<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بدعنوانی پاکستان میں مستقل چیلنج ہے، آئی ایم ایف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279546/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی ایک مستقل چیلنج ہے، جس کے معاشی ترقی پر نمایاں منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وقت کے ساتھ بدعنوانی پر قابو پانے میں کمزوری کے اثرات عوامی اخراجات کے موثر استعمال، محصول جمع کرنے کے عمل اور قانونی نظام پر اعتماد پر پڑ رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات تکنیکی معاونت کی رپورٹ ”پاکستان گورننس اینڈ کرپشن ڈایگنوسٹک اسیسمنٹ“ میں بیان کی گئی ہے، جو  فنانس ڈویژن کی ویب سائٹ پر جمعرات کی شب جاری کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق بدعنوانی کی خطرات حکومت کے تمام درجوں پر موجود ہیں، لیکن سب سے زیادہ معاشی نقصان وہ مظاہر پیدا کرتے ہیں جہاں خاص ادارے اہم اقتصادی شعبوں پر اثرانداز ہوتے ہیں، بشمول وہ ادارے جو ریاست کے زیر انتظام یا اس سے منسلک ہیں۔ بدعنوانی سے نمٹنے کے طریقہ کار کی مستقل مزاجی اور غیر جانبداری نہ ہونے کے تاثر نے عوامی اعتماد کو مزید کم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت پاکستان کی درخواست پر آئی ایم ایف کی ایک بین ڈپارٹمنٹ ٹیم، جس میں عالمی بینک کے ماہرین بھی شامل تھے، جنوری 2025 میں پاکستان میں گورننس اور کرپشن ڈایگنوسٹک (”جی سی ڈی“) کا آغاز کیا۔ یہ رپورٹ اگست 2025 میں شائع ہوئی، جو موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ایک ساختی سنگ میل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں مالیاتی اور غیر مالیاتی وسائل کے انتظام، بجٹ اور رپورٹنگ، پبلک پروکیورمنٹ، اور اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز کے انتظام میں کمزوریاں ہیں۔ ٹیکس اور کسٹم کے نظام میں پیچیدگیاں اور محدود انتظامی صلاحیت، کاروباری شعبوں میں ریگولیٹری اداروں کی کم خودمختاری، اور عدالتی نظام کی پیچیدگی، غیر مؤثر قانونی عمل اور ججز کے مسائل بدعنوانی کے خطرات بڑھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پبلک اکاؤنٹ ایبلٹی اداروں میں انتشار اور ان کی محدود عملی آزادی کے باعث بدعنوانی کے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ عمومی اینٹی کرپشن کوششیں اہم معاشی بدعنوانی کے خطرات کو کم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ حالیہ اصلاحات، جیسے کہ منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات، کامیابی سے پاکستان کو فیٹف کی گری لسٹ سے نکالنے میں مدد دی ہیں، تاہم بدعنوانی سے متعلقہ مقدمات میں کم کامیابی اور سیاسی شخصیات کی نگرانی جیسے معاملات ابھی مزید بہتری کے متقاضی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی ایک مستقل چیلنج ہے، جس کے معاشی ترقی پر نمایاں منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وقت کے ساتھ بدعنوانی پر قابو پانے میں کمزوری کے اثرات عوامی اخراجات کے موثر استعمال، محصول جمع کرنے کے عمل اور قانونی نظام پر اعتماد پر پڑ رہے ہیں۔</strong></p>
<p>یہ بات تکنیکی معاونت کی رپورٹ ”پاکستان گورننس اینڈ کرپشن ڈایگنوسٹک اسیسمنٹ“ میں بیان کی گئی ہے، جو  فنانس ڈویژن کی ویب سائٹ پر جمعرات کی شب جاری کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق بدعنوانی کی خطرات حکومت کے تمام درجوں پر موجود ہیں، لیکن سب سے زیادہ معاشی نقصان وہ مظاہر پیدا کرتے ہیں جہاں خاص ادارے اہم اقتصادی شعبوں پر اثرانداز ہوتے ہیں، بشمول وہ ادارے جو ریاست کے زیر انتظام یا اس سے منسلک ہیں۔ بدعنوانی سے نمٹنے کے طریقہ کار کی مستقل مزاجی اور غیر جانبداری نہ ہونے کے تاثر نے عوامی اعتماد کو مزید کم کیا ہے۔</p>
<p>حکومت پاکستان کی درخواست پر آئی ایم ایف کی ایک بین ڈپارٹمنٹ ٹیم، جس میں عالمی بینک کے ماہرین بھی شامل تھے، جنوری 2025 میں پاکستان میں گورننس اور کرپشن ڈایگنوسٹک (”جی سی ڈی“) کا آغاز کیا۔ یہ رپورٹ اگست 2025 میں شائع ہوئی، جو موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ایک ساختی سنگ میل ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں مالیاتی اور غیر مالیاتی وسائل کے انتظام، بجٹ اور رپورٹنگ، پبلک پروکیورمنٹ، اور اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز کے انتظام میں کمزوریاں ہیں۔ ٹیکس اور کسٹم کے نظام میں پیچیدگیاں اور محدود انتظامی صلاحیت، کاروباری شعبوں میں ریگولیٹری اداروں کی کم خودمختاری، اور عدالتی نظام کی پیچیدگی، غیر مؤثر قانونی عمل اور ججز کے مسائل بدعنوانی کے خطرات بڑھا رہے ہیں۔</p>
<p>پبلک اکاؤنٹ ایبلٹی اداروں میں انتشار اور ان کی محدود عملی آزادی کے باعث بدعنوانی کے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ عمومی اینٹی کرپشن کوششیں اہم معاشی بدعنوانی کے خطرات کو کم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ حالیہ اصلاحات، جیسے کہ منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات، کامیابی سے پاکستان کو فیٹف کی گری لسٹ سے نکالنے میں مدد دی ہیں، تاہم بدعنوانی سے متعلقہ مقدمات میں کم کامیابی اور سیاسی شخصیات کی نگرانی جیسے معاملات ابھی مزید بہتری کے متقاضی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279546</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 10:10:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/20100753814ddb7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/20100753814ddb7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
