<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 15:24:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 15:24:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دہلی کار دھماکا ، 3 ڈاکٹر ز سمیت مزید چار افراد گرفتار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279585/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کی انسداد دہشتگردی ایجنسی نے  بتایا کہ اس نے دہلی میں گزشتہ ہفتے ہونے والے مہلک کار دھماکے  میں ملوث مزید چار افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں تین ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دہلی میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں ہونے والا پہلا ایسا حملہ تھا۔یہ کار بم دھماکہ 10 نومبر کو تاریخی ریڈ فورٹ کے باہر ہوا، جس میں 10 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی تحقیقات ایجنسی (این آئی اے)کے مطابق چار  اہم ملزمان میں ڈاکٹر مزمل شکیل گنائی، ڈاکٹر عدیل احمد راﺅتر، مفتی عرفان احمد وگے شامل ہیں، جو مضبوضہ کشمیر  سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ ڈاکٹر شاہین سعید شمالی شہر لکھنؤ سے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ  یہ سب دہشتگرد حملے میں اہم کردار ادا کر چکے تھے ، تاہم ان کے مبینہ کردار کی مزید تفصیل نہیں دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گنائی، راﺅتر اور وگے پہلے ہی  کشمیر پولیس کی حراست میں تھے، جنہوں نے کہا تھا کہ یہ افراد ایک دہشتگرد یونٹ کا حصہ ہیں۔ ان کے اہل خانہ نے اس وقت اس الزام کی تردید کی اور کہا کہ وہ بے گناہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہین سعید کے بھائی نے جمعرات کو رائٹرز کے تبصرے کے لیے جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کی انسداد دہشتگردی ایجنسی نے  بتایا کہ اس نے دہلی میں گزشتہ ہفتے ہونے والے مہلک کار دھماکے  میں ملوث مزید چار افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں تین ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔</strong></p>
<p>یہ دہلی میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں ہونے والا پہلا ایسا حملہ تھا۔یہ کار بم دھماکہ 10 نومبر کو تاریخی ریڈ فورٹ کے باہر ہوا، جس میں 10 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہو گئے۔</p>
<p>قومی تحقیقات ایجنسی (این آئی اے)کے مطابق چار  اہم ملزمان میں ڈاکٹر مزمل شکیل گنائی، ڈاکٹر عدیل احمد راﺅتر، مفتی عرفان احمد وگے شامل ہیں، جو مضبوضہ کشمیر  سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ ڈاکٹر شاہین سعید شمالی شہر لکھنؤ سے ہیں۔</p>
<p>ایجنسی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ  یہ سب دہشتگرد حملے میں اہم کردار ادا کر چکے تھے ، تاہم ان کے مبینہ کردار کی مزید تفصیل نہیں دی گئی۔</p>
<p>گنائی، راﺅتر اور وگے پہلے ہی  کشمیر پولیس کی حراست میں تھے، جنہوں نے کہا تھا کہ یہ افراد ایک دہشتگرد یونٹ کا حصہ ہیں۔ ان کے اہل خانہ نے اس وقت اس الزام کی تردید کی اور کہا کہ وہ بے گناہ ہیں۔</p>
<p>شاہین سعید کے بھائی نے جمعرات کو رائٹرز کے تبصرے کے لیے جواب نہیں دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279585</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 19:27:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/20192012bbd88a5.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/20192012bbd88a5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
