<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 12:58:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 12:58:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روس کے اہم برآمدی مرکز سے سپلائی بحال، خام تیل کی قیمتوں میں کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279447/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں  منگل کے روز خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، کیونکہ روس کے اہم برآمدی مرکز پر حملے کے بعد رُکی ہوئی سپلائی دوبارہ شروع ہونے سے فراہمی کے خدشات میں کمی آئی ہے۔ یہ تعطل یوکرین کے ڈرون اور میزائل حملے کے باعث پیدا ہوا تھا، تاہم لوڈنگ بحال ہونے سے منڈی میں دباؤ کم ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز 28 سینٹ یا 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 63.92 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 26 سینٹ کمی کے ساتھ 59.65 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی ذرائع اور ایل ایس ای جی کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق، روس کی نوورو سیسک بندرگاہ نے دو روزہ تعطل کے بعد اتوار کو تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کردی۔ یہ بندش جمعہ کو یوکرینی حملے کے بعد نافذ ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں اس دن خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ نوورو سیسک اور قریبی کیسپیئن پائپ لائن کنسورشیم ٹرمینل سے مجموعی طور پر یومیہ 2.2 ملین بیرل، یعنی عالمی سپلائی کا تقریباً 2 فیصد، برآمد کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتوں میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوڈنگ توقع سے پہلے شروع ہوگئی ہے۔ دوسری جانب تاجر اب اپنی توجہ روسی تیل کی برآمدات پر مغربی پابندیوں کے طویل المدتی اثرات پر مرکوز کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ اکتوبر میں روسنیفٹ اور لوک آئل پر لگائی گئی پابندیاں ماسکو کی تیل آمدنی کم کر رہی ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ برآمدات میں کمی لانے کا امکان ہے۔ رپورٹوں کے مطابق روسی خام تیل عالمی بینچ مارکس کے مقابلے میں نمایاں رعایت پر فروخت ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس پر پابندیوں سے متعلق قانون سازی پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ نفاذ کا حتمی اختیار ان کے پاس رہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ریپبلکنز ایسا بل تیار کر رہے ہیں جو روس کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی ملک پر پابندیاں عائد کرے گا، اور ایران کو بھی اس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر گولڈمین ساکس نے پیشگوئی کی ہے کہ 2026 تک عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ہوگی کیونکہ سپلائی میں اضافے سے مارکیٹ سرپلس کا شکار رہے گی۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر روسی پیداوار میں زیادہ تیزی سے کمی آئی تو 2026 یا 2027 میں برینٹ کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں  منگل کے روز خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، کیونکہ روس کے اہم برآمدی مرکز پر حملے کے بعد رُکی ہوئی سپلائی دوبارہ شروع ہونے سے فراہمی کے خدشات میں کمی آئی ہے۔ یہ تعطل یوکرین کے ڈرون اور میزائل حملے کے باعث پیدا ہوا تھا، تاہم لوڈنگ بحال ہونے سے منڈی میں دباؤ کم ہوا۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز 28 سینٹ یا 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 63.92 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 26 سینٹ کمی کے ساتھ 59.65 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔</p>
<p>صنعتی ذرائع اور ایل ایس ای جی کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق، روس کی نوورو سیسک بندرگاہ نے دو روزہ تعطل کے بعد اتوار کو تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کردی۔ یہ بندش جمعہ کو یوکرینی حملے کے بعد نافذ ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں اس دن خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ نوورو سیسک اور قریبی کیسپیئن پائپ لائن کنسورشیم ٹرمینل سے مجموعی طور پر یومیہ 2.2 ملین بیرل، یعنی عالمی سپلائی کا تقریباً 2 فیصد، برآمد کیا جاتا ہے۔</p>
<p>مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتوں میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوڈنگ توقع سے پہلے شروع ہوگئی ہے۔ دوسری جانب تاجر اب اپنی توجہ روسی تیل کی برآمدات پر مغربی پابندیوں کے طویل المدتی اثرات پر مرکوز کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ اکتوبر میں روسنیفٹ اور لوک آئل پر لگائی گئی پابندیاں ماسکو کی تیل آمدنی کم کر رہی ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ برآمدات میں کمی لانے کا امکان ہے۔ رپورٹوں کے مطابق روسی خام تیل عالمی بینچ مارکس کے مقابلے میں نمایاں رعایت پر فروخت ہو رہا ہے۔</p>
<p>ادھر ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس پر پابندیوں سے متعلق قانون سازی پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ نفاذ کا حتمی اختیار ان کے پاس رہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ریپبلکنز ایسا بل تیار کر رہے ہیں جو روس کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی ملک پر پابندیاں عائد کرے گا، اور ایران کو بھی اس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ادھر گولڈمین ساکس نے پیشگوئی کی ہے کہ 2026 تک عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ہوگی کیونکہ سپلائی میں اضافے سے مارکیٹ سرپلس کا شکار رہے گی۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر روسی پیداوار میں زیادہ تیزی سے کمی آئی تو 2026 یا 2027 میں برینٹ کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279447</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Nov 2025 09:31:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/1809295465dcbef.webp" type="image/webp" medium="image" height="328" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/1809295465dcbef.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
