<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 17:03:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 17:03:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>350 فیصد ٹیرف کی دھمکی سے بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ رک گئی، ٹرمپ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279593/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کو ایٹمی جنگ کی جانب بڑھنے سے روکا تھا اور اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کو بھاری تجارتی جرمانوں کی دھمکی دی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے یہ ریمارکس اس واقعے کے چند ماہ بعد سامنے آئے ہیں جب مئی 2025 میں پاکستان نے بھارت کے سات جنگی طیارے مار گرائے تھے، جن میں تین رافیل طیارے بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن میں سعودی سرمایہ کاری کانفرنس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کشیدگی کے ایک شدید دور میں نئی دہلی اور اسلام آباد کو سخت معاشی نتائج سے خبردار کیا تھا۔ ان کے بقول: “میں مختلف جنگوں کی بات کر رہا تھا، اور دیکھیں بھارت اور پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ ایک دوسرے پر چڑھائی کرنے والے تھے۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے آپ لڑیں، لیکن میں دونوں ملکوں پر 350 فیصد ٹیرف لگا دوں گا، امریکا کے ساتھ کوئی تجارت نہیں ہوگی۔ ٹرمپ کے مطابق دونوں فریقین نے جواب دیا، نہیں، نہیں، آپ ایسا نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ میں نے کہا میں یہ کر کے رہوں گا، پھر میرے پاس آ کر بات کریں گے تو میں یہ کم کر دوں گا۔ لیکن میں یہ ہرگز نہیں ہونے دوں گا کہ آپ ایک دوسرے پر ایٹمی ہتھیار چلائیں، لاکھوں لوگ مارے جائیں اور ایٹمی گرد لاس اینجلس تک پہنچ جائے۔ میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کہا ہمیں یہ پسند نہیں۔ میں نے کہا مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کو پسند ہے یا نہیں۔ میں تیار تھا، میں نے 350 فیصد ٹیرف کی بات کی تاکہ یہ جنگ رک جائے۔ اگر آپ نہیں رکتے تو تجارت ختم، اگر رک جاتے ہیں تو اچھی تجارتی ڈیل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے کہا کہ کوئی اور صدر ایسا نہ کرتا۔ انہوں نے جو بائیڈن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کن ممالک کی بات ہو رہی ہے، اور دنیا تباہ ہو جاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے مطابق انہوں نے کئی تنازعات ٹیرف اور تجارت کے ذریعے حل کیے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ میں سے پانچ جنگیں اقتصادی دباؤ اور ٹیرف کی وجہ سے ختم ہوئیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں فون کر کے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ نے لاکھوں جانیں بچائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے بھی فون آیا جس میں کہا گیا کہ ہم جنگ کی طرف نہیں جا رہے، اور معاملہ ختم ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کو ایٹمی جنگ کی جانب بڑھنے سے روکا تھا اور اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کو بھاری تجارتی جرمانوں کی دھمکی دی تھی۔</strong></p>
<p>ان کے یہ ریمارکس اس واقعے کے چند ماہ بعد سامنے آئے ہیں جب مئی 2025 میں پاکستان نے بھارت کے سات جنگی طیارے مار گرائے تھے، جن میں تین رافیل طیارے بھی شامل تھے۔</p>
<p>واشنگٹن میں سعودی سرمایہ کاری کانفرنس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کشیدگی کے ایک شدید دور میں نئی دہلی اور اسلام آباد کو سخت معاشی نتائج سے خبردار کیا تھا۔ ان کے بقول: “میں مختلف جنگوں کی بات کر رہا تھا، اور دیکھیں بھارت اور پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ ایک دوسرے پر چڑھائی کرنے والے تھے۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے آپ لڑیں، لیکن میں دونوں ملکوں پر 350 فیصد ٹیرف لگا دوں گا، امریکا کے ساتھ کوئی تجارت نہیں ہوگی۔ ٹرمپ کے مطابق دونوں فریقین نے جواب دیا، نہیں، نہیں، آپ ایسا نہیں کر سکتے۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ میں نے کہا میں یہ کر کے رہوں گا، پھر میرے پاس آ کر بات کریں گے تو میں یہ کم کر دوں گا۔ لیکن میں یہ ہرگز نہیں ہونے دوں گا کہ آپ ایک دوسرے پر ایٹمی ہتھیار چلائیں، لاکھوں لوگ مارے جائیں اور ایٹمی گرد لاس اینجلس تک پہنچ جائے۔ میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کہا ہمیں یہ پسند نہیں۔ میں نے کہا مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کو پسند ہے یا نہیں۔ میں تیار تھا، میں نے 350 فیصد ٹیرف کی بات کی تاکہ یہ جنگ رک جائے۔ اگر آپ نہیں رکتے تو تجارت ختم، اگر رک جاتے ہیں تو اچھی تجارتی ڈیل ہوگی۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے کہا کہ کوئی اور صدر ایسا نہ کرتا۔ انہوں نے جو بائیڈن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کن ممالک کی بات ہو رہی ہے، اور دنیا تباہ ہو جاتی۔</p>
<p>ٹرمپ کے مطابق انہوں نے کئی تنازعات ٹیرف اور تجارت کے ذریعے حل کیے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ میں سے پانچ جنگیں اقتصادی دباؤ اور ٹیرف کی وجہ سے ختم ہوئیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں فون کر کے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ نے لاکھوں جانیں بچائیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے بھی فون آیا جس میں کہا گیا کہ ہم جنگ کی طرف نہیں جا رہے، اور معاملہ ختم ہو گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279593</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Nov 2025 09:36:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (این این آئی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/210934310e2f4c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/210934310e2f4c0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
