<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قرض کے حجم میں زبردست کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279479/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک کے حال ہی میں جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر)  کے دوران قرض کے حجم میں کمی دیکھنے میں آئی ہے جو 1.283 ٹریلین روپے رہی جس کی حمایت اسٹیٹ بینک کے بڑھتے ہوئے منافع سے حاصل ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی قرض کا حجم جون 2025 کے اختتام تک 77.888 ٹریلین روپے رہاجس میں کمی کی بڑی وجہ  مقامی قرض میں کمی تھی، جو ستمبر 2025 تک 1.048 ٹریلین روپے سے کم ہو کر 53.424 ٹریلین روپے رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کمی پر تین واضح مشاہدات کیے جاسکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ جون 2024 میں 21 فیصد سے کم ہو کر جون 2025 تک 11 فیصد رہ گیا، اور یہ شرح آج تک برقرار ہے۔ قابل ذکر ہے کہ وزیر خزانہ نے اس سال کے دوران ڈسکاؤنٹ ریٹ میں مزید کمی کا بار بار عندیہ دیا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ ماضی کے برعکس یہ فیصلہ اب اسٹیٹ بینک  کی صوابدید پر منحصر ہے، ایک شرط جو پارلیمنٹ نے 2022 کے اوائل میں منظور اور تصدیق کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس پیش گوئی پر ایک بڑا محدود عنصر یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک عالمی مالیاتی فنڈ  سے مشاورت کے بغیر شرح سود کم نہیں کر سکتاکیونکہ یہ اس کے جاری 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت ہے۔ آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے گئے تمام دستاویزات اور پریس ریلیز میں زور دیا گیا ہے کہ ایس بی پی کو مناسب حد تک سخت اور ڈیٹا پر مبنی مالیاتی پالیسی برقرار رکھنی چاہیے۔ سیلاب کے اثرات عارضی طور پر قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں اور اگر قیمتوں پر دباؤ بڑھ جائے یا مہنگائی کی توقعات غیر مستحکم ہو جائیں تو  ایس بی پی  اپنی پالیسی کے موقف کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال قیمتوں میں پہلے ہی 5 سے 7 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے  اور اگر عالمی مالیاتی فنڈ کی تکنیکی معاونت جو یکم جولائی 2025 سے شروع ہوئی، کامیاب ہو گئی اور اہم خامیوں کو دور کر دیا جو تقریباً جی ڈی پی کے ایک تہائی کے برابر ہیں، جبکہ حکومت کے مالیاتی اعدادوشمار کی تفصیل اور قابلِ اعتماد ہونے میں مسائل ہیں جن میں نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کی تیاری بھی شامل ہے تو قیمتوں میں اضافہ ممکنہ طور پر مزید ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا مشاہدہ یہ ہے کہ وزارتِ خزانہ  کی طرف سے جاری کردہ ’کنسولیڈیٹڈ فیڈرل اینڈ پراونشل فِسکل آپریشنز جولائی تاستمبر 2025 کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ مقامی قرضہ پچھلے سال کی پہلی سہ ماہی میں 1.739 ٹریلین روپے تھا، جو موجودہ سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 2.081 ٹریلین روپے ہو گیا، یعنی تقریباً 20 فیصد اضافہ۔ یہ اضافہ حکومت کے موجودہ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہوا جو ایک مہنگائی پر مبنی پالیسی ہے اور نجی شعبے کے قرضے لینے کی صلاحیت کو محدود کرتی ہے۔ اس دوران 295 ارب روپے ترقیاتی اخراجات کی منظوری دی گئی لیکن صرف تقریباً 40 ارب روپے حقیقی طور پر خرچ کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور آخر میں تمام حکومتی قرض کو قرض کے حجم میں شامل نہیں کیا جاتا۔ ایک مثال حال ہی میں سرکلر انرجی قرض کی ادائیگی کے لیے تجارتی بینکوں سے لیے گئے 1.2 ٹریلین روپے کا قرض ہے، جس کی منظوری دی جا چکی ہے لیکن یہ ابھی جاری نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قرض کے حجم میں اضافہ ہوگا لیکن توقع کی جارہی ہے کہ اسے ایک ایک مرتبہ کا اقدام سمجھا جائے گا اور 2013 کی طرح قرض کے حجم میں شامل نہیں کیا جائے گا، جب اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تقریباً 400 ارب روپے قرض لیا تھا، جسے بعد میں پارلیمانی کمیٹی کی تحقیقات کے بعد غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک، اس بات کے بہت کم اشارے ملے ہیں کہ حکومت قرضوں پر اپنے انحصار کو کم کرنے میں مصروف ہے ، خواہ وہ اندرونی ہوں یا بیرونی۔ اس کے لیے حکومت کو اپنے موجودہ اخراجات میں کمی لانے کی ضرورت ہوگی جس کے نتیجے میں زیادہ ٹیکس محصولات اکٹھا کرنے کی ضرورت بھی کم ہو جائے گی، جو صنعتی پیداوار اور نمو  پر منفی اثر ڈالتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بجٹ دستاویزات کے مطابق موجودہ اخراجات 2024-25 کی نظرثانی شدہ تخمینوں میں 16.390 ٹریلین روپے سے کم ہو کر اس سال 16.286 ٹریلین روپے رہنے کا ہدف ہے، تاہم یہ کمی مکمل طور پر موجودہ سال کے لیے کل مارک اپ میں کمی کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے جو ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کی توقع سے منسلک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں وزارت خزانہ کو اپنے طرزِ فکر میں تبدیلی لانی ہوگی، پچھلی حکومتوں کی ناکام پالیسیوں پر عمل کرنے سے گریز کرنا ہوگا اور موجودہ اخراجات کم کرنے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی، نیز پینشن اصلاحات کے ذریعے پائیدار اقتصادی نمو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک کے حال ہی میں جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر)  کے دوران قرض کے حجم میں کمی دیکھنے میں آئی ہے جو 1.283 ٹریلین روپے رہی جس کی حمایت اسٹیٹ بینک کے بڑھتے ہوئے منافع سے حاصل ہوئی۔</strong></p>
<p>مجموعی قرض کا حجم جون 2025 کے اختتام تک 77.888 ٹریلین روپے رہاجس میں کمی کی بڑی وجہ  مقامی قرض میں کمی تھی، جو ستمبر 2025 تک 1.048 ٹریلین روپے سے کم ہو کر 53.424 ٹریلین روپے رہ گیا۔</p>
<p>اس کمی پر تین واضح مشاہدات کیے جاسکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ جون 2024 میں 21 فیصد سے کم ہو کر جون 2025 تک 11 فیصد رہ گیا، اور یہ شرح آج تک برقرار ہے۔ قابل ذکر ہے کہ وزیر خزانہ نے اس سال کے دوران ڈسکاؤنٹ ریٹ میں مزید کمی کا بار بار عندیہ دیا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ ماضی کے برعکس یہ فیصلہ اب اسٹیٹ بینک  کی صوابدید پر منحصر ہے، ایک شرط جو پارلیمنٹ نے 2022 کے اوائل میں منظور اور تصدیق کی تھی۔</p>
<p>تاہم اس پیش گوئی پر ایک بڑا محدود عنصر یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک عالمی مالیاتی فنڈ  سے مشاورت کے بغیر شرح سود کم نہیں کر سکتاکیونکہ یہ اس کے جاری 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت ہے۔ آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے گئے تمام دستاویزات اور پریس ریلیز میں زور دیا گیا ہے کہ ایس بی پی کو مناسب حد تک سخت اور ڈیٹا پر مبنی مالیاتی پالیسی برقرار رکھنی چاہیے۔ سیلاب کے اثرات عارضی طور پر قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں اور اگر قیمتوں پر دباؤ بڑھ جائے یا مہنگائی کی توقعات غیر مستحکم ہو جائیں تو  ایس بی پی  اپنی پالیسی کے موقف کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>اس سال قیمتوں میں پہلے ہی 5 سے 7 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے  اور اگر عالمی مالیاتی فنڈ کی تکنیکی معاونت جو یکم جولائی 2025 سے شروع ہوئی، کامیاب ہو گئی اور اہم خامیوں کو دور کر دیا جو تقریباً جی ڈی پی کے ایک تہائی کے برابر ہیں، جبکہ حکومت کے مالیاتی اعدادوشمار کی تفصیل اور قابلِ اعتماد ہونے میں مسائل ہیں جن میں نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کی تیاری بھی شامل ہے تو قیمتوں میں اضافہ ممکنہ طور پر مزید ہوسکتا ہے۔</p>
<p>دوسرا مشاہدہ یہ ہے کہ وزارتِ خزانہ  کی طرف سے جاری کردہ ’کنسولیڈیٹڈ فیڈرل اینڈ پراونشل فِسکل آپریشنز جولائی تاستمبر 2025 کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ مقامی قرضہ پچھلے سال کی پہلی سہ ماہی میں 1.739 ٹریلین روپے تھا، جو موجودہ سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 2.081 ٹریلین روپے ہو گیا، یعنی تقریباً 20 فیصد اضافہ۔ یہ اضافہ حکومت کے موجودہ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہوا جو ایک مہنگائی پر مبنی پالیسی ہے اور نجی شعبے کے قرضے لینے کی صلاحیت کو محدود کرتی ہے۔ اس دوران 295 ارب روپے ترقیاتی اخراجات کی منظوری دی گئی لیکن صرف تقریباً 40 ارب روپے حقیقی طور پر خرچ کیے گئے۔</p>
<p>اور آخر میں تمام حکومتی قرض کو قرض کے حجم میں شامل نہیں کیا جاتا۔ ایک مثال حال ہی میں سرکلر انرجی قرض کی ادائیگی کے لیے تجارتی بینکوں سے لیے گئے 1.2 ٹریلین روپے کا قرض ہے، جس کی منظوری دی جا چکی ہے لیکن یہ ابھی جاری نہیں ہوا۔</p>
<p>اس سے قرض کے حجم میں اضافہ ہوگا لیکن توقع کی جارہی ہے کہ اسے ایک ایک مرتبہ کا اقدام سمجھا جائے گا اور 2013 کی طرح قرض کے حجم میں شامل نہیں کیا جائے گا، جب اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تقریباً 400 ارب روپے قرض لیا تھا، جسے بعد میں پارلیمانی کمیٹی کی تحقیقات کے بعد غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔</p>
<p>اب تک، اس بات کے بہت کم اشارے ملے ہیں کہ حکومت قرضوں پر اپنے انحصار کو کم کرنے میں مصروف ہے ، خواہ وہ اندرونی ہوں یا بیرونی۔ اس کے لیے حکومت کو اپنے موجودہ اخراجات میں کمی لانے کی ضرورت ہوگی جس کے نتیجے میں زیادہ ٹیکس محصولات اکٹھا کرنے کی ضرورت بھی کم ہو جائے گی، جو صنعتی پیداوار اور نمو  پر منفی اثر ڈالتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ بجٹ دستاویزات کے مطابق موجودہ اخراجات 2024-25 کی نظرثانی شدہ تخمینوں میں 16.390 ٹریلین روپے سے کم ہو کر اس سال 16.286 ٹریلین روپے رہنے کا ہدف ہے، تاہم یہ کمی مکمل طور پر موجودہ سال کے لیے کل مارک اپ میں کمی کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے جو ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کی توقع سے منسلک ہے۔</p>
<p>آخر میں وزارت خزانہ کو اپنے طرزِ فکر میں تبدیلی لانی ہوگی، پچھلی حکومتوں کی ناکام پالیسیوں پر عمل کرنے سے گریز کرنا ہوگا اور موجودہ اخراجات کم کرنے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی، نیز پینشن اصلاحات کے ذریعے پائیدار اقتصادی نمو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279479</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Nov 2025 14:56:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/1814272510810e9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/1814272510810e9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
