<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوئی ناردرن سے منسلک یوریا پلانٹس کو 31 مارچ 2026 تک گیس کی فراہمی کی تجویز مسترد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279635/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پٹرولیم ڈویژن کی مخالفت کی وجہ سے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 31 مارچ 2026 تک سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) سے منسلک دو یوریا کھاد کے کارخانوں کو گیس کی فراہمی کی منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خوراک نے ای سی سی کو بتایا کہ یوریا سب سے زیادہ استعمال ہونے والی نائٹروجن والی کھاد ہے جو ملک میں کل کھاد کے استعمال کا 65 فیصد حصہ بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں فعال 10 یوریا پلانٹس کی پیداواری صلاحیت سالانہ تقریباً 6.6 ملین ٹن ہے، یہ صلاحیت مقامی طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے، بشرطیکہ تمام پلانٹس سال بھر مسلسل اور بغیر کسی رکاوٹ کے گیس کی فراہمی کے ساتھ کام کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;10 میں سے 8 پلانٹس کو ماری گیس فیلڈ اور ایس ایس جی سی ایل نیٹ ورک کے ذریعے گیس ملتی ہے اور یہ عموماً سال بھر فعال رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم باقی دو پلانٹس یعنی فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک کو ایس این جی پی ایل نیٹ ورک کے ذریعے گیس فراہم کی جاتی ہے اور ان کی مشترکہ سالانہ پیداوار تقریباً 9 لاکھ ٹن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر 2018 سے قدرتی گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے، یہ پلانٹس آر ایل این جی  پر چل رہے ہیں۔ ان پلانٹس کو آر ایل این جی کی فراہمی ملک کی یوریا کی ضروریات کی بنیاد پر اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلوں پر منحصر ہوتی ہے۔ ان پلانٹس کی وقفے وقفے سے بندش کی وجہ سے پیداوار میں نقصان ہوا اور سپلائی و ڈیمانڈ کے درمیان فرق پیدا ہوا، جسے بالآخر مہنگی درآمدات کے ذریعے پورا کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خوراک نے ای سی سی کو بتایا کہ یہ دونوں پلانٹس اپریل 2023 سے کام کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں یوریا کا کافی بفر اسٹاک (ہر ماہ 300,000 ٹن سے زیادہ) جمع ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں جولائی 2024 سے ملکی یوریا کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ اس وقت یوریا کی قیمت 50 کلوگرام بیگ کے لیے 4,311 روپے (پی بی ایس) ہے جبکہ جولائی 2024 میں یہ قیمت 4,705 روپے تھی، جو 8.4 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے برعکس، عالمی مارکیٹ میں یوریا کی قیمتیں اسی مدت کے دوران 14.1 فیصد بڑھیں۔ درآمد شدہ یوریا کی ایکس-کراچی قیمت 16 اکتوبر 2025 کو 50 کلوگرام بیگ کے لیے 7,275 روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرض کرتے ہوئے کہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ سے منسلک دونوں پلانٹس 31 مارچ 2026 تک کام کرتے رہیں گے، رسد اور طلب کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ربیع 2025-26 کے دوران یوریا کی کُل دستیابی تقریباً 4,399,000 ٹن ہوگی، جو کہ 1,148,000 ٹن اوپننگ اسٹاک اور 3,251,000 ٹن ملکی پیداوار پر مشتمل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سیزن کے لیے یوریا کی متوقع طلب تقریباً 3,486,000 ٹن ہے، جو ربیع کے دوران ماہانہ 300,000 ٹن سے زائد مناسب اسٹاک کو یقینی بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اگر ان دو پلانٹس کو 30 اکتوبر 2025 کے بعد بند کر دیا جاتا ہے، تو 401,000 ٹن کی پیداواری کمی کا اندیشہ ہے، جس سے ربیع سیزن کے لیے کلوزنگ بیلنس کم ہو کر 512,000 ٹن رہ جائے گا۔ یہ کمی آئندہ خریف اور ربیع کے سیزن کے دوران یوریا کی قلت اور قیمتوں میں ممکنہ اضافے کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ بہتر زرعی معیشت کی وجہ سے یوریا کی طلب میں اضافہ متوقع ہے، یہ بہتری پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کی طرف سے سود سے پاک قرضوں اور نقد امداد جیسے اعلانات اور زیادہ پیداوار دینے والی فصلوں کی اقسام کو اپنانے سے حاصل ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی کو بتایا گیا کہ مسودہ سمری پر پٹرولیم ڈویژن سے رائے طلب کی گئی تھی جس پر پٹرولیم ڈویژن نے جواب دیا کہ وہ صرف 31 دسمبر 2025 تک دونوں پلانٹس کے آپریشن کی حمایت کرتا ہے۔ مزید برآں، پٹرولیم ڈویژن نے اطلاع دی کہ مقامی گیس کی کھاد پلانٹس کو الاٹمنٹ اور ان پلانٹس کو  آر ایل این جی  کی فراہمی کے انتظامات کے لیے بھی ایک سمری زیر غور ہے جس کا جائزہ لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مندرجہ بالا صورتحال کے پیشِ نظر، وزارتِ خوراک نے تجویز دی کہ فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک کو گیس کی فراہمی موجودہ انتظام کے تحت بغیر کسی تعطل کے 31 مارچ 2026 تک جاری رکھی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ہونے والی بحث میں وزارتِ خوراک نے فورم کو تجویز کے پس منظر سے آگاہ کیا۔ فورم نے سفارش کی کہ گیس کی فراہمی کو 31 دسمبر 2025 تک بڑھایا جائے تاکہ 15 دسمبر 2025 تک ملک میں گیس اور یوریا کی مجموعی فراہمی کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلی بحث کے بعد ای سی سی نے دو ایس این جی پی ایل سے منسلک یوریا پلانٹس (فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک) کو موجودہ انتظامات کے تحت 31 مارچ 2026 تک گیس کی فراہمی جاری رکھنے کی تجویز کو منظور نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے وزارتِ خوراک کو ہدایت دی کہ ملک میں گیس کی فراہمی اور یوریا کی دستیابی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے یہ معاملہ 15 دسمبر 2025 تک دوبارہ ای سی سی کے سامنے پیش کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پٹرولیم ڈویژن کی مخالفت کی وجہ سے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 31 مارچ 2026 تک سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) سے منسلک دو یوریا کھاد کے کارخانوں کو گیس کی فراہمی کی منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>وزارتِ خوراک نے ای سی سی کو بتایا کہ یوریا سب سے زیادہ استعمال ہونے والی نائٹروجن والی کھاد ہے جو ملک میں کل کھاد کے استعمال کا 65 فیصد حصہ بنتی ہے۔</p>
<p>پاکستان میں فعال 10 یوریا پلانٹس کی پیداواری صلاحیت سالانہ تقریباً 6.6 ملین ٹن ہے، یہ صلاحیت مقامی طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے، بشرطیکہ تمام پلانٹس سال بھر مسلسل اور بغیر کسی رکاوٹ کے گیس کی فراہمی کے ساتھ کام کریں۔</p>
<p>10 میں سے 8 پلانٹس کو ماری گیس فیلڈ اور ایس ایس جی سی ایل نیٹ ورک کے ذریعے گیس ملتی ہے اور یہ عموماً سال بھر فعال رہتے ہیں۔</p>
<p>تاہم باقی دو پلانٹس یعنی فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک کو ایس این جی پی ایل نیٹ ورک کے ذریعے گیس فراہم کی جاتی ہے اور ان کی مشترکہ سالانہ پیداوار تقریباً 9 لاکھ ٹن ہے۔</p>
<p>اکتوبر 2018 سے قدرتی گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے، یہ پلانٹس آر ایل این جی  پر چل رہے ہیں۔ ان پلانٹس کو آر ایل این جی کی فراہمی ملک کی یوریا کی ضروریات کی بنیاد پر اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلوں پر منحصر ہوتی ہے۔ ان پلانٹس کی وقفے وقفے سے بندش کی وجہ سے پیداوار میں نقصان ہوا اور سپلائی و ڈیمانڈ کے درمیان فرق پیدا ہوا، جسے بالآخر مہنگی درآمدات کے ذریعے پورا کیا گیا۔</p>
<p>وزارت خوراک نے ای سی سی کو بتایا کہ یہ دونوں پلانٹس اپریل 2023 سے کام کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں یوریا کا کافی بفر اسٹاک (ہر ماہ 300,000 ٹن سے زیادہ) جمع ہو گیا ہے۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں جولائی 2024 سے ملکی یوریا کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ اس وقت یوریا کی قیمت 50 کلوگرام بیگ کے لیے 4,311 روپے (پی بی ایس) ہے جبکہ جولائی 2024 میں یہ قیمت 4,705 روپے تھی، جو 8.4 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے برعکس، عالمی مارکیٹ میں یوریا کی قیمتیں اسی مدت کے دوران 14.1 فیصد بڑھیں۔ درآمد شدہ یوریا کی ایکس-کراچی قیمت 16 اکتوبر 2025 کو 50 کلوگرام بیگ کے لیے 7,275 روپے تھی۔</p>
<p>یہ فرض کرتے ہوئے کہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ سے منسلک دونوں پلانٹس 31 مارچ 2026 تک کام کرتے رہیں گے، رسد اور طلب کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ربیع 2025-26 کے دوران یوریا کی کُل دستیابی تقریباً 4,399,000 ٹن ہوگی، جو کہ 1,148,000 ٹن اوپننگ اسٹاک اور 3,251,000 ٹن ملکی پیداوار پر مشتمل ہوگی۔</p>
<p>اس سیزن کے لیے یوریا کی متوقع طلب تقریباً 3,486,000 ٹن ہے، جو ربیع کے دوران ماہانہ 300,000 ٹن سے زائد مناسب اسٹاک کو یقینی بناتا ہے۔</p>
<p>تاہم اگر ان دو پلانٹس کو 30 اکتوبر 2025 کے بعد بند کر دیا جاتا ہے، تو 401,000 ٹن کی پیداواری کمی کا اندیشہ ہے، جس سے ربیع سیزن کے لیے کلوزنگ بیلنس کم ہو کر 512,000 ٹن رہ جائے گا۔ یہ کمی آئندہ خریف اور ربیع کے سیزن کے دوران یوریا کی قلت اور قیمتوں میں ممکنہ اضافے کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ بہتر زرعی معیشت کی وجہ سے یوریا کی طلب میں اضافہ متوقع ہے، یہ بہتری پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کی طرف سے سود سے پاک قرضوں اور نقد امداد جیسے اعلانات اور زیادہ پیداوار دینے والی فصلوں کی اقسام کو اپنانے سے حاصل ہوئی ہے۔</p>
<p>ای سی سی کو بتایا گیا کہ مسودہ سمری پر پٹرولیم ڈویژن سے رائے طلب کی گئی تھی جس پر پٹرولیم ڈویژن نے جواب دیا کہ وہ صرف 31 دسمبر 2025 تک دونوں پلانٹس کے آپریشن کی حمایت کرتا ہے۔ مزید برآں، پٹرولیم ڈویژن نے اطلاع دی کہ مقامی گیس کی کھاد پلانٹس کو الاٹمنٹ اور ان پلانٹس کو  آر ایل این جی  کی فراہمی کے انتظامات کے لیے بھی ایک سمری زیر غور ہے جس کا جائزہ لیا جائے گا۔</p>
<p>مندرجہ بالا صورتحال کے پیشِ نظر، وزارتِ خوراک نے تجویز دی کہ فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک کو گیس کی فراہمی موجودہ انتظام کے تحت بغیر کسی تعطل کے 31 مارچ 2026 تک جاری رکھی جائے۔</p>
<p>اس کے بعد ہونے والی بحث میں وزارتِ خوراک نے فورم کو تجویز کے پس منظر سے آگاہ کیا۔ فورم نے سفارش کی کہ گیس کی فراہمی کو 31 دسمبر 2025 تک بڑھایا جائے تاکہ 15 دسمبر 2025 تک ملک میں گیس اور یوریا کی مجموعی فراہمی کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔</p>
<p>تفصیلی بحث کے بعد ای سی سی نے دو ایس این جی پی ایل سے منسلک یوریا پلانٹس (فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک) کو موجودہ انتظامات کے تحت 31 مارچ 2026 تک گیس کی فراہمی جاری رکھنے کی تجویز کو منظور نہیں کیا۔</p>
<p>ای سی سی نے وزارتِ خوراک کو ہدایت دی کہ ملک میں گیس کی فراہمی اور یوریا کی دستیابی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے یہ معاملہ 15 دسمبر 2025 تک دوبارہ ای سی سی کے سامنے پیش کرے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025<br></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279635</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Nov 2025 11:17:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/2210482868e54dc.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/2210482868e54dc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
