<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بدعنوانی اب بھی ایک چیلنج ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279600/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ خزانہ نے بدھ کی رات گئے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی ٹیکنیکل اسسٹنس (ٹی اے) رپورٹ جاری کر دی جس کا عنوان پاکستان گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک اسیسمنٹ (سی سی ڈی اے) ہے۔ یہ رپورٹ جاری آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت اگست 2025 میں ریلیز ہونے والی قسط کیلئے ایک اسٹرکچرل بینچ مارک کی حیثیت رکھتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ نہایت سخت ہے جو کسی کے لیے حیران کن نہیں۔ فنڈ نے مشاہدہ کیا ہے کہ اگرچہ بدعنوانی کے خطرات حکومت کی ہر سطح پر موجود ہیں لیکن اس کی سب سے زیادہ معاشی طور پر نقصان دہ صورتیں اُن بااثر اداروں سے جڑی ہیں جو اہم معاشی شعبوں پر اثرانداز ہوتے ہیں جن میں وہ ادارے بھی شامل ہیں جو ریاست کی ملکیت ہیں یا اس سے وابستہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ نے اپنی جانچ اگرچہ وفاقی سطح تک محدود رکھی تاہم محدود نوعیت کے تکنیکی معاونتی اہداف کے پیشِ نظر عملے کو بعد ازاں ہونے والی تنقید سے بچانے کے لیے یہ وضاحت بھی شامل کی گئی کہ ایک جامع گورننس پروگرام کے لیے ضروری ہے کہ وہ صوبوں کے اندر اور صوبوں کے درمیان موجود گورننس کے مسائل کا بھی احاطہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میـکرو اکنامک اثرات کے ساتھ جن گورننس کی کمزوریوں اور کرپشن کے خدشات کی نشاندہی کی گئی ہے، وہ درج ذیل شعبوں میں پائے گئے: “(i) &lt;em&gt;فِسکل گورننس&lt;/em&gt; (عوامی مالیاتی انتظام، عوامی خریداری، ریاستی اثاثوں کا انتظام اور ٹیکس انتظامیہ اور پالیسی) جس میں نہ تو اندرونی اور نہ ہی بیرونی آڈیٹرز کے پاس اپنے مینڈیٹ کو پورا کرنے کے لیے کافی اختیار ہے، بشمول کمزور بجٹ کی ساکھ۔ (ii) &lt;em&gt;مارکیٹ ریگولیشن&lt;/em&gt; جہاں ریگولیٹری ادارے مخصوص کمپنیوں یا مضبوطی سے جڑے کارٹیلز کو فائدہ پہنچاتے ہیں جس کے نتیجے میں غیرجانبداری اور ریگولیٹری کیپچر کے خدشات جنم لیتے ہیں۔ (iii) مالیاتی شعبے کی نگرانی (iv) منی لانڈرنگ کی روک تھام (v) قانون کی حکمرانی جس میں خاص طور پر معاہدوں کے نفاذ ، ملکیتی حقوق کا تحفظ اور عدالتی سالمیت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ نے برقرار رکھا کہ عدالتی شعبہ جو تنظیمی طور پر پیچیدہ ہے، کارکردگی کے مسائل، پرانے قوانین، اور ججوں اور عدالتی عملے کی سالمیت کی وجہ سے قابلِ بھروسہ طریقے سے نہ تو معاہدوں کو نافذ کر سکتا ہے اور نہ ہی ملکیتی حقوق کا تحفظ کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند اہم نکات قابلِ ذکر ہیں۔ سب سے پہلے، فِسکل گورننس میں بہتری لانے کے لیے ساختی تبدیلیاں ضروری ہیں جس میں وہ آمدنی جو بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل ہوتی ہے اور جس کا اثر غریبوں پر امیروں کے مقابلے میں زیادہ پڑتا ہے، اسے آہستہ آہستہ براہِ راست ٹیکسز پر مبنی آمدنی سے تبدیل کیا جانا چاہیے جو ادائیگی کی صلاحیت (ability-to-pay) کے اصول پر مبنی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو آج بھی آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے ای ایف ایف کی منظوری کے ایک سال سے تھوڑا زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بالواسطہ ٹیکسز پر انحصار کرتا ہے اور مختلف وجوہات کے پیشِ نظر اکثر خریداری کے قواعد کی خلاف ورزی کی درخواستیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ دوسرا حکومت کے دستخط شدہ معاہدوں کو ایسے اہل وکیل سے جانچنا ضروری ہے تاکہ بین الاقوامی ثالثی عدالتوں میں معاہدوں کی خلاف ورزی پر عائد جرمانوں کو کم سے کم کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا عدالتی شفافیت کو کبھی بھی نقصان نہیں پہنچانا چاہیے، کیونکہ اس سے غیر ملکی سرمایہ کاری کا خالص بہاؤ منفی ہو جاتا ہے، جیسا کہ آج کے حالات میں دیکھا جارہا ہے جب جولائی تا ستمبر 2025 کے دوران 64.5 ملین یو ایس ڈی کے منفی سرمایہ کاری بہاؤ کا رجحان ریکارڈ کیا گیا، جیسا کہ وزارتِ خزانہ نے اپنی اکتوبر کی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک میں نوٹ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں رپورٹ میں بجٹ سازی اور مالی معلومات کی رپورٹنگ میں کمزوریاں، اور عوامی مالی اور غیر مالی وسائل کے انتظام کے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے، خاص طور پر سرمایہ جاتی اخراجات، سرکاری خریداری، اور ریاستی ملکیت والے اداروں کے انتظام و نگرانی کے شعبوں میں۔ یہ بلاشبہ حکومت کی مالیاتی اعداد و شمار میں موجود ”اہم خامیوں“ کو دور کرنے کے لیے جاری تکنیکی معاونت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرِ اقتصادیات طویل عرصے سے امیر طبقے کے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں جس میں بجٹ شدہ اخراجات شامل ہیں، جیسے کہ سالانہ تنخواہوں میں اضافہ جو ہر سال ریاست کے ملازمین کے صرف 7 فیصد پر ٹیکس دہندگان کے خرچ پر دیا جاتا ہے، ریٹائرڈ ملازمین کے لیے بڑھتی ہوئی پنشن، اور سبسڈیز۔ اس کے ساتھ بجٹ شدہ آمدنی کا بھی مسئلہ ہے، کیونکہ کل ٹیکسز کا 75 سے 80 فیصد حصہ بالواسطہ ٹیکسز پر مشتمل ہے، جو ملک میں غربت کی شرح کو 42 فیصد تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دولت مند نجی شعبہ بھی امیر طبقے کے اثر و رسوخ کی نمائندگی کرتا ہے، جو طاقتور ایسوسی ایشنز/ادارے قائم کر کے انہیں سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹر کرواتے ہیں، اور اس کے ذریعے حکومت کے ساتھ اجتماعی طور پر سودے بازی کر پاتے ہیں۔ حالانکہ دیگر ممالک کی طرح یہاں بھی ان کے مصنوعات کی قیمت طلب اور رسد کے اصول کے تحت طے ہونی چاہیے کیونکہ خریداروں اور فروخت کنندگان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ وہ قیمت پر اثر انداز نہیں ہو سکتے، لیکن انہوں نے کامیابی کے ساتھ طاقتور تنظیمیں قائم کر لی ہیں جیسے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن اور آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن جس نے انہیں انتہائی موافق مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کو یقینی بنانے کا موقع فراہم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی رپورٹس کے مطابق چینی مل مالکان کی ایسوسی ایشن نے مسلسل حکومتوں کو قائل کیا کہ برآمدات کی اجازت دی جائے جس کے نتیجے میں ملکی سطح پر کمی پیدا ہوئی اور گھریلو قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ، ماضی میں انہوں نے برآمدی سبسڈیز بھی حاصل کرنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نوٹ کرنا اہم ہے کہ ہر آنے والی حکومت نے اپنی پچھلی حکومتوں پر بدعنوانی اور ناقص حکمرانی کے الزامات لگائے اور پھر بھی اس کے نتائج جاری رہے جن میں شامل ہیں: معاشی بحران پیدا کرنا، فنڈز کو موجودہ اخراجات کی طرف منتقل کرنا، سرمایہ کاری کے لیے غیر موافق ماحول قائم کرنا، غربت میں اضافہ، اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچانا۔ اس اخبار نے ہمیشہ موجودہ بجٹ شدہ اخراجات میں کمی کی حمایت کی ہے، جس کے لیے امیر طبقےحکومت میں اور باہر دونوں سے قربانی درکار ہوگی اور موجودہ ٹیکس ڈھانچے میں اہم تبدیلی بھی لازم ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ خزانہ نے بدھ کی رات گئے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی ٹیکنیکل اسسٹنس (ٹی اے) رپورٹ جاری کر دی جس کا عنوان پاکستان گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک اسیسمنٹ (سی سی ڈی اے) ہے۔ یہ رپورٹ جاری آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت اگست 2025 میں ریلیز ہونے والی قسط کیلئے ایک اسٹرکچرل بینچ مارک کی حیثیت رکھتی ہے۔</strong></p>
<p>رپورٹ نہایت سخت ہے جو کسی کے لیے حیران کن نہیں۔ فنڈ نے مشاہدہ کیا ہے کہ اگرچہ بدعنوانی کے خطرات حکومت کی ہر سطح پر موجود ہیں لیکن اس کی سب سے زیادہ معاشی طور پر نقصان دہ صورتیں اُن بااثر اداروں سے جڑی ہیں جو اہم معاشی شعبوں پر اثرانداز ہوتے ہیں جن میں وہ ادارے بھی شامل ہیں جو ریاست کی ملکیت ہیں یا اس سے وابستہ ہیں۔</p>
<p>رپورٹ نے اپنی جانچ اگرچہ وفاقی سطح تک محدود رکھی تاہم محدود نوعیت کے تکنیکی معاونتی اہداف کے پیشِ نظر عملے کو بعد ازاں ہونے والی تنقید سے بچانے کے لیے یہ وضاحت بھی شامل کی گئی کہ ایک جامع گورننس پروگرام کے لیے ضروری ہے کہ وہ صوبوں کے اندر اور صوبوں کے درمیان موجود گورننس کے مسائل کا بھی احاطہ کرے۔</p>
<p>میـکرو اکنامک اثرات کے ساتھ جن گورننس کی کمزوریوں اور کرپشن کے خدشات کی نشاندہی کی گئی ہے، وہ درج ذیل شعبوں میں پائے گئے: “(i) <em>فِسکل گورننس</em> (عوامی مالیاتی انتظام، عوامی خریداری، ریاستی اثاثوں کا انتظام اور ٹیکس انتظامیہ اور پالیسی) جس میں نہ تو اندرونی اور نہ ہی بیرونی آڈیٹرز کے پاس اپنے مینڈیٹ کو پورا کرنے کے لیے کافی اختیار ہے، بشمول کمزور بجٹ کی ساکھ۔ (ii) <em>مارکیٹ ریگولیشن</em> جہاں ریگولیٹری ادارے مخصوص کمپنیوں یا مضبوطی سے جڑے کارٹیلز کو فائدہ پہنچاتے ہیں جس کے نتیجے میں غیرجانبداری اور ریگولیٹری کیپچر کے خدشات جنم لیتے ہیں۔ (iii) مالیاتی شعبے کی نگرانی (iv) منی لانڈرنگ کی روک تھام (v) قانون کی حکمرانی جس میں خاص طور پر معاہدوں کے نفاذ ، ملکیتی حقوق کا تحفظ اور عدالتی سالمیت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ نے برقرار رکھا کہ عدالتی شعبہ جو تنظیمی طور پر پیچیدہ ہے، کارکردگی کے مسائل، پرانے قوانین، اور ججوں اور عدالتی عملے کی سالمیت کی وجہ سے قابلِ بھروسہ طریقے سے نہ تو معاہدوں کو نافذ کر سکتا ہے اور نہ ہی ملکیتی حقوق کا تحفظ کر سکتا ہے۔</p>
<p>چند اہم نکات قابلِ ذکر ہیں۔ سب سے پہلے، فِسکل گورننس میں بہتری لانے کے لیے ساختی تبدیلیاں ضروری ہیں جس میں وہ آمدنی جو بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل ہوتی ہے اور جس کا اثر غریبوں پر امیروں کے مقابلے میں زیادہ پڑتا ہے، اسے آہستہ آہستہ براہِ راست ٹیکسز پر مبنی آمدنی سے تبدیل کیا جانا چاہیے جو ادائیگی کی صلاحیت (ability-to-pay) کے اصول پر مبنی ہو۔</p>
<p>فیڈرل بورڈ آف ریونیو آج بھی آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے ای ایف ایف کی منظوری کے ایک سال سے تھوڑا زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بالواسطہ ٹیکسز پر انحصار کرتا ہے اور مختلف وجوہات کے پیشِ نظر اکثر خریداری کے قواعد کی خلاف ورزی کی درخواستیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ دوسرا حکومت کے دستخط شدہ معاہدوں کو ایسے اہل وکیل سے جانچنا ضروری ہے تاکہ بین الاقوامی ثالثی عدالتوں میں معاہدوں کی خلاف ورزی پر عائد جرمانوں کو کم سے کم کیا جاسکے۔</p>
<p>تیسرا عدالتی شفافیت کو کبھی بھی نقصان نہیں پہنچانا چاہیے، کیونکہ اس سے غیر ملکی سرمایہ کاری کا خالص بہاؤ منفی ہو جاتا ہے، جیسا کہ آج کے حالات میں دیکھا جارہا ہے جب جولائی تا ستمبر 2025 کے دوران 64.5 ملین یو ایس ڈی کے منفی سرمایہ کاری بہاؤ کا رجحان ریکارڈ کیا گیا، جیسا کہ وزارتِ خزانہ نے اپنی اکتوبر کی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک میں نوٹ کیا ہے۔</p>
<p>آخر میں رپورٹ میں بجٹ سازی اور مالی معلومات کی رپورٹنگ میں کمزوریاں، اور عوامی مالی اور غیر مالی وسائل کے انتظام کے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے، خاص طور پر سرمایہ جاتی اخراجات، سرکاری خریداری، اور ریاستی ملکیت والے اداروں کے انتظام و نگرانی کے شعبوں میں۔ یہ بلاشبہ حکومت کی مالیاتی اعداد و شمار میں موجود ”اہم خامیوں“ کو دور کرنے کے لیے جاری تکنیکی معاونت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>ماہرِ اقتصادیات طویل عرصے سے امیر طبقے کے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں جس میں بجٹ شدہ اخراجات شامل ہیں، جیسے کہ سالانہ تنخواہوں میں اضافہ جو ہر سال ریاست کے ملازمین کے صرف 7 فیصد پر ٹیکس دہندگان کے خرچ پر دیا جاتا ہے، ریٹائرڈ ملازمین کے لیے بڑھتی ہوئی پنشن، اور سبسڈیز۔ اس کے ساتھ بجٹ شدہ آمدنی کا بھی مسئلہ ہے، کیونکہ کل ٹیکسز کا 75 سے 80 فیصد حصہ بالواسطہ ٹیکسز پر مشتمل ہے، جو ملک میں غربت کی شرح کو 42 فیصد تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔</p>
<p>دولت مند نجی شعبہ بھی امیر طبقے کے اثر و رسوخ کی نمائندگی کرتا ہے، جو طاقتور ایسوسی ایشنز/ادارے قائم کر کے انہیں سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹر کرواتے ہیں، اور اس کے ذریعے حکومت کے ساتھ اجتماعی طور پر سودے بازی کر پاتے ہیں۔ حالانکہ دیگر ممالک کی طرح یہاں بھی ان کے مصنوعات کی قیمت طلب اور رسد کے اصول کے تحت طے ہونی چاہیے کیونکہ خریداروں اور فروخت کنندگان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ وہ قیمت پر اثر انداز نہیں ہو سکتے، لیکن انہوں نے کامیابی کے ساتھ طاقتور تنظیمیں قائم کر لی ہیں جیسے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن اور آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن جس نے انہیں انتہائی موافق مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کو یقینی بنانے کا موقع فراہم کیا ہے۔</p>
<p>حکومت کی رپورٹس کے مطابق چینی مل مالکان کی ایسوسی ایشن نے مسلسل حکومتوں کو قائل کیا کہ برآمدات کی اجازت دی جائے جس کے نتیجے میں ملکی سطح پر کمی پیدا ہوئی اور گھریلو قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ، ماضی میں انہوں نے برآمدی سبسڈیز بھی حاصل کرنے کی کوشش کی۔</p>
<p>یہ نوٹ کرنا اہم ہے کہ ہر آنے والی حکومت نے اپنی پچھلی حکومتوں پر بدعنوانی اور ناقص حکمرانی کے الزامات لگائے اور پھر بھی اس کے نتائج جاری رہے جن میں شامل ہیں: معاشی بحران پیدا کرنا، فنڈز کو موجودہ اخراجات کی طرف منتقل کرنا، سرمایہ کاری کے لیے غیر موافق ماحول قائم کرنا، غربت میں اضافہ، اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچانا۔ اس اخبار نے ہمیشہ موجودہ بجٹ شدہ اخراجات میں کمی کی حمایت کی ہے، جس کے لیے امیر طبقےحکومت میں اور باہر دونوں سے قربانی درکار ہوگی اور موجودہ ٹیکس ڈھانچے میں اہم تبدیلی بھی لازم ہوگی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279600</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Nov 2025 12:04:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/2111223812261d1.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/2111223812261d1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
