<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موجودہ تجارتی خسارہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279520/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رواں مالی سال کے ابتدائی چار مہینوں کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سالانہ 255 فیصد سے زائد بڑھ گیا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ صورتحال اس لیے سامنے آئی کہ حکومت کو ایل سیز کھولنے پر اپنے انتظامی کنٹرول میں نرمی کرنی پڑی، نہ صرف اس لیے کہ اس پالیسی کا ملکی پیداوار پر منفی اثر پڑ رہا تھا (کیونکہ کئی شعبے خام مال اور نیم تیار مصنوعات کی درآمد پر منحصر ہیں) بلکہ اس لیے بھی کہ ڈونر ایجنسیاں جن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) بھی شامل ہے، اپنی پالیسیوں کے تحت اس پالیسی کو ترک کرنے پر زور دے رہی تھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 24 کے پہلے 4 ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران درآمدات 18.9 ارب ڈالر رہی تھیں جبکہ مالی سال 2025 کی اسی مدت میں درآمدات 10 فیصد اضافے سے 20.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے تحت حکام نے سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کو نافذ کرنے پر بھی اتفاق کیا جس کے نتیجے میں مقامی پیداوار کے اخراجات میں اضافہ ہوا جو علاقائی مقابلوں کے مقابلے میں زیادہ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا دعویٰ کہ جون 2024 کے بعد ڈسکاؤنٹ ریٹ کو تقریباً نصف کر کے 11 فیصد کرنے کے بعد مانیٹری پالیسی میں نرمی کی گئی ہے، اس کا مثبت اثر بہت کم رہا ہے، کیونکہ یہ شرح اب بھی ہمارے علاقائی حریفوں کی اوسط سے دوگنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے موجودہ چیئرمین کی آمدنی بڑھانے کی کوشش زیادہ تر آڈٹ کے ذریعے ہے، اور یہ بالکل درست طور پر وزیر اعظم شہباز شریف کی حمایت بھی حاصل ہے، تاہم اس میں یہ نقطہ  نظرانداز کیا جا رہا ہے کہ یہ کوشش زیادہ تر مخصوص شعبوں پر سیلز ٹیکس کے نفاذ پر مرکوز ہے، خاص طور پر شوگر ملز، سیمنٹ فیکٹریاں، اور ابھی زیر غور ہے کہ فرٹیلائزر مینوفیکچررز کو بھی اس دائرہ کار میں لایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مہم کے اب تک کے اثرات کے نتیجے میں صارفین کے لیے ان اشیاء کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے، یہ ایک شدید مہنگائی والی پالیسی ہے، اور اس ملک میں غربت کی سطح 42 فیصد تک بڑھنے کا ایک سبب بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025 کے پہلے چار ماہ میں مجموعی برآمدات (اشیاء اور خدمات کی برآمدات) 10.42 ارب امریکی ڈالر رہیں جبکہ  مالی سال 2026 کے اسی عرصے میں برآمدات معمولی اضافہ کرتے ہوئے 10.63 ارب امریکی ڈالر ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں برآمد کنندگان کو  مانیٹری اور فسکل پالیسیوں کے ساتھ  بجلی کے ٹیرف میں بڑے ترغیبی اقدامات کے ذریعے خصوصی سہولتیں فراہم کی جاتی تھیں تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرسکیں۔ اور پھر بھی جیسا کہ فنڈ نے 10 اکتوبر 2024 کے اپنے دستاویزات میں درست طور پر نوٹ کیا کہ حکومت کی قیمتوں کے تعین میں مداخلت، جس میں زرعی اجناس، ایندھن کی مصنوعات، بجلی اور گیس (نصف سالانہ) شامل ہیں،بلند ٹیرف اور غیر ٹیرف تحفظ کے ساتھ مل کر  میدان کو منتخب گروپوں یا شعبوں کے حق میں جھکا دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام سہولتوں کے باوجود کاروباری شعبہ ترقی کا محرک بننے میں ناکام رہا اور یہ ترغیبات آخرکار مقابلے کو کمزور کر گئیں اور وسائل کو دائمی طور پر غیر مؤثر (جن میں ہمیشہ “ابتدائی” صنعتیں بھی شامل ہیں) شعبوں میں جکڑ دیا۔ لہٰذا، اگر حکومت آئی ایم ایف کی اگلی قسط حاصل کرنا چاہتی ہے، ساتھ ہی ساتھ تین دوست ممالک خصوصاً چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ دیگر دوطرفہ اور کثیر الجہتی ذرائع سے حاصل کردہ 16 ارب امریکی ڈالر کے رول اوور/قرضوں کو برقرار رکھنا چاہتی ہے، تو یہ (پہلی والی پالیسی) اب حکومت کے لیے اب یہ آپشن نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا اکتوبر 2024  تجارتی خسارہ مجموعی طور پر منفی 8.477 ارب امریکی ڈالر رہا، جبکہ اسی عرصے میں اس سال تجارتی خسارہ منفی 10.091 ارب امریکی ڈالر رہا، یعنی 19 فیصد اضافہ۔ ترسیلات زر جو  جولائی تا اکتوبر 2024 میں 11,850.9 ملین امریکی ڈالر سے بڑھ کر اسی عرصے میں رواں سال 12,955.5 ملین امریکی ڈالر یعنی 9.3 فیصد اضافہ ہوا، ترسیلات جو برآمدات کی طرح غیر ملکی کرنسی کمانے کی ایک مطلوبہ شکل ہیں، کے باوجود موجودہ کھاتہ خسارہ بڑھ گیا۔ اور انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ اس خسارے کو ماضی کی طرح بیرونی قرضے لے کر پورا کیا جارہا ہے جبکہ 7 نومبر 2025 تک غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر 14,524.6 ملین امریکی ڈالر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اختتاماً بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ملک کو ایسی پالیسیوں کیلئے حساس بنا دیتا ہے جو نہ صرف ملکی اقتصادی پالیسیوں پر منفی اثر ڈالتی ہیں بلکہ بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رواں مالی سال کے ابتدائی چار مہینوں کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سالانہ 255 فیصد سے زائد بڑھ گیا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ صورتحال اس لیے سامنے آئی کہ حکومت کو ایل سیز کھولنے پر اپنے انتظامی کنٹرول میں نرمی کرنی پڑی، نہ صرف اس لیے کہ اس پالیسی کا ملکی پیداوار پر منفی اثر پڑ رہا تھا (کیونکہ کئی شعبے خام مال اور نیم تیار مصنوعات کی درآمد پر منحصر ہیں) بلکہ اس لیے بھی کہ ڈونر ایجنسیاں جن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) بھی شامل ہے، اپنی پالیسیوں کے تحت اس پالیسی کو ترک کرنے پر زور دے رہی تھیں۔</strong></p>
<p>مالی سال 24 کے پہلے 4 ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران درآمدات 18.9 ارب ڈالر رہی تھیں جبکہ مالی سال 2025 کی اسی مدت میں درآمدات 10 فیصد اضافے سے 20.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے تحت حکام نے سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کو نافذ کرنے پر بھی اتفاق کیا جس کے نتیجے میں مقامی پیداوار کے اخراجات میں اضافہ ہوا جو علاقائی مقابلوں کے مقابلے میں زیادہ رہا۔</p>
<p>حکومت کا دعویٰ کہ جون 2024 کے بعد ڈسکاؤنٹ ریٹ کو تقریباً نصف کر کے 11 فیصد کرنے کے بعد مانیٹری پالیسی میں نرمی کی گئی ہے، اس کا مثبت اثر بہت کم رہا ہے، کیونکہ یہ شرح اب بھی ہمارے علاقائی حریفوں کی اوسط سے دوگنی ہے۔</p>
<p>وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے موجودہ چیئرمین کی آمدنی بڑھانے کی کوشش زیادہ تر آڈٹ کے ذریعے ہے، اور یہ بالکل درست طور پر وزیر اعظم شہباز شریف کی حمایت بھی حاصل ہے، تاہم اس میں یہ نقطہ  نظرانداز کیا جا رہا ہے کہ یہ کوشش زیادہ تر مخصوص شعبوں پر سیلز ٹیکس کے نفاذ پر مرکوز ہے، خاص طور پر شوگر ملز، سیمنٹ فیکٹریاں، اور ابھی زیر غور ہے کہ فرٹیلائزر مینوفیکچررز کو بھی اس دائرہ کار میں لایا جائے۔</p>
<p>اس مہم کے اب تک کے اثرات کے نتیجے میں صارفین کے لیے ان اشیاء کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے، یہ ایک شدید مہنگائی والی پالیسی ہے، اور اس ملک میں غربت کی سطح 42 فیصد تک بڑھنے کا ایک سبب بھی ہے۔</p>
<p>مالی سال 2025 کے پہلے چار ماہ میں مجموعی برآمدات (اشیاء اور خدمات کی برآمدات) 10.42 ارب امریکی ڈالر رہیں جبکہ  مالی سال 2026 کے اسی عرصے میں برآمدات معمولی اضافہ کرتے ہوئے 10.63 ارب امریکی ڈالر ہوگئیں۔</p>
<p>ماضی میں برآمد کنندگان کو  مانیٹری اور فسکل پالیسیوں کے ساتھ  بجلی کے ٹیرف میں بڑے ترغیبی اقدامات کے ذریعے خصوصی سہولتیں فراہم کی جاتی تھیں تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرسکیں۔ اور پھر بھی جیسا کہ فنڈ نے 10 اکتوبر 2024 کے اپنے دستاویزات میں درست طور پر نوٹ کیا کہ حکومت کی قیمتوں کے تعین میں مداخلت، جس میں زرعی اجناس، ایندھن کی مصنوعات، بجلی اور گیس (نصف سالانہ) شامل ہیں،بلند ٹیرف اور غیر ٹیرف تحفظ کے ساتھ مل کر  میدان کو منتخب گروپوں یا شعبوں کے حق میں جھکا دیتی ہے۔</p>
<p>ان تمام سہولتوں کے باوجود کاروباری شعبہ ترقی کا محرک بننے میں ناکام رہا اور یہ ترغیبات آخرکار مقابلے کو کمزور کر گئیں اور وسائل کو دائمی طور پر غیر مؤثر (جن میں ہمیشہ “ابتدائی” صنعتیں بھی شامل ہیں) شعبوں میں جکڑ دیا۔ لہٰذا، اگر حکومت آئی ایم ایف کی اگلی قسط حاصل کرنا چاہتی ہے، ساتھ ہی ساتھ تین دوست ممالک خصوصاً چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ دیگر دوطرفہ اور کثیر الجہتی ذرائع سے حاصل کردہ 16 ارب امریکی ڈالر کے رول اوور/قرضوں کو برقرار رکھنا چاہتی ہے، تو یہ (پہلی والی پالیسی) اب حکومت کے لیے اب یہ آپشن نہیں ہے۔</p>
<p>جولائی تا اکتوبر 2024  تجارتی خسارہ مجموعی طور پر منفی 8.477 ارب امریکی ڈالر رہا، جبکہ اسی عرصے میں اس سال تجارتی خسارہ منفی 10.091 ارب امریکی ڈالر رہا، یعنی 19 فیصد اضافہ۔ ترسیلات زر جو  جولائی تا اکتوبر 2024 میں 11,850.9 ملین امریکی ڈالر سے بڑھ کر اسی عرصے میں رواں سال 12,955.5 ملین امریکی ڈالر یعنی 9.3 فیصد اضافہ ہوا، ترسیلات جو برآمدات کی طرح غیر ملکی کرنسی کمانے کی ایک مطلوبہ شکل ہیں، کے باوجود موجودہ کھاتہ خسارہ بڑھ گیا۔ اور انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ اس خسارے کو ماضی کی طرح بیرونی قرضے لے کر پورا کیا جارہا ہے جبکہ 7 نومبر 2025 تک غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر 14,524.6 ملین امریکی ڈالر ہیں۔</p>
<p>اختتاماً بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ملک کو ایسی پالیسیوں کیلئے حساس بنا دیتا ہے جو نہ صرف ملکی اقتصادی پالیسیوں پر منفی اثر ڈالتی ہیں بلکہ بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279520</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Nov 2025 13:57:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/191255511c51c5d.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/191255511c51c5d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
