<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ، فرانس کے بعد جرمنی کی بھی پاکستان کے معدنیات سیکٹر میں دلچسپی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279530/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے اپنے معدنیات اور مائننگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں اضافہ کردیا ہے اور اپنے قدرتی وسائل کی صلاحیت کو اجاگر کرنے کے لیے ٹیکنالوجی، مہارت اور طویل المدتی شراکت داریوں کی تلاش میں امریکہ اور فرانس کے ساتھ ہونے والی حالیہ مشاورت کے بعد اب جرمنی سے دو طرفہ تعاون کی طرف بڑھ رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے منگل کو اسلام آباد میں وزارتِ توانائی میں پاکستان میں تعینات جرمن سفیر اینا لیپل سے ملاقات میں پاکستان کے مائننگ، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے امکانات پر بات چیت کی۔ اس موقع پر  پولیٹیکل اور اکنامک کونسلر جینین روہور بھی موجود تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق سفیر اینا لیپل نے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان کے مائننگ اور قدرتی وسائل کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مائننگ شعبے میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی حوصلہ افزا ہے، اور ریکو ڈِک منصوبہ مزید عالمی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لیے ایک نہایت اہم ٹیسٹ کیس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکو ڈِک بلوچستان میں واقع تانبے اور سونے کے ذخائر کا ایک بہت بڑا منصوبہ ہے، جسے دنیا کے بڑے ذخائر میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ بیرک گولڈ اور پاکستانی شراکت داروں کے درمیان ایک مشترکہ منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر نے ٹیکنیکل تعاون کے مخصوص پہلوؤں کی طرف بھی اشارہ کیا اور تجویز دی کہ جیولوجیکل سروے آف پاکستان اور جرمن فیڈرل انسٹیٹیوٹ فار جیو سائنسز اینڈ نیچرل ریسورسز (بی جی آر) کے درمیان تعاون کی بڑی گنجائش موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے پاکستان اور فرانس کے حکام نے معدنیات اور مائننگ کے شعبوں میں تعاون کے مواقع تلاش کیے، جب دونوں ممالک نے ایک اعلیٰ سطح ویبی نار کے دوران سرمایہ کاری اور شراکت داریوں کے امکانات پر روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اجلاس میں پاکستانی اور فرانسیسی کمپنیوں کے درمیان معدنیات کی تلاش، پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں تعاون کے فریم ورک پر گفتگو کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی سال ستمبر میں پاکستان اور امریکہ نے 500 ملین ڈالر مالیت کی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے تاکہ اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کی طرف ایک قدم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں اکتوبر میں پاکستان نے پہلی مرتبہ ریئر ارتھ ایلیمنٹس اور اہم معدنیات کی کھیپ امریکہ میں یو ایس اسٹریٹجک میٹلز (یو ایس ایس ایم) کو بھجوائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آر نیوز وائر کے مطابق پہلی کھیپ میں پاکستان نے مقامی سطح پر تیار کردہ اینٹیمونی، کاپر کنسنٹریٹ، اور ریئر ارتھ ایلیمنٹس بشمول کو نیوڈیمیم  اور پراسیوڈیمیم شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر منگل کے روز جرمن سفیر کے ساتھ ملاقات میں علی پرویز ملک نے حکومت کی جانب سے اس شعبے کی جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارا وژن واضح ہے: ہم پائیدار اور میکانائزڈ مائننگ پریکٹسز کو فروغ دینے پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے ریکو ڈِک منصوبہ مشعلِ راہ ہے جو پاکستان میں بڑے پیمانے پر ذمہ دارانہ مائننگ کے لیے ایک نیا معیار قائم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم کا اگلا ایڈیشن پہلے سے کہیں بڑا ہو گا، جس میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے دستیاب وسیع مواقع کو پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو توانائی کے شعبے تک بھی پہنچی جہاں وزیر پیٹرولیم نے ماحولیاتی پائیداری کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک جامع ریفائنری اپ گریڈ پروگرام پر کام کر رہا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ہمارے مقامی فیول کوالٹی کے معیار کو پورا کرنے کے لیے اہم ہے بلکہ جرمنی کی کاربن اخراج میں کمی اور گرین ٹرانزیشن کی پالیسی کے ساتھ بھی مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ اس محاذ پر دونوں ممالک مؤثر طور پر تعاون کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اپنی توانائی کے تحفظ کو بڑھانے کے لیے پاکستان مقامی سطح پر فیول سپلائز کو مضبوط کرنے پر کام کر رہا ہے۔ تقریباً دو دہائیوں بعد ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر ہم نے آفشور ایکسپلوریشن بلاکس کے لیے بڈنگ راؤنڈ کامیابی سے منعقد کیا ہے، جو ہمارے اپ اسٹریم شعبے میں سرمایہ کاری کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت پیٹرولیم کے مطابق دونوں ممالک نے پاکستان جرمنی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور حقیقی سرمایہ کاری اور علم کے تبادلے کی راہ ہموار کرنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے اپنے معدنیات اور مائننگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں اضافہ کردیا ہے اور اپنے قدرتی وسائل کی صلاحیت کو اجاگر کرنے کے لیے ٹیکنالوجی، مہارت اور طویل المدتی شراکت داریوں کی تلاش میں امریکہ اور فرانس کے ساتھ ہونے والی حالیہ مشاورت کے بعد اب جرمنی سے دو طرفہ تعاون کی طرف بڑھ رہا ہے۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے منگل کو اسلام آباد میں وزارتِ توانائی میں پاکستان میں تعینات جرمن سفیر اینا لیپل سے ملاقات میں پاکستان کے مائننگ، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے امکانات پر بات چیت کی۔ اس موقع پر  پولیٹیکل اور اکنامک کونسلر جینین روہور بھی موجود تھیں۔</p>
<p>وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق سفیر اینا لیپل نے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان کے مائننگ اور قدرتی وسائل کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مائننگ شعبے میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی حوصلہ افزا ہے، اور ریکو ڈِک منصوبہ مزید عالمی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لیے ایک نہایت اہم ٹیسٹ کیس ہے۔</p>
<p>ریکو ڈِک بلوچستان میں واقع تانبے اور سونے کے ذخائر کا ایک بہت بڑا منصوبہ ہے، جسے دنیا کے بڑے ذخائر میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ بیرک گولڈ اور پاکستانی شراکت داروں کے درمیان ایک مشترکہ منصوبہ ہے۔</p>
<p>سفیر نے ٹیکنیکل تعاون کے مخصوص پہلوؤں کی طرف بھی اشارہ کیا اور تجویز دی کہ جیولوجیکل سروے آف پاکستان اور جرمن فیڈرل انسٹیٹیوٹ فار جیو سائنسز اینڈ نیچرل ریسورسز (بی جی آر) کے درمیان تعاون کی بڑی گنجائش موجود ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے پاکستان اور فرانس کے حکام نے معدنیات اور مائننگ کے شعبوں میں تعاون کے مواقع تلاش کیے، جب دونوں ممالک نے ایک اعلیٰ سطح ویبی نار کے دوران سرمایہ کاری اور شراکت داریوں کے امکانات پر روشنی ڈالی۔</p>
<p>اس اجلاس میں پاکستانی اور فرانسیسی کمپنیوں کے درمیان معدنیات کی تلاش، پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں تعاون کے فریم ورک پر گفتگو کی گئی۔</p>
<p>اسی سال ستمبر میں پاکستان اور امریکہ نے 500 ملین ڈالر مالیت کی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے تاکہ اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کی طرف ایک قدم تھا۔</p>
<p>بعد ازاں اکتوبر میں پاکستان نے پہلی مرتبہ ریئر ارتھ ایلیمنٹس اور اہم معدنیات کی کھیپ امریکہ میں یو ایس اسٹریٹجک میٹلز (یو ایس ایس ایم) کو بھجوائی۔</p>
<p>پی آر نیوز وائر کے مطابق پہلی کھیپ میں پاکستان نے مقامی سطح پر تیار کردہ اینٹیمونی، کاپر کنسنٹریٹ، اور ریئر ارتھ ایلیمنٹس بشمول کو نیوڈیمیم  اور پراسیوڈیمیم شامل تھے۔</p>
<p>ادھر منگل کے روز جرمن سفیر کے ساتھ ملاقات میں علی پرویز ملک نے حکومت کی جانب سے اس شعبے کی جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارا وژن واضح ہے: ہم پائیدار اور میکانائزڈ مائننگ پریکٹسز کو فروغ دینے پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے ریکو ڈِک منصوبہ مشعلِ راہ ہے جو پاکستان میں بڑے پیمانے پر ذمہ دارانہ مائننگ کے لیے ایک نیا معیار قائم کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم کا اگلا ایڈیشن پہلے سے کہیں بڑا ہو گا، جس میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے دستیاب وسیع مواقع کو پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>گفتگو توانائی کے شعبے تک بھی پہنچی جہاں وزیر پیٹرولیم نے ماحولیاتی پائیداری کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک جامع ریفائنری اپ گریڈ پروگرام پر کام کر رہا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ہمارے مقامی فیول کوالٹی کے معیار کو پورا کرنے کے لیے اہم ہے بلکہ جرمنی کی کاربن اخراج میں کمی اور گرین ٹرانزیشن کی پالیسی کے ساتھ بھی مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ اس محاذ پر دونوں ممالک مؤثر طور پر تعاون کر سکتے ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اپنی توانائی کے تحفظ کو بڑھانے کے لیے پاکستان مقامی سطح پر فیول سپلائز کو مضبوط کرنے پر کام کر رہا ہے۔ تقریباً دو دہائیوں بعد ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر ہم نے آفشور ایکسپلوریشن بلاکس کے لیے بڈنگ راؤنڈ کامیابی سے منعقد کیا ہے، جو ہمارے اپ اسٹریم شعبے میں سرمایہ کاری کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔</p>
<p>وزارت پیٹرولیم کے مطابق دونوں ممالک نے پاکستان جرمنی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور حقیقی سرمایہ کاری اور علم کے تبادلے کی راہ ہموار کرنے پر اتفاق کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279530</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Nov 2025 16:02:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریحان ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/19155856c7c25ba.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/19155856c7c25ba.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
