<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:34:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:34:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دارالحکومت کی منتقلی ضروری ، وہاں آبادی بہت زیادہ ، آبی بحران بھی ہے ، ایرانی صدر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279584/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی صدر  مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ملکی دارالحکومت کو تہران سے منتقل کرنا ضروری ہے کیونکہ یہاں آبادی بہت زیادہ ہے اور پانی کا بحران شدید ہو چکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر پزیشکیان  نے اس سے قبل بھی دارالحکومت کی منتقلی کے خیال کو اجاگر کیا تھا، اس سال تہران میں بارش کی سطح صدی کے نچلے ترین درجے پر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر نے کہا کہ ہمیں کوئی چارہ نہیں ہے، یہ منتقلی ضروری ہے،  ہم اس علاقے کو مزید آبادی اور تعمیرات سے بوجھل نہیں کر سکتے۔ ہم ترقی کر سکتے ہیں، لیکن پانی کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی صدر نے خبردار کیا کہ موجودہ دارالحکومت کو بارش کے بغیر سردیوں سے پہلے خالی کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم تفصیل سے کچھ نہیں بتایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران البرز پہاڑوں کی جنوبی ڈھلانوں پر واقع ہے اور یہاں گرمیوں میں شدید خشک اور گرم موسم رہتا ہے، جو خزاں کی بارشوں اور سردیوں کی برفباری سے کچھ حد تک کم ہوتا ہے۔ اس سال پہاڑوں کی چوٹیوں پر بھی برف نہیں جمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبی  قلت کے پیش نظر حکومت نے تہران کی 10 ملین کی آبادی کے لیے پانی کی فراہمی وقتی طور پر محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر پزشکیان کے خالی کرانے کے خیال پر مقامی میڈیا میں تنقید ہوئی اور اصلاح پسند اخبار ہم میہان نے اس کو  مذاق  قرار دیا۔ بعد میں حکومت نے وضاحت کی کہ صدر صرف رہائشیوں کو خبردار کرنا چاہتے تھے، ان کا مقصد  کوئی منصوبہ پیش کرنا نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے حکام نے بارش پیدا کرنے کے لیے کلاؤڈ سیڈنگ آپریشنز شروع کیے۔ صدر نے ٹریفک جام، پانی کی کمی، وسائل کے ناقص انتظام اور فضائی آلودگی کو دارالحکومت کی منتقلی کی اہم وجوہات قرار دیا۔جنوری میں حکومت نے مکران کے کم ترقی یافتہ علاقے میں ممکنہ منتقلی کا مطالعہ شروع کیا، تاہم اس تجویز پر بھی تنقید ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی صدر  مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ملکی دارالحکومت کو تہران سے منتقل کرنا ضروری ہے کیونکہ یہاں آبادی بہت زیادہ ہے اور پانی کا بحران شدید ہو چکا ہے۔</strong></p>
<p>صدر پزیشکیان  نے اس سے قبل بھی دارالحکومت کی منتقلی کے خیال کو اجاگر کیا تھا، اس سال تہران میں بارش کی سطح صدی کے نچلے ترین درجے پر رہی۔</p>
<p>صدر نے کہا کہ ہمیں کوئی چارہ نہیں ہے، یہ منتقلی ضروری ہے،  ہم اس علاقے کو مزید آبادی اور تعمیرات سے بوجھل نہیں کر سکتے۔ ہم ترقی کر سکتے ہیں، لیکن پانی کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے۔</p>
<p>ایرانی صدر نے خبردار کیا کہ موجودہ دارالحکومت کو بارش کے بغیر سردیوں سے پہلے خالی کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم تفصیل سے کچھ نہیں بتایا۔</p>
<p>تہران البرز پہاڑوں کی جنوبی ڈھلانوں پر واقع ہے اور یہاں گرمیوں میں شدید خشک اور گرم موسم رہتا ہے، جو خزاں کی بارشوں اور سردیوں کی برفباری سے کچھ حد تک کم ہوتا ہے۔ اس سال پہاڑوں کی چوٹیوں پر بھی برف نہیں جمی ہے۔</p>
<p>آبی  قلت کے پیش نظر حکومت نے تہران کی 10 ملین کی آبادی کے لیے پانی کی فراہمی وقتی طور پر محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔</p>
<p>صدر پزشکیان کے خالی کرانے کے خیال پر مقامی میڈیا میں تنقید ہوئی اور اصلاح پسند اخبار ہم میہان نے اس کو  مذاق  قرار دیا۔ بعد میں حکومت نے وضاحت کی کہ صدر صرف رہائشیوں کو خبردار کرنا چاہتے تھے، ان کا مقصد  کوئی منصوبہ پیش کرنا نہیں تھا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے حکام نے بارش پیدا کرنے کے لیے کلاؤڈ سیڈنگ آپریشنز شروع کیے۔ صدر نے ٹریفک جام، پانی کی کمی، وسائل کے ناقص انتظام اور فضائی آلودگی کو دارالحکومت کی منتقلی کی اہم وجوہات قرار دیا۔جنوری میں حکومت نے مکران کے کم ترقی یافتہ علاقے میں ممکنہ منتقلی کا مطالعہ شروع کیا، تاہم اس تجویز پر بھی تنقید ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279584</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 19:18:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/2019061311390fa.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/2019061311390fa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
