<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تجارت معطل ہونے کی ذمہ داری افغان طالبان پر ہے، دفترِ خارجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279641/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تجارتی سرحدی راستوں کے دوبارہ کھلنے میں تاخیر کی ذمہ داری افغان طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے اور افغانستان کے ساتھ تجارت دوبارہ شروع کرنا انتہائی خطرناک ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے جمعہ کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہی۔ اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ افغان طالبان حکومت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان سمیت ان سے منسلک دہشت گرد تنظیموں کی حمایت بند کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ 10 اور 15 نومبر کو تجارتی مراکز پر درحقیقت افغانستان سے حملے ہوئے، لہٰذا یا تو ہم اپنی جان خطرے میں ڈالیں، یا پھر ایک بہت خطرناک تجارت کریں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے تجارتی معطلی کا مشکل فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تاپی اور کاسا-1000 منصوبوں کی کامیابی بھی افغان طالبان حکومت پر منحصر ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ کابل کو اپنے ملک سے آپریٹ کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کی حمایت اور معاونت بند کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ بنگلہ دیش کے سابق وزیرِ اعظم (حسینہ واجد) کے مقدمے میں دی گئی سزائے موت بنگلہ دیش کا داخلی معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام اپنے مسائل کو اپنے جمہوری اور آئینی عمل کے مطابق حل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان وزیرِ تجارت کے بھارت کے دورے کے بارے میں ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ یہ پیش رفت دونوں خودمختار ممالک کے درمیان ہے۔ پاکستان خطے میں تجارتی رابطوں اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ ہمارے تعلقات افغانستان کے ساتھ اس کی اپنی صلاحیت اور مدِ نظر رکھ کر قائم ہیں، نہ کہ کسی “تیسری پارٹی کی مداخلت” پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے صدر کے اس بیان کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالث کا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کے وزراء اور اہلکاروں کا کوئی دورہ ابھی تک نہیں ہوا۔ اُن کا کہنا تھا کہ دورے کا شیڈول ترتیب دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تجارتی سرحدی راستوں کے دوبارہ کھلنے میں تاخیر کی ذمہ داری افغان طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے اور افغانستان کے ساتھ تجارت دوبارہ شروع کرنا انتہائی خطرناک ہے۔</strong></p>
<p>یہ بات ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے جمعہ کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہی۔ اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ افغان طالبان حکومت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان سمیت ان سے منسلک دہشت گرد تنظیموں کی حمایت بند کرے۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ 10 اور 15 نومبر کو تجارتی مراکز پر درحقیقت افغانستان سے حملے ہوئے، لہٰذا یا تو ہم اپنی جان خطرے میں ڈالیں، یا پھر ایک بہت خطرناک تجارت کریں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے تجارتی معطلی کا مشکل فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تاپی اور کاسا-1000 منصوبوں کی کامیابی بھی افغان طالبان حکومت پر منحصر ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ کابل کو اپنے ملک سے آپریٹ کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کی حمایت اور معاونت بند کرنی چاہیے۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ بنگلہ دیش کے سابق وزیرِ اعظم (حسینہ واجد) کے مقدمے میں دی گئی سزائے موت بنگلہ دیش کا داخلی معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام اپنے مسائل کو اپنے جمہوری اور آئینی عمل کے مطابق حل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>افغان وزیرِ تجارت کے بھارت کے دورے کے بارے میں ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ یہ پیش رفت دونوں خودمختار ممالک کے درمیان ہے۔ پاکستان خطے میں تجارتی رابطوں اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ ہمارے تعلقات افغانستان کے ساتھ اس کی اپنی صلاحیت اور مدِ نظر رکھ کر قائم ہیں، نہ کہ کسی “تیسری پارٹی کی مداخلت” پر۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے صدر کے اس بیان کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالث کا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کے وزراء اور اہلکاروں کا کوئی دورہ ابھی تک نہیں ہوا۔ اُن کا کہنا تھا کہ دورے کا شیڈول ترتیب دیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279641</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Nov 2025 12:46:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فدا حسین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/22123529509b306.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/22123529509b306.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
