<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:24:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:24:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روس پر امریکی پابندیوں پر عمل درآمد کی تیاری، خام تیل کی قیتموں میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279543/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کے روز معمولی اضافہ دیکھا گیا، جس سے گزشتہ سیشن میں ہونے والی کمی کا جزوی ازالہ ہو گیا۔ سرمایہ کار ایک جانب یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں ختم کرنے کی امریکی مہلت کے خاتمے کی تیاری جاری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 21 سینٹ یعنی 0.33 فیصد بڑھ کر فی بیرل 63.72 ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے نرخ 24 سینٹ یا 0.40 فیصد اضافے کے ساتھ 59.68 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کیے گئے۔ دونوں بینچ مارکس نے بدھ کے روز تقریباً 2 فیصد کمی کے بعد معمولی بہتری دکھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں میں اس اضافے کی ایک اہم وجہ رائٹرز کی وہ رپورٹ ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا نے یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک امریکی مسودہ فریم ورک قبول کرے، جس کے تحت یوکرین کو کچھ علاقے اور ہتھیار روس کے حوالے کرنے ہوں گے۔ رپورٹ میں دو ایسے ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے جو اس معاملے سے واقف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے طور پر روس کی بڑی تیل کمپنیوں روزنیفٹ اور لوک آئل پر پابندیاں عائد کر چکا ہے، جن کے ساتھ کاروبار ختم کرنے کی مہلت 21 نومبر کو ختم ہو رہی ہے۔ پابندیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے روزنیفٹ نے عراقی کردستان کی سب سے بڑی آئل ایکسپورٹ کمپنی، کردستان پائپ لائن کمپنی، میں اپنی ملکیت کم کر کے 50 فیصد سے نیچے کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ ماہر ٹونی سائمکور نے اپنے نوٹ میں کہا کہ خام تیل کی قیمتوں کا رجحان مجموعی طور پر مثبت ہے، بشرطیکہ یہ سال کی کم ترین سطح یعنی 55 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہے۔ ان کے مطابق جیو پولیٹیکل صورتحال اور امریکی پالیسی اقدامات نے عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے، تاہم موجودہ سطح پر قیمتوں میں استحکام کی توقع کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کے روز معمولی اضافہ دیکھا گیا، جس سے گزشتہ سیشن میں ہونے والی کمی کا جزوی ازالہ ہو گیا۔ سرمایہ کار ایک جانب یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں ختم کرنے کی امریکی مہلت کے خاتمے کی تیاری جاری ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 21 سینٹ یعنی 0.33 فیصد بڑھ کر فی بیرل 63.72 ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے نرخ 24 سینٹ یا 0.40 فیصد اضافے کے ساتھ 59.68 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کیے گئے۔ دونوں بینچ مارکس نے بدھ کے روز تقریباً 2 فیصد کمی کے بعد معمولی بہتری دکھائی۔</p>
<p>قیمتوں میں اس اضافے کی ایک اہم وجہ رائٹرز کی وہ رپورٹ ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا نے یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک امریکی مسودہ فریم ورک قبول کرے، جس کے تحت یوکرین کو کچھ علاقے اور ہتھیار روس کے حوالے کرنے ہوں گے۔ رپورٹ میں دو ایسے ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے جو اس معاملے سے واقف ہیں۔</p>
<p>امریکا جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے طور پر روس کی بڑی تیل کمپنیوں روزنیفٹ اور لوک آئل پر پابندیاں عائد کر چکا ہے، جن کے ساتھ کاروبار ختم کرنے کی مہلت 21 نومبر کو ختم ہو رہی ہے۔ پابندیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے روزنیفٹ نے عراقی کردستان کی سب سے بڑی آئل ایکسپورٹ کمپنی، کردستان پائپ لائن کمپنی، میں اپنی ملکیت کم کر کے 50 فیصد سے نیچے کر دی ہے۔</p>
<p>مارکیٹ ماہر ٹونی سائمکور نے اپنے نوٹ میں کہا کہ خام تیل کی قیمتوں کا رجحان مجموعی طور پر مثبت ہے، بشرطیکہ یہ سال کی کم ترین سطح یعنی 55 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہے۔ ان کے مطابق جیو پولیٹیکل صورتحال اور امریکی پالیسی اقدامات نے عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے، تاہم موجودہ سطح پر قیمتوں میں استحکام کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279543</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 09:37:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/20093528d7309e4.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/20093528d7309e4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
