<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ غالب، 100 انڈیکس 750 سے زائد پوائنٹس گرگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279455/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو آخری کاروباری سیشن میں مندی کا رجحان غالب آگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں  750 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز  پر سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط رویہ اختیار کیا گیا، بعد ازاں تیزی کا رجحان غالب آگیا اور 100 انڈیکس 500 پوائنٹس کے اضافے سے ایک لاکھ 62 ہزار  پوائنٹس کی سطح  بحال کرگیا تاہم آخری سیشن میں فروخت کے دباؤ سے تیزی کے اثرات زائل ہوگئے اور انڈیکس  دن کی کم ترین سطح 160,583.89 پوائنٹس تک گرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 752.05 پوائنٹس یا 0.47 فیصد کی کمی سے 160,935.13 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ  بین الاقوامی مارکیٹوں کے منفی زون میں کاروبار کے ساتھ، مقامی مارکیٹ نے عالمی رجحان کی پیروی کی، جب کہ تازہ مثبت خبروں کے بہاؤ کی کمی نے سرمایہ کاروں کو اپنی پوزیشنوں کو  محدود کرنے اور منافع کے حصول کے لیے اکسایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھاری حصص رکھنے والے اداروں بشمول پی آئی او سی، پی او ایل، پی ایس ای ایل، ڈی جی کے سی اور پی ٹی سی نے نمایاں اضافہ کیا، جس نے مجموعی طور پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 206 پوائنٹس کا حصہ ملایا۔ دوسری طرف بی اے ایچ ایل،ایم ای بی ایل،اینگرو ہولڈنگ اور یو بی ایل نے مل کر کے ایس ای 100 انڈیکس کو 360 پوائنٹس تک نیچے دھکیل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق اکتوبر میں  کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 112 ملین ڈالر  ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خسارہ  درآمدات کے نمایاں اضافے اور برآمدات میں کمی کے باعث سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پیر کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 248.01  پوائنٹس کی کمی سے  161,687.18 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر ایشیائی مارکیٹس منگل کی ابتدائی ٹریڈنگ میں دباؤ کا شکار رہیں کیونکہ مالیاتی منڈیوں کی نظریں امریکی اقتصادی اعدادوشمار کے اجرا پر جمی رہیں، جو حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث تاخیر کا شکار ہیں۔ اسی دوران سرمایہ کاروں نے اگلے ماہ فیڈرل ریزرو کی ممکنہ شرح سود میں کمی کی توقعات بھی واپس لے لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر، ایشیائی اسٹاکس میں منگل کو ابتدائی کاروبار میں گراوٹ دیکھی گئی، کیونکہ مالیاتی مارکیٹیں امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کی وجہ سے تاخیر کے شکار اہم اقتصادی اعداد و شمار کے اجرا کا انتظار کر رہی ہیںجبکہ سرمایہ کاروں نے اگلے ماہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کٹوتی کی بیٹس کم کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار امریکی معاشی اعدادوشمار کے منتظر ہیں تاکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت کی  ہیلتھ کے بارے میں اشارے حاصل کیے جا سکیں، خصوصاً ستمبر کے انتہائی اہم ‘نان فارم پے رولز’ کی رپورٹ، جو جمعرات کو جاری ہونی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطے میں توجہ جاپان کی نئی وزیرِاعظم سانائے تاکائچی کی بینک آف جاپان کے گورنر کازو اوئیدا کے ساتھ ملاقات پر بھی مرکوز رہی، گزشتہ ماہ منصب سنبھالنے کے بعد دونوں کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوئیدا نے عندیہ دیا ہے کہ ممکن ہے آئندہ ماہ ہی شرحِ سود میں اضافہ کیا جائے، تاہم تاکائچی اور ان کی وزیرِ خزانہ ساتسوکی کاتایاما واضح کر چکی ہیں کہ وہ شرحِ سود کو کم رکھنے کے حق میں ہیں جب تک افراطِ زر مستقل بنیادوں پر بینک آف جاپان کے 2 فیصد ہدف تک نہیں پہنچ جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کے ایشیا پیسیفک کے بڑے انڈیکس (جس میں جاپان شامل نہیں) میں 0.7 فیصد کی کمی دیکھی گئی، جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس 2 فیصد سے زائد مندی کا شکار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس کا حجم بڑھ کر 1,545.93 ملین ہو گیا جو گزشتہ روز 1,214.42 ملین ریکارڈ کیا گیا تھا۔ حصص کی مالیت جو گزشتہ سیشن میں 41.38 ارب روپے تھی، سے کم ہو کر 38.85 ارب روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کال ٹیلی کام 459.37 ملین شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہی، اس کے بعد بینک مکرمہ 166.20 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور بیکو اسٹیل لمیٹڈ 134.30 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کے روز مجموعی طور پر 474 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 179 میں اضافہ، 249 میں کمی اور 46  کمپنیوں کے شیئرز میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/181813404471f60.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/181813404471f60.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو آخری کاروباری سیشن میں مندی کا رجحان غالب آگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں  750 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز  پر سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط رویہ اختیار کیا گیا، بعد ازاں تیزی کا رجحان غالب آگیا اور 100 انڈیکس 500 پوائنٹس کے اضافے سے ایک لاکھ 62 ہزار  پوائنٹس کی سطح  بحال کرگیا تاہم آخری سیشن میں فروخت کے دباؤ سے تیزی کے اثرات زائل ہوگئے اور انڈیکس  دن کی کم ترین سطح 160,583.89 پوائنٹس تک گرگیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 752.05 پوائنٹس یا 0.47 فیصد کی کمی سے 160,935.13 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ  بین الاقوامی مارکیٹوں کے منفی زون میں کاروبار کے ساتھ، مقامی مارکیٹ نے عالمی رجحان کی پیروی کی، جب کہ تازہ مثبت خبروں کے بہاؤ کی کمی نے سرمایہ کاروں کو اپنی پوزیشنوں کو  محدود کرنے اور منافع کے حصول کے لیے اکسایا۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھاری حصص رکھنے والے اداروں بشمول پی آئی او سی، پی او ایل، پی ایس ای ایل، ڈی جی کے سی اور پی ٹی سی نے نمایاں اضافہ کیا، جس نے مجموعی طور پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 206 پوائنٹس کا حصہ ملایا۔ دوسری طرف بی اے ایچ ایل،ایم ای بی ایل،اینگرو ہولڈنگ اور یو بی ایل نے مل کر کے ایس ای 100 انڈیکس کو 360 پوائنٹس تک نیچے دھکیل دیا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق اکتوبر میں  کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 112 ملین ڈالر  ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>یہ خسارہ  درآمدات کے نمایاں اضافے اور برآمدات میں کمی کے باعث سامنے آیا۔</p>
<p>یاد رہے کہ پیر کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 248.01  پوائنٹس کی کمی سے  161,687.18 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر ایشیائی مارکیٹس منگل کی ابتدائی ٹریڈنگ میں دباؤ کا شکار رہیں کیونکہ مالیاتی منڈیوں کی نظریں امریکی اقتصادی اعدادوشمار کے اجرا پر جمی رہیں، جو حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث تاخیر کا شکار ہیں۔ اسی دوران سرمایہ کاروں نے اگلے ماہ فیڈرل ریزرو کی ممکنہ شرح سود میں کمی کی توقعات بھی واپس لے لیں۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر، ایشیائی اسٹاکس میں منگل کو ابتدائی کاروبار میں گراوٹ دیکھی گئی، کیونکہ مالیاتی مارکیٹیں امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کی وجہ سے تاخیر کے شکار اہم اقتصادی اعداد و شمار کے اجرا کا انتظار کر رہی ہیںجبکہ سرمایہ کاروں نے اگلے ماہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کٹوتی کی بیٹس کم کر دیں۔</p>
<p>سرمایہ کار امریکی معاشی اعدادوشمار کے منتظر ہیں تاکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت کی  ہیلتھ کے بارے میں اشارے حاصل کیے جا سکیں، خصوصاً ستمبر کے انتہائی اہم ‘نان فارم پے رولز’ کی رپورٹ، جو جمعرات کو جاری ہونی ہے۔</p>
<p>خطے میں توجہ جاپان کی نئی وزیرِاعظم سانائے تاکائچی کی بینک آف جاپان کے گورنر کازو اوئیدا کے ساتھ ملاقات پر بھی مرکوز رہی، گزشتہ ماہ منصب سنبھالنے کے بعد دونوں کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہوگی۔</p>
<p>اوئیدا نے عندیہ دیا ہے کہ ممکن ہے آئندہ ماہ ہی شرحِ سود میں اضافہ کیا جائے، تاہم تاکائچی اور ان کی وزیرِ خزانہ ساتسوکی کاتایاما واضح کر چکی ہیں کہ وہ شرحِ سود کو کم رکھنے کے حق میں ہیں جب تک افراطِ زر مستقل بنیادوں پر بینک آف جاپان کے 2 فیصد ہدف تک نہیں پہنچ جاتا۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کے ایشیا پیسیفک کے بڑے انڈیکس (جس میں جاپان شامل نہیں) میں 0.7 فیصد کی کمی دیکھی گئی، جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس 2 فیصد سے زائد مندی کا شکار رہا۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس کا حجم بڑھ کر 1,545.93 ملین ہو گیا جو گزشتہ روز 1,214.42 ملین ریکارڈ کیا گیا تھا۔ حصص کی مالیت جو گزشتہ سیشن میں 41.38 ارب روپے تھی، سے کم ہو کر 38.85 ارب روپے ہوگئی۔</p>
<p>ورلڈ کال ٹیلی کام 459.37 ملین شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہی، اس کے بعد بینک مکرمہ 166.20 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور بیکو اسٹیل لمیٹڈ 134.30 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔</p>
<p>منگل کے روز مجموعی طور پر 474 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 179 میں اضافہ، 249 میں کمی اور 46  کمپنیوں کے شیئرز میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/181813404471f60.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/11/181813404471f60.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279455</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Nov 2025 19:19:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/1812313308da4d2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/1812313308da4d2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
