<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:41:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:41:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ساختی اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیر خزانہ کی ڈائیلاگ وفد کو بریفنگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279495/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرِ خزانہ و ریونیو محمد اورنگزیب نے منگل کے روز کہا کہ حکومت کا بنیادی زور ساختی اصلاحات پر ہے، جن میں ٹیکسیشن، توانائی کے شعبے کی ازسرِ نو تنظیم، سرکاری اداروں کی نجکاری، گورننس ریفارمز اور وفاقی اخراجات کو معقول بنانا شامل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے عالمی لیڈرشپ پلیٹ فارم ‘ڈائیلاگ’ کے اعلیٰ سطح وفد سے ملاقات میں پاکستان کی معاشی اصلاحات کی رفتار کو اجاگر کیا۔ یہ پلیٹ فارم پیٹر تھیل اور اورین ہوفمین نے قائم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد کی قیادت سفیر علی جہانگیر صدیقی نے کی، جب کہ اس میں عالمی سطح کی نمایاں شخصیات شامل تھیں جن میں سائمن اسٹیونز (رکن، برطانوی ہاؤس آف لارڈز)، وائٹ ویلینٹائن ڈینگلر (رکنِ پارلیمنٹ آسٹریا، بانی ڈرا سلوشنز)، یاسمین گرین (سی ای او، جیگسا گوگل)، فاطمہ کاردار (وائس پریزیڈنٹ، ایکس باکس مائیکروسافٹ)، شادہ مارٹنی (سی ای او، ملٹی فیتھ الائنس)، ایوان مارویل (سی ای او، ایجوکیشن سپر ہائی وے)، اورہمانشو گلاٹی (رکنِ پارلیمنٹ ناروے) سمیت دیگر شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے ڈائیلاگ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ جاری تعاون کو سراہا، جو 2024 کے پہلے ڈائیلاگ پاکستان۔ونٹر ایونٹ سے اب تک پاکستان کی معاشی صورتحال اور سرمایہ کاری کے امکانات کے بارے میں عالمی فہم میں اضافہ کا باعث بنا ہے۔ سفیر  علی جہانگیر  صدیقی نے وفد کا تعارف کرایا، جس کے بعد وزیرِ خزانہ نے جامع بریفنگ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر نے گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران پاکستان کی معاشی استحکام کی پیش رفت بیان کی اور بتایا کہ فچ، ایس اینڈ پی اور موڈیز کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی کے دوسرے جائزے اور کلائمٹ ریزیلینس پروگرام کی کامیابی کا بھی حوالہ دیا۔ وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان کی جیوپولیٹیکل ہم آہنگی بہتر ہوئی ہے، امریکہ، چین اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوئے ہیں اور سی پیک فیز ٹو کا آغاز ہو چکا ہے جس کا زور بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری، برآمداتی صنعتی زونز کے قیام اور جوائنٹ وینچرز پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت کا زور ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے کی تنظیم نو، سرکاری اداروں کی نجکاری، گورننس میں بہتری اور وفاقی اخراجات کو معقول بنانے پر ہے۔ انہوں نے ٹیکس بیس کو وسیع اور گہرا کرنے، ٹیکنالوجی اور اے آئی پر مبنی نگرانی کے انضمام، کمپلائنس میں بہتری اور رئیل اسٹیٹ، زرعی شعبے اور ہول سیل/ریٹیل جیسے کم ٹیکس شدہ شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے پینشن اصلاحات پر بھی گفتگو کی، جن میں نئے ملازمین کے لیے کنٹری بیوٹری اسکیمز کی طرف منتقلی اور طویل مدتی مالی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے سنبھالنے کے اقدامات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے تقسیم کار کمپنیوں میں گورننس کی بہتری، نقصانات میں کمی، بورڈز میں نجی شعبے کی نمائندگی اور نجکاری کے لیے نئی منصوبہ بندی کا ذکر کیا۔ انہوں نے مسابقتی ٹیرف ڈھانچے، پاور سیکٹر کی پائیداری اور نجی شعبے کی شمولیت کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال و جواب کے سیشن میں وزیر خزانہ نے پاکستان کی امریکہ کے ساتھ ٹیرف مذاکرات، قرضوں کے راستے، بینکاری ریگولیشن، اور سی پیک کے تحت انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کے طویل المدتی نمو سے تعلق کے بارے میں سوالات کے جوابات دیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ سال بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس میں دوبارہ داخل ہونے کا ارادہ رکھتی ہے، جس میں پانڈا بانڈز کے ممکنہ اجرا اور مقامی مالیاتی مارکیٹس کو مزید گہرا کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان کا آبادیاتی فائدہ، اور اس کے ساتھ ساتھ کان کنی، زراعت، آئی ٹی، اے آئی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، فارماسیوٹیکل اور مینوفیکچرنگ میں جاری اصلاحات ملک کو پائیدار اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے راستے پر لے جا رہی ہیں۔ انہوں نے ڈائیلاگ کے عالمی لیڈرشپ نیٹ ورک کے ساتھ جاری روابط کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ تعاون بین الاقوامی شراکت داری کو مضبوط بنانے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے اور پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کو عالمی سطح پر مؤثر حلقوں تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرِ خزانہ و ریونیو محمد اورنگزیب نے منگل کے روز کہا کہ حکومت کا بنیادی زور ساختی اصلاحات پر ہے، جن میں ٹیکسیشن، توانائی کے شعبے کی ازسرِ نو تنظیم، سرکاری اداروں کی نجکاری، گورننس ریفارمز اور وفاقی اخراجات کو معقول بنانا شامل ہے۔</strong></p>
<p>وزیرِ خزانہ نے عالمی لیڈرشپ پلیٹ فارم ‘ڈائیلاگ’ کے اعلیٰ سطح وفد سے ملاقات میں پاکستان کی معاشی اصلاحات کی رفتار کو اجاگر کیا۔ یہ پلیٹ فارم پیٹر تھیل اور اورین ہوفمین نے قائم کیا ہے۔</p>
<p>وفد کی قیادت سفیر علی جہانگیر صدیقی نے کی، جب کہ اس میں عالمی سطح کی نمایاں شخصیات شامل تھیں جن میں سائمن اسٹیونز (رکن، برطانوی ہاؤس آف لارڈز)، وائٹ ویلینٹائن ڈینگلر (رکنِ پارلیمنٹ آسٹریا، بانی ڈرا سلوشنز)، یاسمین گرین (سی ای او، جیگسا گوگل)، فاطمہ کاردار (وائس پریزیڈنٹ، ایکس باکس مائیکروسافٹ)، شادہ مارٹنی (سی ای او، ملٹی فیتھ الائنس)، ایوان مارویل (سی ای او، ایجوکیشن سپر ہائی وے)، اورہمانشو گلاٹی (رکنِ پارلیمنٹ ناروے) سمیت دیگر شامل تھے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے ڈائیلاگ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ جاری تعاون کو سراہا، جو 2024 کے پہلے ڈائیلاگ پاکستان۔ونٹر ایونٹ سے اب تک پاکستان کی معاشی صورتحال اور سرمایہ کاری کے امکانات کے بارے میں عالمی فہم میں اضافہ کا باعث بنا ہے۔ سفیر  علی جہانگیر  صدیقی نے وفد کا تعارف کرایا، جس کے بعد وزیرِ خزانہ نے جامع بریفنگ دی۔</p>
<p>وزیر نے گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران پاکستان کی معاشی استحکام کی پیش رفت بیان کی اور بتایا کہ فچ، ایس اینڈ پی اور موڈیز کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی کے دوسرے جائزے اور کلائمٹ ریزیلینس پروگرام کی کامیابی کا بھی حوالہ دیا۔ وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان کی جیوپولیٹیکل ہم آہنگی بہتر ہوئی ہے، امریکہ، چین اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوئے ہیں اور سی پیک فیز ٹو کا آغاز ہو چکا ہے جس کا زور بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری، برآمداتی صنعتی زونز کے قیام اور جوائنٹ وینچرز پر ہے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت کا زور ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے کی تنظیم نو، سرکاری اداروں کی نجکاری، گورننس میں بہتری اور وفاقی اخراجات کو معقول بنانے پر ہے۔ انہوں نے ٹیکس بیس کو وسیع اور گہرا کرنے، ٹیکنالوجی اور اے آئی پر مبنی نگرانی کے انضمام، کمپلائنس میں بہتری اور رئیل اسٹیٹ، زرعی شعبے اور ہول سیل/ریٹیل جیسے کم ٹیکس شدہ شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے پینشن اصلاحات پر بھی گفتگو کی، جن میں نئے ملازمین کے لیے کنٹری بیوٹری اسکیمز کی طرف منتقلی اور طویل مدتی مالی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے سنبھالنے کے اقدامات شامل ہیں۔</p>
<p>توانائی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے تقسیم کار کمپنیوں میں گورننس کی بہتری، نقصانات میں کمی، بورڈز میں نجی شعبے کی نمائندگی اور نجکاری کے لیے نئی منصوبہ بندی کا ذکر کیا۔ انہوں نے مسابقتی ٹیرف ڈھانچے، پاور سیکٹر کی پائیداری اور نجی شعبے کی شمولیت کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>سوال و جواب کے سیشن میں وزیر خزانہ نے پاکستان کی امریکہ کے ساتھ ٹیرف مذاکرات، قرضوں کے راستے، بینکاری ریگولیشن، اور سی پیک کے تحت انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کے طویل المدتی نمو سے تعلق کے بارے میں سوالات کے جوابات دیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ سال بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس میں دوبارہ داخل ہونے کا ارادہ رکھتی ہے، جس میں پانڈا بانڈز کے ممکنہ اجرا اور مقامی مالیاتی مارکیٹس کو مزید گہرا کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان کا آبادیاتی فائدہ، اور اس کے ساتھ ساتھ کان کنی، زراعت، آئی ٹی، اے آئی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، فارماسیوٹیکل اور مینوفیکچرنگ میں جاری اصلاحات ملک کو پائیدار اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے راستے پر لے جا رہی ہیں۔ انہوں نے ڈائیلاگ کے عالمی لیڈرشپ نیٹ ورک کے ساتھ جاری روابط کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ تعاون بین الاقوامی شراکت داری کو مضبوط بنانے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے اور پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کو عالمی سطح پر مؤثر حلقوں تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279495</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Nov 2025 09:42:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/19094157f5c850d.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/19094157f5c850d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
