<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ، سلامتی کونسل نے امریکی قرارداد منظور کرلی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279460/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو ایک امریکی مسودہ قرارداد منظور کی جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ ختم کرنے کے منصوبے کی حمایت کی گئی اور فلسطینی علاقے کے لیے انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کی اجازت دی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل اور فلسطینی گروپ حماس نے گزشتہ ماہ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کیا تھا، جس میں دو سالہ جنگ کے بعد جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی شامل تھی۔ تاہم، قرارداد کو عبوری حکومتی ادارے کو قانونی حیثیت دینے اور ان ممالک کو یقین دلانے کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے جو غزہ میں فوجی مشن بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ رکن ممالک ٹرمپ کے زیر صدارت بورڈ آف پیس میں حصہ لے سکتے ہیں، جو ایک عبوری اتھارٹی کے طور پر غزہ کی تعمیر نو اور اقتصادی بحالی کی نگرانی کرے گی۔ اس کے علاوہ یہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کو بھی اجازت دیتا ہے، جو غزہ میں اسلحہ ختم کرنے اور فوجی انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے عمل کو یقینی بنائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اس قرارداد کو قبول نہیں کرے گی اور اسرائیل کے خلاف اپنی مزاحمت کو جائز قرار دیا۔ امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا کہ یہ قرارداد فلسطینی خود ارادیت کے لیے ممکنہ راستہ فراہم کرتی ہے اور حماس کی گرفت ختم کرکے غزہ کو دہشت گردی کے سائے سے آزاد، خوشحال اور محفوظ بنائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی اور چینی سفارت کاروں نے قرارداد پر اتفاق رائے نہ ہونے پر تحفظات ظاہر کیے، لیکن روس نے ووٹ میں حصہ نہ لے کر قرارداد کی منظوری کو ممکن بنایا۔ فلسطینی اتھارٹی نے قرارداد کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ وہ اس کے نفاذ میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قرارداد اسرائیل میں متنازعہ رہی کیونکہ اس میں فلسطینی ریاست کے مستقبل کے امکانات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ متن میں کہا گیا ہے کہ جب فلسطینی اتھارٹی اصلاحی پروگرام مکمل کر لے اور غزہ کی تعمیر نو میں پیش رفت ہو، تو فلسطینی خود ارادیت اور ریاست کے لیے ممکنہ راستہ قائم ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کے مخالف ہے اور غزہ کو آسان یا مشکل طریقے سے غیر مسلح بنانے کا عزم رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو ایک امریکی مسودہ قرارداد منظور کی جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ ختم کرنے کے منصوبے کی حمایت کی گئی اور فلسطینی علاقے کے لیے انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کی اجازت دی گئی۔</strong></p>
<p>اسرائیل اور فلسطینی گروپ حماس نے گزشتہ ماہ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کیا تھا، جس میں دو سالہ جنگ کے بعد جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی شامل تھی۔ تاہم، قرارداد کو عبوری حکومتی ادارے کو قانونی حیثیت دینے اور ان ممالک کو یقین دلانے کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے جو غزہ میں فوجی مشن بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔</p>
<p>قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ رکن ممالک ٹرمپ کے زیر صدارت بورڈ آف پیس میں حصہ لے سکتے ہیں، جو ایک عبوری اتھارٹی کے طور پر غزہ کی تعمیر نو اور اقتصادی بحالی کی نگرانی کرے گی۔ اس کے علاوہ یہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کو بھی اجازت دیتا ہے، جو غزہ میں اسلحہ ختم کرنے اور فوجی انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کے عمل کو یقینی بنائے گی۔</p>
<p>حماس نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اس قرارداد کو قبول نہیں کرے گی اور اسرائیل کے خلاف اپنی مزاحمت کو جائز قرار دیا۔ امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا کہ یہ قرارداد فلسطینی خود ارادیت کے لیے ممکنہ راستہ فراہم کرتی ہے اور حماس کی گرفت ختم کرکے غزہ کو دہشت گردی کے سائے سے آزاد، خوشحال اور محفوظ بنائے گی۔</p>
<p>روسی اور چینی سفارت کاروں نے قرارداد پر اتفاق رائے نہ ہونے پر تحفظات ظاہر کیے، لیکن روس نے ووٹ میں حصہ نہ لے کر قرارداد کی منظوری کو ممکن بنایا۔ فلسطینی اتھارٹی نے قرارداد کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ وہ اس کے نفاذ میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>یہ قرارداد اسرائیل میں متنازعہ رہی کیونکہ اس میں فلسطینی ریاست کے مستقبل کے امکانات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ متن میں کہا گیا ہے کہ جب فلسطینی اتھارٹی اصلاحی پروگرام مکمل کر لے اور غزہ کی تعمیر نو میں پیش رفت ہو، تو فلسطینی خود ارادیت اور ریاست کے لیے ممکنہ راستہ قائم ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کے مخالف ہے اور غزہ کو آسان یا مشکل طریقے سے غیر مسلح بنانے کا عزم رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279460</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Nov 2025 11:52:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/1811462090ff3a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/1811462090ff3a0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
