<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 20:44:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 20:44:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بحران کا شکار پی آئی اے، حکومت کا 75 فیصد حصص نجی شعبے کو فروخت کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279589/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک انتہائی اہم فیصلہ کن اقدام میں وزیراعظم شہباز شریف کو جمعرات کے روز بحران کا شکار پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی فوری نجکاری سے آگاہ کیا گیا، جس کے تحت قومی فضائی کمپنی کے  75 فیصد شیئرز نجی خریداروں کو فروخت کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں حکام نے پی آئی اے کی نجکاری کا تفصیلی منصوبہ پیش کیا، جس میں اب تک کی پیش رفت اور آئندہ اقدامات کی وضاحت کی گئی۔ ایک اہم شرط یہ بھی بتائی گئی کہ فروخت کے باوجود پی آئی اے کا نام اور برانڈنگ تبدیل نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی کہ نجکاری کا عمل اپنے انتہائی اہم بولی مرحلے میں داخل ہونے والا ہے، جہاں ایئرلائن کی آئندہ ملکیت کا فیصلہ ہوگا۔ حکام نے بتایا کہ بولی کے عمل میں شرکت کے لیے 4 فریق پہلے ہی پری کوالیفائی ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پی آئی اے کے لیے ایک جامع کاروباری منصوبہ بھی پیش کیا گیا، جس کے تحت بیڑے میں نمایاں توسیع کی جائے گی۔ قابلِ پرواز طیاروں کی تعداد 18 سے بڑھا کر 2029 تک 38 کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئرلائن کا روٹ نیٹ ورک، جو اس وقت 30 سے زائد شہروں کو سروس فراہم کر رہا ہے، اسے بھی 2029 تک 40 سے زائد شہروں تک توسیع دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے نجکاری کے عمل کو تیزی اور شفافیت کے ساتھ مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پی آئی اے کی طویل المدتی بقا کو یقینی بنانے کے لیے ایک نہایت اہم قدم ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ عمل بغیر کسی تاخیر کے مکمل ہو جبکہ ایئرلائن کی آپریشنل صلاحیتوں میں بھی نمایاں بہتری لائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ قابلِ پرواز طیاروں کی تعداد میں اضافہ اور پروازوں کی بروقت روانگی کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے، کیونکہ یہ مسائل طویل عرصے سے ایئرلائن کی کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے آپریشنل اصلاحات کی بھی ضرورت پر زور دیا، خصوصاً پروازوں کی وقت کی پابندی اور بیڑے کی تیاری کے حوالے سے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان چیلنجز سے نمٹنا پی آئی اے کی ساکھ کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پیش کیے گئے بزنس پلان کے مطابق بیڑے کو جدید بنانے اور سروس کے معیار کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ توسیع شدہ بیڑے اور وسیع روٹ نیٹ ورک کے ساتھ پی آئی اے خطے کی ایوی ایشن مارکیٹ میں ایک مضبوط حریف کے طور پر خود کو منوانے کا ہدف رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں اہم وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جن میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب اور وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی سمیت دیگر سینئر حکام شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک انتہائی اہم فیصلہ کن اقدام میں وزیراعظم شہباز شریف کو جمعرات کے روز بحران کا شکار پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی فوری نجکاری سے آگاہ کیا گیا، جس کے تحت قومی فضائی کمپنی کے  75 فیصد شیئرز نجی خریداروں کو فروخت کیے جانے کا امکان ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں حکام نے پی آئی اے کی نجکاری کا تفصیلی منصوبہ پیش کیا، جس میں اب تک کی پیش رفت اور آئندہ اقدامات کی وضاحت کی گئی۔ ایک اہم شرط یہ بھی بتائی گئی کہ فروخت کے باوجود پی آئی اے کا نام اور برانڈنگ تبدیل نہیں کی جائے گی۔</p>
<p>وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی کہ نجکاری کا عمل اپنے انتہائی اہم بولی مرحلے میں داخل ہونے والا ہے، جہاں ایئرلائن کی آئندہ ملکیت کا فیصلہ ہوگا۔ حکام نے بتایا کہ بولی کے عمل میں شرکت کے لیے 4 فریق پہلے ہی پری کوالیفائی ہو چکے ہیں۔</p>
<p>اجلاس میں پی آئی اے کے لیے ایک جامع کاروباری منصوبہ بھی پیش کیا گیا، جس کے تحت بیڑے میں نمایاں توسیع کی جائے گی۔ قابلِ پرواز طیاروں کی تعداد 18 سے بڑھا کر 2029 تک 38 کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>ایئرلائن کا روٹ نیٹ ورک، جو اس وقت 30 سے زائد شہروں کو سروس فراہم کر رہا ہے، اسے بھی 2029 تک 40 سے زائد شہروں تک توسیع دی جائے گی۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے نجکاری کے عمل کو تیزی اور شفافیت کے ساتھ مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پی آئی اے کی طویل المدتی بقا کو یقینی بنانے کے لیے ایک نہایت اہم قدم ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ عمل بغیر کسی تاخیر کے مکمل ہو جبکہ ایئرلائن کی آپریشنل صلاحیتوں میں بھی نمایاں بہتری لائی جائے۔</p>
<p>انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ قابلِ پرواز طیاروں کی تعداد میں اضافہ اور پروازوں کی بروقت روانگی کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے، کیونکہ یہ مسائل طویل عرصے سے ایئرلائن کی کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں۔</p>
<p>نجکاری کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے آپریشنل اصلاحات کی بھی ضرورت پر زور دیا، خصوصاً پروازوں کی وقت کی پابندی اور بیڑے کی تیاری کے حوالے سے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان چیلنجز سے نمٹنا پی آئی اے کی ساکھ کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p>اجلاس میں پیش کیے گئے بزنس پلان کے مطابق بیڑے کو جدید بنانے اور سروس کے معیار کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ توسیع شدہ بیڑے اور وسیع روٹ نیٹ ورک کے ساتھ پی آئی اے خطے کی ایوی ایشن مارکیٹ میں ایک مضبوط حریف کے طور پر خود کو منوانے کا ہدف رکھتی ہے۔</p>
<p>اجلاس میں اہم وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جن میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب اور وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی سمیت دیگر سینئر حکام شامل تھے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279589</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Nov 2025 08:58:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/21085434bc76285.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/21085434bc76285.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
