے، ایسی قیمت جو پاکستان نے برس ہا برس ادا کی ہے، مگر اس نقصان کی اصل شدت اور اس کے اثرات کو پوری طرح تسلیم نہیں کیا گیا؛ خاص طور پر ان شہریوں پر پڑنے والا بوجھ جو پہلے ہی گزر بسر کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt; اس کا مطلب ہے کہ اگر ریاست اپنی ہی پیدا کردہ خرابیاں ٹھیک کر لے تو &lt;strong&gt;لاکھوں افراد کو غربت سے نکالا جا سکتا ہے&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی حال ہی میں جاری کردہ &lt;strong&gt;گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک اسیسمنٹ (جی سی ڈی اے)&lt;/strong&gt; کسی ایک فرد کی لغزش یا چند الگ تھلگ اسکینڈلز پر توجہ نہیں دیتی بلکہ مسئلے کی جڑ پر ضرب لگاتی ہے، اور اس جڑ کو وہ یوں بیان کرتی ہے: ریاستی اداروں میں &lt;strong&gt;گہری جڑی ہوئی نظامی کمزوریاں&lt;/strong&gt; جو غلط طرز حکمرانی کو مسلسل بڑھاتی اور مضبوط کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رپورٹ، جو طویل عرصے سے التوا کا شکار رہی اور اب بالآخر آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے &lt;strong&gt;1.2 ارب ڈالر&lt;/strong&gt; کی متوقع قسط کی پیشگی شرط کے طور پر جاری کی گئی ہے،گزشتہ کئی برسوں میں پاکستان کے حکمرانی کے ڈھانچے پر سب سے صاف، کھری اور بے لاگ بیرونی رائے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اگرچہ اس کی بہت سی باتیں ایک ایسی قوم کے لیے نئی نہیں جو دہائیوں کی بدانتظامی سے تھک چکی ہے، لیکن جو چیز خاص طور پر نمایاں ہے وہ ہے اس کا &lt;strong&gt;واضح اقتصادی اخراجات کا تخمینہ&lt;/strong&gt;: پاکستان صرف حکمرانی کے ڈھانچے، نظام اور طریقہ کار کو درست کر کے &lt;strong&gt;پانچ برسوں میں اپنی جی ڈی پی میں 5 سے 6.5 فیصد تک اضافہ کر سکتا ہے&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&amp;gt;آئی ایم ایف پاکستان میں غلط طرز حکمرانی کو ایک &lt;strong&gt;نظامی مسئلہ&lt;/strong&gt; کے طور پر دیکھتا ہے، جو صرف کمزور نفاذ تک محدود نہیں بلکہ ان قوانین، استثناؤں اور صوابدید میں بھی گہری جڑیں رکھتا ہے جو ریاست کے کام کو تشکیل دیتے ہیں۔ حکومتی خریداری میں ترجیحی سلوک سے لے کر فیصلہ سازی کے غیر شفاف ڈھانچے تک، اصل مسئلہ انفرادی غلطیوں کا نہیں بلکہ ایک &lt;strong&gt;ٹوٹ پھوٹ اور بکھرا ہوا حکمرانی نظام&lt;/strong&gt; ہے جو غیر شفافیت کو جنم دیتا اور جوابدہی کو کمزور کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی سی ڈی اے رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ &lt;strong&gt;حکومتی خریداری میں استثنائی رعایتیں، ایس آر  او  کی بنیاد پر حاصل شدہ مراعات، اور “خصوصی کیس” کے معاہدے&lt;/strong&gt; مسابقتی بولی کے عمل کو کھوکھلا کر رہے ہیں، اور ایسے نظام میں &lt;strong&gt;صلاحیت کے بجائے تعلقات کو فوقیت ملتی ہے&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا میں جی سی ڈی اے پر کافی بات ہو رہی ہے، مگر اکثر &lt;strong&gt;متضاد تشریحات اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ&lt;/strong&gt; کے ساتھ۔ معمول کے مطابق، کچھ عرصے بعد یہ موضوع عوامی توجہ سے باہر ہو جائے گا—بس ایک اور آئی ایم ایف رپورٹ کی طرح۔ معاشرے کے اعلیٰ اور ادنیٰ طبقے میں عام رائے یہی ہے کہ &lt;strong&gt;“پاکستان میں کچھ نہیں بدلے گا”&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی سی ڈی اے کے عملی نتائج اس بات پر منحصر ہیں کہ آئی ایم ایف &lt;strong&gt;اس مقصد کے لیے کس حد تک سنجیدہ ہے اور اسے مکمل انجام تک لے جاتا ہے&lt;/strong&gt;۔ بظاہر، جی سی ڈی اے عام رپورٹوں سے کہیں آگے دیکھ رہی ہے، اور آئی ایم ایف واقعی &lt;strong&gt;خرابی دور کرنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے&lt;/strong&gt;۔ اس نے فنڈنگ کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے ایک &lt;strong&gt;روڈ میپ&lt;/strong&gt; بھی ترتیب دیا ہے، جس کی تصدیق اگلی قسط میں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی یہ رائے کہ مضبوط طرز حکمرانی سالانہ جی ڈی پی کی شرح نمو میں &lt;strong&gt;ایک فیصد یا اس سے زائد اضافہ&lt;/strong&gt; کر سکتی ہے، انتہائی اہم ہے، کیونکہ غلط طرز حکمرانی صرف اخلاقی ناکامی نہیں بلکہ &lt;strong&gt;معاشی ناکامی&lt;/strong&gt; بھی ہے۔ یہ کاروبار کی لاگت بڑھاتی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو روکتی ہے، عوامی خدمات کی فراہمی پر اثر ڈالتی ہے اور مالی خسارہ بڑھاتی ہے۔ مختصر یہ کہ &lt;strong&gt;غلط طرز حکمرانی معیشت پر وہ اثر ڈالتی ہے جو کسی بھی مالی پابندی سے کہیں زیادہ ہے&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سب اثرات زندگی میں واضح نظر آتے ہیں: غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی، ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک چھوڑ رہی ہیں، اور بڑے صنعتی ادارے بقا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی سی ڈی اے کی ایک سب سے اہم سفارش یہ ہے کہ &lt;strong&gt;انتظامی اختیارات کو محدود کیا جائے جب تک کہ مضبوط پارلیمانی نگرانی موجود نہ ہو&lt;/strong&gt;۔ تاہم پاکستان کی قانون ساز اسمبلی عوامی اخراجات کی جانچ میں زیادہ تر غیر فعال ہے، اور پارلیمانی کمیٹیاں اکثر &lt;strong&gt;اہلیت یا آزادی سے محروم&lt;/strong&gt; ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ انتظامیہ کو چیلنج نہیں کر سکتیں۔ آئی ایم ایف دراصل پاکستان سے یہ کہہ رہا ہے: &lt;strong&gt;“آپ ریاستی طرز حکمرانی کو پارلیمنٹ کے کردار کو بہتر بنائے بغیر درست نہیں کر سکتے”&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا &lt;strong&gt;بدعنوانی سے نمٹنے والا نظام&lt;/strong&gt; وسیع ہے، ایف آئی اے ،قومی احتساب بیور، صوبائی اینٹی کرپشن ڈائریکٹوریٹس، محتسب اعلیٰ، مگر یہ نظام کسی طور مربوط نہیں۔ ادارے الگ تھلگ کام کرتے ہیں، اکثر ایک دوسرے کا کام دہراتے ہیں، اور زیادہ تر &lt;strong&gt;افراد کو نشانہ بناتے ہیں بجائے نظامی بدعنوانی کی جانچ کے&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو زیادہ اداروں کی نہیں بلکہ &lt;strong&gt;قابل اعتماد، آزاد اور پیش گوئی کے قابل احتسابی نظام&lt;/strong&gt; کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ &lt;strong&gt;مینڈیٹ واضح ہو، سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہو اور عمل و نتائج میں شفافیت موجود ہو&lt;/strong&gt;۔ پاکستان میں حکمرانی کی اصلاحات عام طور پر تین وجوہات کی وجہ سے ناکام ہو جاتی ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;ol&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;مفاد پرست عناصر کی مزاحمت&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;مفاد پرست عناصر کے زیر اثر قواعد و ضوابط ( ریگولیٹری کیپچر)&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;سیاسی تسلسل کا فقدان&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ol&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کا &lt;strong&gt;15 نکاتی ایجنڈا،&lt;/strong&gt; جس میں خریداری، ٹیکس، ریاستی اداروں کی اصلاحات، اثاثوں کا اعلان اور عدالتی عمل شامل ہیں، صرف تکنیکی اصلاحات کا متقاضی نہیں بلکہ &lt;strong&gt;سیاسی اتفاق رائے&lt;/strong&gt; بھی درکار ہے، جو پاکستان میں شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی حکمرانی کو &lt;strong&gt;ری سیٹ&lt;/strong&gt; کرے، اور یہ اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ پاکستان کو فوری طور پر بیرونی مالی مدد درکار ہے، آئی ایم ایف حکمرانی میں نتائج چاہتا ہے، اور عوام ایسے نظام سے ریلیف چاہتے ہیں جو اب خدمات فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ &lt;strong&gt;غلط حکمرانی کی قیمت اب نظر انداز کرنے کے لیے بہت زیادہ ہے&lt;/strong&gt;۔ کمزور ادارے براہِ راست پاکستان کی اقتصادی جمود، بڑھتی ہوئی مہنگائی، اور مسلسل مالیاتی بحرانوں میں کردار ادا کر چکے ہیں۔ اصلاحات اب صرف آئی ایم ایف کے باکس کو ٹک کرنے کے لیے نہیں بلکہ &lt;strong&gt;قومی بقا&lt;/strong&gt; کے لیے ضروری ہیں۔ پاکستان کو &lt;strong&gt;ظاہری اصلاحات سے آگے بڑھ کر ساختی تبدیلیاں&lt;/strong&gt; اپنانا ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئی ایم ایف نے انکشاف کیا ہے کہ اگر پاکستان ریاستی حکمرانی کے ڈھانچے میں موجود خامیاں، کمزوریاں اور اس کے استحصال کو درست کر لے تو آئندہ پانچ برسوں میں اپنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 5 سے 6.5 فیصد تک اضافہ کر سکتا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی موقع ہے، ایسی قیمت جو پاکستان نے برس ہا برس ادا کی ہے، مگر اس نقصان کی اصل شدت اور اس کے اثرات کو پوری طرح تسلیم نہیں کیا گیا؛ خاص طور پر ان شہریوں پر پڑنے والا بوجھ جو پہلے ہی گزر بسر کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔</strong> اس کا مطلب ہے کہ اگر ریاست اپنی ہی پیدا کردہ خرابیاں ٹھیک کر لے تو <strong>لاکھوں افراد کو غربت سے نکالا جا سکتا ہے</strong>۔</p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی حال ہی میں جاری کردہ <strong>گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک اسیسمنٹ (جی سی ڈی اے)</strong> کسی ایک فرد کی لغزش یا چند الگ تھلگ اسکینڈلز پر توجہ نہیں دیتی بلکہ مسئلے کی جڑ پر ضرب لگاتی ہے، اور اس جڑ کو وہ یوں بیان کرتی ہے: ریاستی اداروں میں <strong>گہری جڑی ہوئی نظامی کمزوریاں</strong> جو غلط طرز حکمرانی کو مسلسل بڑھاتی اور مضبوط کرتی ہیں۔</p>
<p>یہ رپورٹ، جو طویل عرصے سے التوا کا شکار رہی اور اب بالآخر آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے <strong>1.2 ارب ڈالر</strong> کی متوقع قسط کی پیشگی شرط کے طور پر جاری کی گئی ہے،گزشتہ کئی برسوں میں پاکستان کے حکمرانی کے ڈھانچے پر سب سے صاف، کھری اور بے لاگ بیرونی رائے ہے۔</p>
<p>اور اگرچہ اس کی بہت سی باتیں ایک ایسی قوم کے لیے نئی نہیں جو دہائیوں کی بدانتظامی سے تھک چکی ہے، لیکن جو چیز خاص طور پر نمایاں ہے وہ ہے اس کا <strong>واضح اقتصادی اخراجات کا تخمینہ</strong>: پاکستان صرف حکمرانی کے ڈھانچے، نظام اور طریقہ کار کو درست کر کے <strong>پانچ برسوں میں اپنی جی ڈی پی میں 5 سے 6.5 فیصد تک اضافہ کر سکتا ہے</strong>۔</p>
<p>&gt;آئی ایم ایف پاکستان میں غلط طرز حکمرانی کو ایک <strong>نظامی مسئلہ</strong> کے طور پر دیکھتا ہے، جو صرف کمزور نفاذ تک محدود نہیں بلکہ ان قوانین، استثناؤں اور صوابدید میں بھی گہری جڑیں رکھتا ہے جو ریاست کے کام کو تشکیل دیتے ہیں۔ حکومتی خریداری میں ترجیحی سلوک سے لے کر فیصلہ سازی کے غیر شفاف ڈھانچے تک، اصل مسئلہ انفرادی غلطیوں کا نہیں بلکہ ایک <strong>ٹوٹ پھوٹ اور بکھرا ہوا حکمرانی نظام</strong> ہے جو غیر شفافیت کو جنم دیتا اور جوابدہی کو کمزور کرتا ہے۔</p>
<p>جی سی ڈی اے رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ <strong>حکومتی خریداری میں استثنائی رعایتیں، ایس آر  او  کی بنیاد پر حاصل شدہ مراعات، اور “خصوصی کیس” کے معاہدے</strong> مسابقتی بولی کے عمل کو کھوکھلا کر رہے ہیں، اور ایسے نظام میں <strong>صلاحیت کے بجائے تعلقات کو فوقیت ملتی ہے</strong>۔</p>
<p>میڈیا میں جی سی ڈی اے پر کافی بات ہو رہی ہے، مگر اکثر <strong>متضاد تشریحات اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ</strong> کے ساتھ۔ معمول کے مطابق، کچھ عرصے بعد یہ موضوع عوامی توجہ سے باہر ہو جائے گا—بس ایک اور آئی ایم ایف رپورٹ کی طرح۔ معاشرے کے اعلیٰ اور ادنیٰ طبقے میں عام رائے یہی ہے کہ <strong>“پاکستان میں کچھ نہیں بدلے گا”</strong>۔</p>
<p>جی سی ڈی اے کے عملی نتائج اس بات پر منحصر ہیں کہ آئی ایم ایف <strong>اس مقصد کے لیے کس حد تک سنجیدہ ہے اور اسے مکمل انجام تک لے جاتا ہے</strong>۔ بظاہر، جی سی ڈی اے عام رپورٹوں سے کہیں آگے دیکھ رہی ہے، اور آئی ایم ایف واقعی <strong>خرابی دور کرنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے</strong>۔ اس نے فنڈنگ کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے ایک <strong>روڈ میپ</strong> بھی ترتیب دیا ہے، جس کی تصدیق اگلی قسط میں کی جائے گی۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی یہ رائے کہ مضبوط طرز حکمرانی سالانہ جی ڈی پی کی شرح نمو میں <strong>ایک فیصد یا اس سے زائد اضافہ</strong> کر سکتی ہے، انتہائی اہم ہے، کیونکہ غلط طرز حکمرانی صرف اخلاقی ناکامی نہیں بلکہ <strong>معاشی ناکامی</strong> بھی ہے۔ یہ کاروبار کی لاگت بڑھاتی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو روکتی ہے، عوامی خدمات کی فراہمی پر اثر ڈالتی ہے اور مالی خسارہ بڑھاتی ہے۔ مختصر یہ کہ <strong>غلط طرز حکمرانی معیشت پر وہ اثر ڈالتی ہے جو کسی بھی مالی پابندی سے کہیں زیادہ ہے</strong>۔</p>
<p>یہ سب اثرات زندگی میں واضح نظر آتے ہیں: غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی، ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک چھوڑ رہی ہیں، اور بڑے صنعتی ادارے بقا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔</p>
<p>جی سی ڈی اے کی ایک سب سے اہم سفارش یہ ہے کہ <strong>انتظامی اختیارات کو محدود کیا جائے جب تک کہ مضبوط پارلیمانی نگرانی موجود نہ ہو</strong>۔ تاہم پاکستان کی قانون ساز اسمبلی عوامی اخراجات کی جانچ میں زیادہ تر غیر فعال ہے، اور پارلیمانی کمیٹیاں اکثر <strong>اہلیت یا آزادی سے محروم</strong> ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ انتظامیہ کو چیلنج نہیں کر سکتیں۔ آئی ایم ایف دراصل پاکستان سے یہ کہہ رہا ہے: <strong>“آپ ریاستی طرز حکمرانی کو پارلیمنٹ کے کردار کو بہتر بنائے بغیر درست نہیں کر سکتے”</strong>۔</p>
<p>پاکستان کا <strong>بدعنوانی سے نمٹنے والا نظام</strong> وسیع ہے، ایف آئی اے ،قومی احتساب بیور، صوبائی اینٹی کرپشن ڈائریکٹوریٹس، محتسب اعلیٰ، مگر یہ نظام کسی طور مربوط نہیں۔ ادارے الگ تھلگ کام کرتے ہیں، اکثر ایک دوسرے کا کام دہراتے ہیں، اور زیادہ تر <strong>افراد کو نشانہ بناتے ہیں بجائے نظامی بدعنوانی کی جانچ کے</strong>۔</p>
<p>پاکستان کو زیادہ اداروں کی نہیں بلکہ <strong>قابل اعتماد، آزاد اور پیش گوئی کے قابل احتسابی نظام</strong> کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ <strong>مینڈیٹ واضح ہو، سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہو اور عمل و نتائج میں شفافیت موجود ہو</strong>۔ پاکستان میں حکمرانی کی اصلاحات عام طور پر تین وجوہات کی وجہ سے ناکام ہو جاتی ہیں:</p>
<ol>
<li>
<p>مفاد پرست عناصر کی مزاحمت</p>
</li>
<li>
<p>مفاد پرست عناصر کے زیر اثر قواعد و ضوابط ( ریگولیٹری کیپچر)</p>
</li>
<li>
<p>سیاسی تسلسل کا فقدان</p>
</li>
</ol>
<p>آئی ایم ایف کا <strong>15 نکاتی ایجنڈا،</strong> جس میں خریداری، ٹیکس، ریاستی اداروں کی اصلاحات، اثاثوں کا اعلان اور عدالتی عمل شامل ہیں، صرف تکنیکی اصلاحات کا متقاضی نہیں بلکہ <strong>سیاسی اتفاق رائے</strong> بھی درکار ہے، جو پاکستان میں شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔</p>
<p>اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی حکمرانی کو <strong>ری سیٹ</strong> کرے، اور یہ اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ پاکستان کو فوری طور پر بیرونی مالی مدد درکار ہے، آئی ایم ایف حکمرانی میں نتائج چاہتا ہے، اور عوام ایسے نظام سے ریلیف چاہتے ہیں جو اب خدمات فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ <strong>غلط حکمرانی کی قیمت اب نظر انداز کرنے کے لیے بہت زیادہ ہے</strong>۔ کمزور ادارے براہِ راست پاکستان کی اقتصادی جمود، بڑھتی ہوئی مہنگائی، اور مسلسل مالیاتی بحرانوں میں کردار ادا کر چکے ہیں۔ اصلاحات اب صرف آئی ایم ایف کے باکس کو ٹک کرنے کے لیے نہیں بلکہ <strong>قومی بقا</strong> کے لیے ضروری ہیں۔ پاکستان کو <strong>ظاہری اصلاحات سے آگے بڑھ کر ساختی تبدیلیاں</strong> اپنانا ہوں گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279646</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Nov 2025 17:36:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/221704089a9613b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/221704089a9613b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
