<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>27 ویں ترمیم ، سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس نے اجتماعی استعفے کی تجویز مسترد کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279568/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ کے اکثریتی ججز نے 14 نومبر کو ایک فل کورٹ اجلاس میں اجتماعی استعفے دینے کی تجویز کو مسترد کر دیا۔ آج نیوز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ یہ اجلاس 27ویں آئینی ترمیم کے عدالتی اختیارات پر اثرات پر تبادلۂ خیال کے لیے بلایا گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر مملکت آصف علی زرداری نے 13 نومبر کو پارلیمنٹ سے منظور ہونے کے بعد  طویل بحث کے بعد 27ویں آئینی ترمیم پر دستخط کیے، جس پر حزب اختلاف نے احتجاج کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں آیا ہے، جو آئینی معاملات کا جائزہ لے گی، تاہم اس کے ساتھ کی گئی دیگر ترامیم کی وجہ سے سپریم کورٹ کے اختیارات میں کمی پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو سینئر ججز نے ترمیم کے قانون بننے کے ایک دن بعد استعفیٰ دے دیا، کیونکہ وہ اس قانون کو آئین کے خلاف اور عدلیہ کی آزادی کے لیے نقصان دہ سمجھتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت  فل کورٹ اجلاس میں 13 ججز شریک ہوئے، جبکہ جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس مسرت ہلالی بیماری یا ذاتی مصروفیات کے باعث غیر حاضر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ججز نے اس معاملے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا کہ کس طرح یہ ترمیم سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرتی ہے۔ کچھ اراکین نے یہ تجویز دی کہ عدالت اجتماعی طور پر استعفیٰ دے کر پارلیمنٹ کو مزید قانون سازی سے روک دے، لیکن یہ تجویز متفقہ حمایت حاصل نہ کر سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس  یحییٰ آفریدی   نے  خبردار کیا کہ ججز کو ایسے معاملات حکومت یا اداروں کو خطوط لکھنے کی بجائے براہِ راست بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ عدالت کے پاس قانون کا جائزہ لینے کا آئینی اختیار موجود ہے، لیکن یہ اختیار صرف قانون بننے کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے، لہٰذا پارلیمنٹ کو پیشگی طور پر قانون سازی سے روکنا عدالت کے دائرۂ اختیار میں نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں حالیہ استعفیٰ دینے والے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اختر من اللہ کے استعفے پر بھی غور کیا گیا اور چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں پہلے سے مشورہ کرنا چاہیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اجلاس کا ماحول سنگین اور کشیدہ رہا، ججز نے مضبوط ادارتی ردعمل کی ضرورت پر زور دیا اور عدلیہ کی غیرجانبداری اور مؤثر کارکردگی کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری کو دہرایا۔ اجلاس بغیر کسی متفقہ فیصلے کے ختم ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ کے اکثریتی ججز نے 14 نومبر کو ایک فل کورٹ اجلاس میں اجتماعی استعفے دینے کی تجویز کو مسترد کر دیا۔ آج نیوز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ یہ اجلاس 27ویں آئینی ترمیم کے عدالتی اختیارات پر اثرات پر تبادلۂ خیال کے لیے بلایا گیا تھا۔</strong></p>
<p>صدر مملکت آصف علی زرداری نے 13 نومبر کو پارلیمنٹ سے منظور ہونے کے بعد  طویل بحث کے بعد 27ویں آئینی ترمیم پر دستخط کیے، جس پر حزب اختلاف نے احتجاج کیا تھا۔</p>
<p>ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں آیا ہے، جو آئینی معاملات کا جائزہ لے گی، تاہم اس کے ساتھ کی گئی دیگر ترامیم کی وجہ سے سپریم کورٹ کے اختیارات میں کمی پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔</p>
<p>دو سینئر ججز نے ترمیم کے قانون بننے کے ایک دن بعد استعفیٰ دے دیا، کیونکہ وہ اس قانون کو آئین کے خلاف اور عدلیہ کی آزادی کے لیے نقصان دہ سمجھتے تھے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت  فل کورٹ اجلاس میں 13 ججز شریک ہوئے، جبکہ جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس مسرت ہلالی بیماری یا ذاتی مصروفیات کے باعث غیر حاضر رہے۔</p>
<p>ججز نے اس معاملے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا کہ کس طرح یہ ترمیم سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرتی ہے۔ کچھ اراکین نے یہ تجویز دی کہ عدالت اجتماعی طور پر استعفیٰ دے کر پارلیمنٹ کو مزید قانون سازی سے روک دے، لیکن یہ تجویز متفقہ حمایت حاصل نہ کر سکی۔</p>
<p>چیف جسٹس  یحییٰ آفریدی   نے  خبردار کیا کہ ججز کو ایسے معاملات حکومت یا اداروں کو خطوط لکھنے کی بجائے براہِ راست بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ عدالت کے پاس قانون کا جائزہ لینے کا آئینی اختیار موجود ہے، لیکن یہ اختیار صرف قانون بننے کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے، لہٰذا پارلیمنٹ کو پیشگی طور پر قانون سازی سے روکنا عدالت کے دائرۂ اختیار میں نہیں ہے۔</p>
<p>اجلاس میں حالیہ استعفیٰ دینے والے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اختر من اللہ کے استعفے پر بھی غور کیا گیا اور چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں پہلے سے مشورہ کرنا چاہیے تھا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق اجلاس کا ماحول سنگین اور کشیدہ رہا، ججز نے مضبوط ادارتی ردعمل کی ضرورت پر زور دیا اور عدلیہ کی غیرجانبداری اور مؤثر کارکردگی کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری کو دہرایا۔ اجلاس بغیر کسی متفقہ فیصلے کے ختم ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279568</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 13:48:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/201327144b241bc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/201327144b241bc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
