<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Perspectives</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 13 Jun 2026 14:57:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 13 Jun 2026 14:57:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ای چالان، کیا کراچی دبئی سے زیادہ جرمانے بھر رہا ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279474/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ حکومت نے گزشتہ ماہ ٹریفک ریگولیشن اینڈ سائیٹیشن سسٹم (ٹریکس) — ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے ای ٹکٹنگ نظام — کا آغاز کیا، جو ہائی ڈیفینیشن (ایچ ڈی) کیمروں کے ذریعے ٹریفک خلاف ورزیوں کا پتا لگاتا ہے۔ اس نظام کو شہریوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے کیونکہ ان کے مطابق اس میں حد سے زیادہ جرمانہ وصول کیا جا رہا ہے، اور یہ الیکٹرانک نظام کراچی کی بڑی آبادی کے مسائل اور مشکلات کو سمجھے بغیر نافذ کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی بمقابلہ دبئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کراچی کے شہریوں کی اوسط آمدنی کا موازنہ دبئی کے باشندوں کی آمدنی سے کیا جائے، تو دبئی (یو اے ای) اور کراچی (پاکستان) کے درمیان مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) فی کس میں ایک انتہائی بڑا بنیادی فرق واضح ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی 2025 کی فی کس آمدنی کی فہرست کے مطابق، یو اے ای کا جی ڈی پی فی کس 51 ہزار350 ڈالر ہے جبکہ پاکستان کا ایک ہزار 710 ڈالر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/1813160467b0eb7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/1813160467b0eb7.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی میں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر ٹریفک چالان کی فیس 400  اماراتی درہم (108.92ڈالر) ہے، جو یو اے ای کی فی کس آمدنی کا 0.21 فیصد بنتا ہے۔ جبکہ کراچی میں اسی خلاف ورزی پر ای چالان فیس 10,000 روپے (35.17 ڈالر) ہے، جو پاکستان کی فی کس آمدنی کا 2.05 فیصد بنتا ہے  یعنی دبئی کے مقابلے میں 876.19 فیصد زیادہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ دبئی میں موٹرسائیکل سوار کے ہیلمٹ نہ پہننے پر چالان 500 اماراتی درہم (136.15 ڈالر) ہے، جو ان کی فی کس آمدنی کا 0.26 فیصد بنتا ہے۔ جبکہ کراچی میں اسی خلاف ورزی پر ای چالان 5ہزار روپے (17.59 ڈالر) ہے، جو ان کی فی کس آمدنی کا 1.02 فیصد بنتا ہے — یعنی دبئی کے مقابلے میں 292.3 فیصد زیادہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ دونوں شہروں کے درمیان ٹریفک جرمانوں کے مالی بوجھ میں ایک نمایاں عدم توازن موجود ہے، حالانکہ امریکی ڈالر کے لحاظ سے کراچی میں جرمانے دبئی سے کہیں کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی اوسط آمدنی پاکستان کے مقابلے میں تقریباً 30 گنا زیادہ ہے۔ قوت خرید کے اس بڑے فرق کا مطلب ہے کہ آمدنی کے یکساں فیصد کے برابر جرمانہ دونوں ملکوں میں یکساں مالی بوجھ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں جرمانے شہریوں پر غیر متناسب مالی دباؤ ڈالتے ہیں۔ جب ٹریفک جرمانوں کو فی کس آمدنی کے تناسب سے دیکھا جائے، تو کراچی میں عائد کی گئی سزائیں ایک اوسط پاکستانی شہری پر  متحدہ عرب امارات کے ایک اوسط رہائشی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بوجھ ڈالتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;امیر افراد کے لیے یہ فیس ادا کرنا کوئی مسئلہ نہیں، لیکن وہ لوگ جو مشکل سے گھر کا خرچ پورا کرتے ہیں، ان کے لیے یہ صورتحال روزمرہ زندگی کو تباہ کن بنا سکتی ہے  جیسا کہ بہت سے صارفین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر میں جاری بے روزگاری اور کم از کم اجرت سے بھی کم تنخواہوں کے رجحان کے سبب، کراچی کے بے شمار شہری جز وقتی یا کل وقتی روزگار کے لیے ڈلیوری اور آن لائن رائیڈ ہیلنگ سروسز کا سہارا لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم صوبائی حکومت کا ماننا ہے کہ ای چالان کے ذریعے جرمانوں کا نفاذ نہ صرف ٹریفک کو بہتر بنانے میں مددگار ہوگا بلکہ شہریوں کو سیٹ بیلٹ نہ باندھنے، اوور اسپیڈنگ، ہیلمٹ کے بغیر سفر کرنے اور غلط سمت میں گاڑی چلانے جیسے خطرات سے بھی محفوظ رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریفک ریگولیشن سسٹم کا افتتاح سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اکتوبر کے آخر میں کیا۔ یہ نظام اس وقت کراچی کی اہم شاہراہوں جیسے شارع فیصل پر فعال ہے، جبکہ اسے پورے شہر اور پھر صوبے کے دیگر اضلاع تک توسیع دینے کا منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نظام کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کا حصہ ہے۔ پہلے مرحلے میں شہر کی اہم سڑکوں پر 1,076 کیمرے نصب کیے گئے ہیں، جنہیں تین مراحل میں بڑھا کر 12,000 تک کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک رپورٹ کے مطابق، سندھ پولیس نے نظام کے آغاز کے صرف تین دنوں میں  10 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے جاری کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نظام میں کچھ تکنیکی خامیاں رپورٹ ہونے کے علاوہ حکومت کی جانب سے شہریوں پر عائد کیے جانے والے جرمانے بھی ان کی برداشت کی صلاحیت کے لحاظ سے غیر متناسب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہریوں کا ماننا ہے کہ ان سے ایک ترقی یافتہ شہر کے برابر فیسیں وصول کی جا رہی ہیں، جبکہ انہیں بنیادی سہولیات تقریباً نہ ہونے کے برابر فراہم کی جاتی ہیں۔ سڑکیں گڑھوں سے بھری ہوئی ہیں، جگہ جگہ مرمت کے نشانات موجود ہیں، اسٹریٹ لائٹس کی کمی ہے، اور کئی مقامات پر ٹریفک سگنلز کام ہی نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مضمون بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ حکومت نے گزشتہ ماہ ٹریفک ریگولیشن اینڈ سائیٹیشن سسٹم (ٹریکس) — ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے ای ٹکٹنگ نظام — کا آغاز کیا، جو ہائی ڈیفینیشن (ایچ ڈی) کیمروں کے ذریعے ٹریفک خلاف ورزیوں کا پتا لگاتا ہے۔ اس نظام کو شہریوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے کیونکہ ان کے مطابق اس میں حد سے زیادہ جرمانہ وصول کیا جا رہا ہے، اور یہ الیکٹرانک نظام کراچی کی بڑی آبادی کے مسائل اور مشکلات کو سمجھے بغیر نافذ کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p><strong>کراچی بمقابلہ دبئی</strong></p>
<p>اگر کراچی کے شہریوں کی اوسط آمدنی کا موازنہ دبئی کے باشندوں کی آمدنی سے کیا جائے، تو دبئی (یو اے ای) اور کراچی (پاکستان) کے درمیان مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) فی کس میں ایک انتہائی بڑا بنیادی فرق واضح ہو جاتا ہے۔</p>
<p>انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی 2025 کی فی کس آمدنی کی فہرست کے مطابق، یو اے ای کا جی ڈی پی فی کس 51 ہزار350 ڈالر ہے جبکہ پاکستان کا ایک ہزار 710 ڈالر ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/1813160467b0eb7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/1813160467b0eb7.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>دبئی میں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر ٹریفک چالان کی فیس 400  اماراتی درہم (108.92ڈالر) ہے، جو یو اے ای کی فی کس آمدنی کا 0.21 فیصد بنتا ہے۔ جبکہ کراچی میں اسی خلاف ورزی پر ای چالان فیس 10,000 روپے (35.17 ڈالر) ہے، جو پاکستان کی فی کس آمدنی کا 2.05 فیصد بنتا ہے  یعنی دبئی کے مقابلے میں 876.19 فیصد زیادہ۔</p>
<p>مزید یہ کہ دبئی میں موٹرسائیکل سوار کے ہیلمٹ نہ پہننے پر چالان 500 اماراتی درہم (136.15 ڈالر) ہے، جو ان کی فی کس آمدنی کا 0.26 فیصد بنتا ہے۔ جبکہ کراچی میں اسی خلاف ورزی پر ای چالان 5ہزار روپے (17.59 ڈالر) ہے، جو ان کی فی کس آمدنی کا 1.02 فیصد بنتا ہے — یعنی دبئی کے مقابلے میں 292.3 فیصد زیادہ۔</p>
<p>یہ ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ دونوں شہروں کے درمیان ٹریفک جرمانوں کے مالی بوجھ میں ایک نمایاں عدم توازن موجود ہے، حالانکہ امریکی ڈالر کے لحاظ سے کراچی میں جرمانے دبئی سے کہیں کم ہیں۔</p>
<p>یہاں یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی اوسط آمدنی پاکستان کے مقابلے میں تقریباً 30 گنا زیادہ ہے۔ قوت خرید کے اس بڑے فرق کا مطلب ہے کہ آمدنی کے یکساں فیصد کے برابر جرمانہ دونوں ملکوں میں یکساں مالی بوجھ رکھتا ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>کراچی میں جرمانے شہریوں پر غیر متناسب مالی دباؤ ڈالتے ہیں۔ جب ٹریفک جرمانوں کو فی کس آمدنی کے تناسب سے دیکھا جائے، تو کراچی میں عائد کی گئی سزائیں ایک اوسط پاکستانی شہری پر  متحدہ عرب امارات کے ایک اوسط رہائشی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بوجھ ڈالتی ہیں۔</p>
</blockquote>
<p>امیر افراد کے لیے یہ فیس ادا کرنا کوئی مسئلہ نہیں، لیکن وہ لوگ جو مشکل سے گھر کا خرچ پورا کرتے ہیں، ان کے لیے یہ صورتحال روزمرہ زندگی کو تباہ کن بنا سکتی ہے  جیسا کہ بہت سے صارفین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کہا ہے۔</p>
<p>شہر میں جاری بے روزگاری اور کم از کم اجرت سے بھی کم تنخواہوں کے رجحان کے سبب، کراچی کے بے شمار شہری جز وقتی یا کل وقتی روزگار کے لیے ڈلیوری اور آن لائن رائیڈ ہیلنگ سروسز کا سہارا لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔</p>
<p>تاہم صوبائی حکومت کا ماننا ہے کہ ای چالان کے ذریعے جرمانوں کا نفاذ نہ صرف ٹریفک کو بہتر بنانے میں مددگار ہوگا بلکہ شہریوں کو سیٹ بیلٹ نہ باندھنے، اوور اسپیڈنگ، ہیلمٹ کے بغیر سفر کرنے اور غلط سمت میں گاڑی چلانے جیسے خطرات سے بھی محفوظ رکھے گا۔</p>
<p>ٹریفک ریگولیشن سسٹم کا افتتاح سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اکتوبر کے آخر میں کیا۔ یہ نظام اس وقت کراچی کی اہم شاہراہوں جیسے شارع فیصل پر فعال ہے، جبکہ اسے پورے شہر اور پھر صوبے کے دیگر اضلاع تک توسیع دینے کا منصوبہ ہے۔</p>
<p>یہ نظام کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کا حصہ ہے۔ پہلے مرحلے میں شہر کی اہم سڑکوں پر 1,076 کیمرے نصب کیے گئے ہیں، جنہیں تین مراحل میں بڑھا کر 12,000 تک کیا جائے گا۔</p>
<p>ایک رپورٹ کے مطابق، سندھ پولیس نے نظام کے آغاز کے صرف تین دنوں میں  10 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے جاری کیے۔</p>
<p>نظام میں کچھ تکنیکی خامیاں رپورٹ ہونے کے علاوہ حکومت کی جانب سے شہریوں پر عائد کیے جانے والے جرمانے بھی ان کی برداشت کی صلاحیت کے لحاظ سے غیر متناسب ہیں۔</p>
<p>شہریوں کا ماننا ہے کہ ان سے ایک ترقی یافتہ شہر کے برابر فیسیں وصول کی جا رہی ہیں، جبکہ انہیں بنیادی سہولیات تقریباً نہ ہونے کے برابر فراہم کی جاتی ہیں۔ سڑکیں گڑھوں سے بھری ہوئی ہیں، جگہ جگہ مرمت کے نشانات موجود ہیں، اسٹریٹ لائٹس کی کمی ہے، اور کئی مقامات پر ٹریفک سگنلز کام ہی نہیں کرتے۔</p>
<p>یہ مضمون بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279474</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Nov 2025 14:13:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بصیر احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/18140937425688e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/18140937425688e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
