<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 11:14:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 11:14:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حقیقت سے ہٹ کر پیش گوئی کرنا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279564/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بجلی شعبے کے منصوبہ سازوں نے سال 2026 کے لیے جو پیش کیا ہے وہ کسی روڈ میپ کی شکل نہیں بلکہ ایک وارننگ ہے کہ سرکاری ماڈلنگ کس حد تک اس معیشت سے کٹ گئی ہے جس کی خدمت اسے کرنی چاہیے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹیڈ (سی پی پی اے جی) کی تیار کردہ 5 پاور پرچیز پرائس (پی پی پی) کے منظرنامے، جن پر اب ایف پی سی سی آئی نے بھی سوال اٹھایا ہے، ایسے مفروضوں پر مبنی ہیں جو زمینی حالات سے بہت کم مطابقت رکھتے ہیں۔ یہ کسی بھی سال میں تشویش کا باعث ہوتا لیکن موجودہ افورڈیبیلٹی بحران اور صنعتی بنیاد کے بیچ، یہ تقریباً شرمناک ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیمبر کا بنیادی اعتراض سادہ ہے۔ سی پی پی اے-جی ایسی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی طلب کی پیش گوئی کر رہا ہے جہاں طلب واضح طور پر کم ہورہی ہے۔ بلند ٹیرف، صنعتی پیداوار میں کمی، فیکٹریوں کی بندش اور چھتوں پر سولر اور کیپٹیو جنریشن کی طرف تیز منتقلی پہلے ہی بجلی کی کھپت کو کم کر چکی ہے۔ اس زوال کے اوپر خوش فہمی پر مبنی نمو کے مفروضے رکھنا منصوبہ بندی نہیں بلکہ خواہش پرستی ہے، جو ٹیرف میں بگاڑ پیدا کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج حالیہ تاریخ میں پہلے ہی نظر آچکے ہیں۔ ماضی کے پاور پرچیز کے حسابات میں سولر کے اثرات یا اصل طلب کے رویے کو مناسب طور پر شامل نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس میں شدید اتار چڑھاؤ آیا جو فی یونٹ   منفی 1.80 روپے سے  مثبت 0.50  روپے تک پہنچ گیا، جب طلب کا اندازہ زیادہ لگایا جاتا ہے تو مقررہ پیداواری لاگت کم یونٹس سے وصول کی جاتی ہے جس سے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس خود بخود بڑھ جاتی ہیں۔ وفاقی چیمبر کی وارننگ واضح ہے کہ اگر سولر کی بڑھوتری کو نظر انداز کیا جاتا رہا، تو نظام مزید غیر متوقع اضافی چارجز پیدا کرے گا، استحکام نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیمبر نے اس ظاہری ریلیف کے رجحان کی بھی نشاندہی کی ہے۔ بنیادی ٹیرف میں وقتی کٹوتیاں، جب کہ اصل پیداواری لاگت میں کوئی حقیقی کمی نہ ہو، بعد میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس میں دوبارہ ظاہر ہوجاتی ہیں۔ یہ طریقہ کار برسوں سے دہرایا جارہا ہے اور کبھی بھی وہ ساختی کمزوریاں دور نہیں کیں جو ٹیرف کو مسلسل بڑھاتی رہتی ہیں۔ عارضی ریلیف مشکل فیصلوں کو مؤخر کرنے کا ایک طریقہ بن چکا ہے اور صارفین آخرکار اس کا حساب ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی یونٹ 22.98 روپے کے اضافی پیکج اس مسئلے کی عکاسی کرتی ہے۔ وفاقی چیمبر کے مطابق صنعت نے اسے مسترد کر دیا کیونکہ یہ اصل کھپت کے رجحانات کی عکاسی نہیں کرتا۔ یہ کیپٹیو صارفین اور غیر کیپٹیو صارفین کے لیے تضاد پیدا کرتا ہے، لوڈ بڑھانے کے معاملات کو پیچیدہ بناتا ہے اور وہ افراد جو کیٹیگری تبدیل کرنا چاہتے ہیں ، ان کیلئے الجھن پیدا کرتا ہے۔ اگر اضافی یونٹس حقیقت میں پیدا نہ ہوں کیونکہ معیار غیر حقیقی ہیں، تو پاور پرچیز پرائس اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس دوبارہ بڑھ جائیں گے۔ چیمبر کسی خاص رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہا، وہ ایک یکساں اور منطقی فریم ورک کا مطالبہ کررہا ہے جو اس بات سے مطابقت رکھتا ہو کہ صنعت حقیقت میں بجلی کو کیسے استعمال کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کہ پیش گوئی کے بنیادی اوزار بھی پرانے ہو چکے ہیں۔ کنزیومر سروس مینول میں لوڈ فیکٹرز غیر حقیقی ہوگئے ہیں، خاص طور پر ایک ایسی معیشت میں جہاں سست روی ہے اور سولر حل وسیع پیمانے پر اختیار کیے جا رہے ہیں۔ ایف پی سی سی آئی نے تمام صنعتوں میں 40 فیصد لوڈ فیکٹر تجویز کیا ہے تاکہ طلب کے حسابات حقیقت کے قریب لائے جا سکیں۔ اگر ریگولیٹرز پرانے مفروضوں پر انحصار جاری رکھیں گے، تو وہ ایسے ٹیرف تیار کرتے رہیں گے جو نہ صرف پیدا کنندگان بلکہ صارفین کو بھی نقصان پہنچائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت کی طرف سے دیا گیا متبادل سیدھا ہے۔ انکریمنٹل پیکیج پر نظر ثانی کی جائے، پاور پرچیز کے ڈیزائن کو ایڈجسٹ کیا جائے اور طلب کی حوصلہ افزائی کو نعرے کے بجائے ایک سنجیدہ پالیسی ہدف کے طور پر لیا جائے۔ چیمبر کا مؤقف ہے کہ اگر ٹیرف کو ایسی سطح پر لایا جائے جو مسابقتی صلاحیت  کو بحال کرے، تو صنعت دوبارہ کھپت بڑھانے کے لیے تیار ہے، اس کے نتیجے میں فکسڈ کیپیسٹی کاسٹ کو زیادہ یونٹس پر تقسیم کرنا ممکن ہو جائے گا جو پاور پرچیز پرائس کو کم کرنے کا واحد پائیدار طریقہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں غلطی کرنے کی لاگت محض نظریاتی نہیں ہے۔ ایف پی سی سی آئی کی اپنی حساسیتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر اصل طلب تخمینوں سے محض 5 فیصد کم ہو تو کیپیسٹی چارجز تقریباً فی یونٹ 1.40 سے 1.80 روپے بڑھ سکتے ہیں جبکہ 10 فیصد فرق انہیں فی یونٹ 3.00 روپے سے زیادہ تک پہنچا سکتا ہے۔ یہ اضافے براہِ راست سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس میں اور پھر صارف کے بل میں شامل ہو جاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں پیش گوئی کی غلطی کے ہر فیصد پوائنٹ کی ایک قیمت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹر بار بار اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی بات کرتا رہا ہے لیکن صنعت کا کہنا ہے کہ اسے بامعنی طور پر نہیں سنا گیا۔ یہ خلا موجودہ تنازعہ کی بنیاد میں ہے۔ جب تک ٹیرف کا ڈیزائن حقیقی طور پر ڈیٹا پر مبنی، شفاف اور فیکٹریوں، کاروباروں اور گھروں کے حقیقی رویوں پر مبنی نہیں ہوگا،سی پی پی اے جی کے منظرنامے محض نظریاتی مشقیں رہیں گے۔ ملک مزید ایک ایسا سال برداشت نہیں کر سکتا جس میں صارفین منصوبہ بندی کی غلطیوں کی قیمت ادا کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بجلی شعبے کے منصوبہ سازوں نے سال 2026 کے لیے جو پیش کیا ہے وہ کسی روڈ میپ کی شکل نہیں بلکہ ایک وارننگ ہے کہ سرکاری ماڈلنگ کس حد تک اس معیشت سے کٹ گئی ہے جس کی خدمت اسے کرنی چاہیے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹیڈ (سی پی پی اے جی) کی تیار کردہ 5 پاور پرچیز پرائس (پی پی پی) کے منظرنامے، جن پر اب ایف پی سی سی آئی نے بھی سوال اٹھایا ہے، ایسے مفروضوں پر مبنی ہیں جو زمینی حالات سے بہت کم مطابقت رکھتے ہیں۔ یہ کسی بھی سال میں تشویش کا باعث ہوتا لیکن موجودہ افورڈیبیلٹی بحران اور صنعتی بنیاد کے بیچ، یہ تقریباً شرمناک ہے۔</strong></p>
<p>چیمبر کا بنیادی اعتراض سادہ ہے۔ سی پی پی اے-جی ایسی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی طلب کی پیش گوئی کر رہا ہے جہاں طلب واضح طور پر کم ہورہی ہے۔ بلند ٹیرف، صنعتی پیداوار میں کمی، فیکٹریوں کی بندش اور چھتوں پر سولر اور کیپٹیو جنریشن کی طرف تیز منتقلی پہلے ہی بجلی کی کھپت کو کم کر چکی ہے۔ اس زوال کے اوپر خوش فہمی پر مبنی نمو کے مفروضے رکھنا منصوبہ بندی نہیں بلکہ خواہش پرستی ہے، جو ٹیرف میں بگاڑ پیدا کرے گی۔</p>
<p>نتائج حالیہ تاریخ میں پہلے ہی نظر آچکے ہیں۔ ماضی کے پاور پرچیز کے حسابات میں سولر کے اثرات یا اصل طلب کے رویے کو مناسب طور پر شامل نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس میں شدید اتار چڑھاؤ آیا جو فی یونٹ   منفی 1.80 روپے سے  مثبت 0.50  روپے تک پہنچ گیا، جب طلب کا اندازہ زیادہ لگایا جاتا ہے تو مقررہ پیداواری لاگت کم یونٹس سے وصول کی جاتی ہے جس سے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس خود بخود بڑھ جاتی ہیں۔ وفاقی چیمبر کی وارننگ واضح ہے کہ اگر سولر کی بڑھوتری کو نظر انداز کیا جاتا رہا، تو نظام مزید غیر متوقع اضافی چارجز پیدا کرے گا، استحکام نہیں۔</p>
<p>چیمبر نے اس ظاہری ریلیف کے رجحان کی بھی نشاندہی کی ہے۔ بنیادی ٹیرف میں وقتی کٹوتیاں، جب کہ اصل پیداواری لاگت میں کوئی حقیقی کمی نہ ہو، بعد میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس میں دوبارہ ظاہر ہوجاتی ہیں۔ یہ طریقہ کار برسوں سے دہرایا جارہا ہے اور کبھی بھی وہ ساختی کمزوریاں دور نہیں کیں جو ٹیرف کو مسلسل بڑھاتی رہتی ہیں۔ عارضی ریلیف مشکل فیصلوں کو مؤخر کرنے کا ایک طریقہ بن چکا ہے اور صارفین آخرکار اس کا حساب ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>فی یونٹ 22.98 روپے کے اضافی پیکج اس مسئلے کی عکاسی کرتی ہے۔ وفاقی چیمبر کے مطابق صنعت نے اسے مسترد کر دیا کیونکہ یہ اصل کھپت کے رجحانات کی عکاسی نہیں کرتا۔ یہ کیپٹیو صارفین اور غیر کیپٹیو صارفین کے لیے تضاد پیدا کرتا ہے، لوڈ بڑھانے کے معاملات کو پیچیدہ بناتا ہے اور وہ افراد جو کیٹیگری تبدیل کرنا چاہتے ہیں ، ان کیلئے الجھن پیدا کرتا ہے۔ اگر اضافی یونٹس حقیقت میں پیدا نہ ہوں کیونکہ معیار غیر حقیقی ہیں، تو پاور پرچیز پرائس اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس دوبارہ بڑھ جائیں گے۔ چیمبر کسی خاص رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہا، وہ ایک یکساں اور منطقی فریم ورک کا مطالبہ کررہا ہے جو اس بات سے مطابقت رکھتا ہو کہ صنعت حقیقت میں بجلی کو کیسے استعمال کرتی ہے۔</p>
<p>یہاں تک کہ پیش گوئی کے بنیادی اوزار بھی پرانے ہو چکے ہیں۔ کنزیومر سروس مینول میں لوڈ فیکٹرز غیر حقیقی ہوگئے ہیں، خاص طور پر ایک ایسی معیشت میں جہاں سست روی ہے اور سولر حل وسیع پیمانے پر اختیار کیے جا رہے ہیں۔ ایف پی سی سی آئی نے تمام صنعتوں میں 40 فیصد لوڈ فیکٹر تجویز کیا ہے تاکہ طلب کے حسابات حقیقت کے قریب لائے جا سکیں۔ اگر ریگولیٹرز پرانے مفروضوں پر انحصار جاری رکھیں گے، تو وہ ایسے ٹیرف تیار کرتے رہیں گے جو نہ صرف پیدا کنندگان بلکہ صارفین کو بھی نقصان پہنچائیں گے۔</p>
<p>صنعت کی طرف سے دیا گیا متبادل سیدھا ہے۔ انکریمنٹل پیکیج پر نظر ثانی کی جائے، پاور پرچیز کے ڈیزائن کو ایڈجسٹ کیا جائے اور طلب کی حوصلہ افزائی کو نعرے کے بجائے ایک سنجیدہ پالیسی ہدف کے طور پر لیا جائے۔ چیمبر کا مؤقف ہے کہ اگر ٹیرف کو ایسی سطح پر لایا جائے جو مسابقتی صلاحیت  کو بحال کرے، تو صنعت دوبارہ کھپت بڑھانے کے لیے تیار ہے، اس کے نتیجے میں فکسڈ کیپیسٹی کاسٹ کو زیادہ یونٹس پر تقسیم کرنا ممکن ہو جائے گا جو پاور پرچیز پرائس کو کم کرنے کا واحد پائیدار طریقہ ہے۔</p>
<p>اس میں غلطی کرنے کی لاگت محض نظریاتی نہیں ہے۔ ایف پی سی سی آئی کی اپنی حساسیتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر اصل طلب تخمینوں سے محض 5 فیصد کم ہو تو کیپیسٹی چارجز تقریباً فی یونٹ 1.40 سے 1.80 روپے بڑھ سکتے ہیں جبکہ 10 فیصد فرق انہیں فی یونٹ 3.00 روپے سے زیادہ تک پہنچا سکتا ہے۔ یہ اضافے براہِ راست سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس میں اور پھر صارف کے بل میں شامل ہو جاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں پیش گوئی کی غلطی کے ہر فیصد پوائنٹ کی ایک قیمت ہوتی ہے۔</p>
<p>ریگولیٹر بار بار اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی بات کرتا رہا ہے لیکن صنعت کا کہنا ہے کہ اسے بامعنی طور پر نہیں سنا گیا۔ یہ خلا موجودہ تنازعہ کی بنیاد میں ہے۔ جب تک ٹیرف کا ڈیزائن حقیقی طور پر ڈیٹا پر مبنی، شفاف اور فیکٹریوں، کاروباروں اور گھروں کے حقیقی رویوں پر مبنی نہیں ہوگا،سی پی پی اے جی کے منظرنامے محض نظریاتی مشقیں رہیں گے۔ ملک مزید ایک ایسا سال برداشت نہیں کر سکتا جس میں صارفین منصوبہ بندی کی غلطیوں کی قیمت ادا کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279564</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 13:34:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/201333077e4fb1c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/201333077e4fb1c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
