<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی ملائیشیا کو گوشت برآمدات میں بڑی پیش رفت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279606/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِاعظم کی ملائیشیا کو گوشت برآمدات سے متعلق کمیٹی کا  اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی ہارو ن اختر خان اور وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں سرکاری اور نجی شعبے کے اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، جس کا مقصد ملائیشیا کو گوشت کی برآمدات میں درپیش چیلنجز، موجودہ سفارشات اور آئندہ حکمتِ عملی کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے اس موقع پر ملائیشیا کو گوشت کی 200 ملین ڈالر مالیت کی برآمدات کا ہدف تجویز کیا، جو اس شعبے میں ایک بڑی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ تجارت  نے بتایا کہ حکومت نجی برآمد کنندگان کے اشتراک سے ایک مشترکہ کاروباری ماڈل تیار کر رہی ہے، جس کے ذریعے گوشت کی ترسیل کو مزید مؤثر، منظم اور تیز بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے چرگاہوں کی بہتری، FMD ویکسین لیبارٹریز کے قیام اور برآمد کنندگان کے لیے ٹارگٹڈ مراعات کی فراہمی کو فوری اور ناگزیر قرار دیا، تاکہ پاکستان ملائیشیا کی منڈی میں مؤثر طریقے سے داخل ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے یقین دہانی کرائی کہ وزیرِاعظم کی ہدایات کی روشنی میں ایک جامع برآمداتی حکمتِ عملی تیار کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق پاکستان ہڈی کے بغیر گوشت کی برآمدات کے لیے عالمی معیار پر مکمل طور پر پورا اترتا ہے، جبکہ ہڈی والے گوشت کی برآمد کے لیے بھی قابلِ عمل فریم ورک پر تیزی سے کام جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بھینس کے گوشت کی برآمدات میں اضافے کے لیے مراعات انتہائی ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پراسیسنگ سسٹمز کو اپ گریڈ کرنے، کولڈ چین انفرااسٹرکچر بہتر بنانے اور جدید ایکسپورٹ ریڈی میکانزم متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ پاکستان عالمی منڈیوں میں مؤثر مقابلہ کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں جام کمال خان نے بتایا کہ نیا کاروباری ماڈل جلد وزیرِاعظم کو پیش کیا جائے گا، جس سے پاکستان کی برآمدی صلاحیت میں قابلِ ذکر اضافہ ہو گا اور حلال مارکیٹس میں نئی راہیں کھلیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِاعظم کی ملائیشیا کو گوشت برآمدات سے متعلق کمیٹی کا  اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی ہارو ن اختر خان اور وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے کی۔</strong></p>
<p>اجلاس میں سرکاری اور نجی شعبے کے اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، جس کا مقصد ملائیشیا کو گوشت کی برآمدات میں درپیش چیلنجز، موجودہ سفارشات اور آئندہ حکمتِ عملی کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔</p>
<p>کمیٹی نے اس موقع پر ملائیشیا کو گوشت کی 200 ملین ڈالر مالیت کی برآمدات کا ہدف تجویز کیا، جو اس شعبے میں ایک بڑی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیرِ تجارت  نے بتایا کہ حکومت نجی برآمد کنندگان کے اشتراک سے ایک مشترکہ کاروباری ماڈل تیار کر رہی ہے، جس کے ذریعے گوشت کی ترسیل کو مزید مؤثر، منظم اور تیز بنایا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے چرگاہوں کی بہتری، FMD ویکسین لیبارٹریز کے قیام اور برآمد کنندگان کے لیے ٹارگٹڈ مراعات کی فراہمی کو فوری اور ناگزیر قرار دیا، تاکہ پاکستان ملائیشیا کی منڈی میں مؤثر طریقے سے داخل ہو سکے۔</p>
<p>معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے یقین دہانی کرائی کہ وزیرِاعظم کی ہدایات کی روشنی میں ایک جامع برآمداتی حکمتِ عملی تیار کی جا رہی ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق پاکستان ہڈی کے بغیر گوشت کی برآمدات کے لیے عالمی معیار پر مکمل طور پر پورا اترتا ہے، جبکہ ہڈی والے گوشت کی برآمد کے لیے بھی قابلِ عمل فریم ورک پر تیزی سے کام جاری ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بھینس کے گوشت کی برآمدات میں اضافے کے لیے مراعات انتہائی ضروری ہیں۔</p>
<p>انہوں نے پراسیسنگ سسٹمز کو اپ گریڈ کرنے، کولڈ چین انفرااسٹرکچر بہتر بنانے اور جدید ایکسپورٹ ریڈی میکانزم متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ پاکستان عالمی منڈیوں میں مؤثر مقابلہ کر سکے۔</p>
<p>آخر میں جام کمال خان نے بتایا کہ نیا کاروباری ماڈل جلد وزیرِاعظم کو پیش کیا جائے گا، جس سے پاکستان کی برآمدی صلاحیت میں قابلِ ذکر اضافہ ہو گا اور حلال مارکیٹس میں نئی راہیں کھلیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279606</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Nov 2025 12:44:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/211230057d940dc.webp" type="image/webp" medium="image" height="614" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/211230057d940dc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
