<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم شہباز کی یقین دہانی: نجکاری کے بعد بھی پی آئی اے کا نام اور شناخت برقرار رہے گی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279587/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے جبکہ یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ قومی ایئرلائن کا نام اور تھیم نجکاری کے بعد تبدیل نہیں کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم ہاؤس میں پی آئی اے کی تنظیمِ نو اور فروخت کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نجکاری کے تمام مراحل “تیزی اور مکمل شفافیت” کے ساتھ مکمل کیے جائیں، جیسا کہ وزیراعظم آفس (پی ایم او) کے بیان میں کہا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ پی آئی اے کے بیڑے میں قابلِ پرواز طیاروں کی تعداد بڑھانے اور پروازوں کی بروقت روانگی یقینی بنانے کے لیے منصوبہ تیار کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ بولی کے مرحلے کے لیے چار فریق پہلے ہی پری کوالیفائی ہو چکے ہیں، جس کا آغاز جلد متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریفنگ کے مطابق پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز نجکاری کے لیے رکھے جائیں گے، اور معاہدے میں یہ شرط شامل ہوگی کہ ایئرلائن کا نام، برانڈنگ اور تھیم فروخت کے بعد بھی برقرار رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیش کیے گئے بزنس پلان کے مطابق پی آئی اے کے قابلِ پرواز طیاروں کی موجودہ تعداد 18 ہے جسے 2029 تک بڑھا کر 38 کر دیا جائے گا۔ قومی ایئرلائن اس وقت 30 سے زائد شہروں کو سروس فراہم کر رہی ہے اور 2029 تک اپنے روٹ نیٹ ورک کو 40 سے زیادہ مقامات تک وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل چیئرمین پرائیویٹائزیشن کمیشن محمد علی نے کہا تھا کہ حکومت رواں سال کے اندر پی آئی اے کی فروخت مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، لیکن ممکنہ خریداروں کو کسی قسم کی گارنٹی فراہم نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج نیوز کے پروگرام &lt;em&gt;نیوز انسائٹ ود عامر ضیا&lt;/em&gt; میں گفتگو کرتے ہوئے علی نے کہا کہ آئی ایم ایف نے اس سودے پر سیلز ٹیکس کے خاتمے کی منظوری دے دی ہے تاہم سرمایہ کاروں کو دیگر قسم کی یقین دہانیاں نہیں دی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ “حکومتیں بدلتی رہتی ہیں اور ایئرلائنز یا کاروبار چلانا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری نہیں ہوتی۔”&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے جبکہ یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ قومی ایئرلائن کا نام اور تھیم نجکاری کے بعد تبدیل نہیں کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>وزیراعظم ہاؤس میں پی آئی اے کی تنظیمِ نو اور فروخت کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نجکاری کے تمام مراحل “تیزی اور مکمل شفافیت” کے ساتھ مکمل کیے جائیں، جیسا کہ وزیراعظم آفس (پی ایم او) کے بیان میں کہا گیا۔</p>
<p>انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ پی آئی اے کے بیڑے میں قابلِ پرواز طیاروں کی تعداد بڑھانے اور پروازوں کی بروقت روانگی یقینی بنانے کے لیے منصوبہ تیار کیا جائے۔</p>
<p>اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ بولی کے مرحلے کے لیے چار فریق پہلے ہی پری کوالیفائی ہو چکے ہیں، جس کا آغاز جلد متوقع ہے۔</p>
<p>بریفنگ کے مطابق پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز نجکاری کے لیے رکھے جائیں گے، اور معاہدے میں یہ شرط شامل ہوگی کہ ایئرلائن کا نام، برانڈنگ اور تھیم فروخت کے بعد بھی برقرار رہے گا۔</p>
<p>پیش کیے گئے بزنس پلان کے مطابق پی آئی اے کے قابلِ پرواز طیاروں کی موجودہ تعداد 18 ہے جسے 2029 تک بڑھا کر 38 کر دیا جائے گا۔ قومی ایئرلائن اس وقت 30 سے زائد شہروں کو سروس فراہم کر رہی ہے اور 2029 تک اپنے روٹ نیٹ ورک کو 40 سے زیادہ مقامات تک وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل چیئرمین پرائیویٹائزیشن کمیشن محمد علی نے کہا تھا کہ حکومت رواں سال کے اندر پی آئی اے کی فروخت مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، لیکن ممکنہ خریداروں کو کسی قسم کی گارنٹی فراہم نہیں کی جائے گی۔</p>
<p>آج نیوز کے پروگرام <em>نیوز انسائٹ ود عامر ضیا</em> میں گفتگو کرتے ہوئے علی نے کہا کہ آئی ایم ایف نے اس سودے پر سیلز ٹیکس کے خاتمے کی منظوری دے دی ہے تاہم سرمایہ کاروں کو دیگر قسم کی یقین دہانیاں نہیں دی جائیں گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ “حکومتیں بدلتی رہتی ہیں اور ایئرلائنز یا کاروبار چلانا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری نہیں ہوتی۔”</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279587</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 21:47:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/2021135238558f3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/2021135238558f3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
