<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریکوڈک کی مالیاتی منظوری قریب ہے، وزیر خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279563/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریکوڈک کان کنی منصوبے کی طویل انتظار شدہ مالیاتی منظوری عنقریب متوقع ہے جس میں اہم بین الاقوامی شراکت دار اپنی شمولیت کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ ریکو ڈیک کے لیے مالیاتی منظوری عملی طور پر قریب ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، آئی ایف سی (انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن) اس کنسورشیم کی قیادت کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اس میں آخری مراحل میں سے ایک یو ایس ایکسِم کا شامل ہونا ہے، کیونکہ وہاں (یو ایس) شٹ ڈاؤن تھا اور اب حکومت دوبارہ سرگرم ہوگئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ یو ایس ایکسِم کی شمولیت اب نسبتاً جلد متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکو ڈک بلوچستان میں واقع ایک وسیع، غیر ترقی یافتہ تانبے اور سونے کا ذخیرہ ہے، جسے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک مانا جاتا ہے۔  منصوبے کی ملکیت 50 فیصد بریک کے پاس ہے، 25 فیصد تین وفاقی سرکاری اداروں کے پاس، اور 25 فیصد حکومت بلوچستان کے پاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ 2028 میں پیداوار شروع کرنے کا ہدف رکھتا ہے اور توقع ہے کہ یہ دنیا کے معیاری تانبے اور سونے کے کان میں تبدیل ہو کر پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے بتایا کہ منصوبے کا مجموعی قرض تقریباً 3.5 بلین ڈالر ہے اور تمام بڑے انتظامات مکمل ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آنے والے ہفتوں میں یہ حتمی شکل اختیار کر جائے گا اور مالیاتی منظوری حاصل ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے واشنگٹن کے حالیہ دورے اور آئی ایف سی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ ملاقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ریکوڈک منصوبہ جنوبی ایشیا کے لیے ایک گیم چینجر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارا برآمدی حجم تقریباً 30 ارب ڈالر ہے اور ہم اسی سطح پر رک گئے ہیں۔ ریکوڈک کے پہلے سال تقریباً 2.8 ارب ڈالر برآمدات کی صلاحیت متوقع ہے جو آج کے حجم کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو سینیٹ کی پٹرولیم اسٹینڈنگ کمیٹی نے ریکو ڈیک منصوبے کی پیش رفت پر غور کیا۔ وزارت پٹرولیم کے سیکرٹری نے بتایا کہ تقریباً 20 فیصد بنیادی کام مکمل ہو چکا ہے اور منصوبہ 2028 کے اختتام تک پیداوار شروع کر دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر چیئر نے ریکوڈک کے آپریٹر بریک کے نمائندے کی غیر موجودگی پر تشویش ظاہر کی اور ہدایت کی کہ مستقبل کی تمام میٹنگز میں آپریشنل ٹیم کا ایک رکن ضرور شریک ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریکوڈک کان کنی منصوبے کی طویل انتظار شدہ مالیاتی منظوری عنقریب متوقع ہے جس میں اہم بین الاقوامی شراکت دار اپنی شمولیت کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ ریکو ڈیک کے لیے مالیاتی منظوری عملی طور پر قریب ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، آئی ایف سی (انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن) اس کنسورشیم کی قیادت کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اس میں آخری مراحل میں سے ایک یو ایس ایکسِم کا شامل ہونا ہے، کیونکہ وہاں (یو ایس) شٹ ڈاؤن تھا اور اب حکومت دوبارہ سرگرم ہوگئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ یو ایس ایکسِم کی شمولیت اب نسبتاً جلد متوقع ہے۔</p>
<p>ریکو ڈک بلوچستان میں واقع ایک وسیع، غیر ترقی یافتہ تانبے اور سونے کا ذخیرہ ہے، جسے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک مانا جاتا ہے۔  منصوبے کی ملکیت 50 فیصد بریک کے پاس ہے، 25 فیصد تین وفاقی سرکاری اداروں کے پاس، اور 25 فیصد حکومت بلوچستان کے پاس ہے۔</p>
<p>یہ منصوبہ 2028 میں پیداوار شروع کرنے کا ہدف رکھتا ہے اور توقع ہے کہ یہ دنیا کے معیاری تانبے اور سونے کے کان میں تبدیل ہو کر پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے بتایا کہ منصوبے کا مجموعی قرض تقریباً 3.5 بلین ڈالر ہے اور تمام بڑے انتظامات مکمل ہوچکے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آنے والے ہفتوں میں یہ حتمی شکل اختیار کر جائے گا اور مالیاتی منظوری حاصل ہو جائے گی۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے واشنگٹن کے حالیہ دورے اور آئی ایف سی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ ملاقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ریکوڈک منصوبہ جنوبی ایشیا کے لیے ایک گیم چینجر ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارا برآمدی حجم تقریباً 30 ارب ڈالر ہے اور ہم اسی سطح پر رک گئے ہیں۔ ریکوڈک کے پہلے سال تقریباً 2.8 ارب ڈالر برآمدات کی صلاحیت متوقع ہے جو آج کے حجم کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p>منگل کو سینیٹ کی پٹرولیم اسٹینڈنگ کمیٹی نے ریکو ڈیک منصوبے کی پیش رفت پر غور کیا۔ وزارت پٹرولیم کے سیکرٹری نے بتایا کہ تقریباً 20 فیصد بنیادی کام مکمل ہو چکا ہے اور منصوبہ 2028 کے اختتام تک پیداوار شروع کر دے گا۔</p>
<p>ادھر چیئر نے ریکوڈک کے آپریٹر بریک کے نمائندے کی غیر موجودگی پر تشویش ظاہر کی اور ہدایت کی کہ مستقبل کی تمام میٹنگز میں آپریشنل ٹیم کا ایک رکن ضرور شریک ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279563</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 12:44:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/2012350050ae717.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/2012350050ae717.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
