<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 07 Jun 2026 00:20:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 07 Jun 2026 00:20:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ سعودی عرب کو ایف۔35 طیارے فروخت کرے گا، ٹرمپ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279446/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب کو امریکی ساختہ ایف۔35 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کی فروخت کی منظوری دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ بیان انہوں نے اس سے ایک روز قبل دیا جب وہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو ایک روزہ  دورے پر وائٹ ہاؤس میں خوش آمدید کہنے والے ہیں۔ ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ہم یہ کریں گے، ہم ایف۔35 فروخت کریں گے۔”&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ معاہدہ طے پاتا ہے تو یہ امریکی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی، جو مشرق وسطیٰ میں عسکری توازن پر اثرانداز ہونے کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کی اس روایت کا بھی امتحان لے گی جس کے مطابق اسرائیل کی عسکری برتری کو برقرار رکھا جاتا ہے۔ سعودی عرب نے 48  ایف۔35 طیارے خریدنے کی درخواست دے رکھی ہے، جو اربوں ڈالر مالیت کا ممکنہ سودا ہے اور جسے رواں ماہ کے آغاز میں امریکی محکمہ دفاع کی ایک اہم جانچ سے منظوری مل چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب طویل عرصے سے لاک ہیڈ مارٹن کے اس جدید لڑاکا طیارے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ایک سینئر امریکی اہلکار کے مطابق صدر ٹرمپ طیاروں کے معاملے پر سعودی ولی عہد کے ساتھ تفصیلی بات کرنا چاہتے ہیں، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ سعودی عرب، جو امریکی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے، اپنی فضائیہ کو جدید بنانے اور خصوصاً ایران سے درپیش علاقائی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ان طیاروں کا خواہش مند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سودے پر کئی ماہ سے پینٹاگون کے پالیسی ماہرین کام کر رہے تھے۔ امریکا مشرق وسطیٰ میں اسلحہ فروخت کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھتا ہے کہ اسرائیل کی معیاری عسکری برتری برقرار رہے، جس کے تحت اسرائیل کو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ جدید امریکی اسلحہ فراہم کیا جاتا ہے۔ ایف۔35 دنیا کا سب سے جدید اسٹیلتھ طیارہ سمجھا جاتا ہے، اور اسرائیل اسے تقریباً ایک دہائی سے استعمال کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بائیڈن انتظامیہ نے ماضی میں سعودی عرب کو ایف۔35 فراہم کرنے کے بدلے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر بات چیت کی تھی، مگر وہ کوششیں آگے نہ بڑھ سکیں۔ دوسری جانب امریکی کانگریس میں کچھ ارکان اب بھی سعودی عرب کے ساتھ بڑے دفاعی سودوں کے حوالے سے محتاط ہیں، خصوصاً جمال خاشقجی کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی تنقید کے باعث۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب کو امریکی ساختہ ایف۔35 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کی فروخت کی منظوری دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ بیان انہوں نے اس سے ایک روز قبل دیا جب وہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو ایک روزہ  دورے پر وائٹ ہاؤس میں خوش آمدید کہنے والے ہیں۔ ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ہم یہ کریں گے، ہم ایف۔35 فروخت کریں گے۔”</strong></p>
<p>اگر یہ معاہدہ طے پاتا ہے تو یہ امریکی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی، جو مشرق وسطیٰ میں عسکری توازن پر اثرانداز ہونے کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کی اس روایت کا بھی امتحان لے گی جس کے مطابق اسرائیل کی عسکری برتری کو برقرار رکھا جاتا ہے۔ سعودی عرب نے 48  ایف۔35 طیارے خریدنے کی درخواست دے رکھی ہے، جو اربوں ڈالر مالیت کا ممکنہ سودا ہے اور جسے رواں ماہ کے آغاز میں امریکی محکمہ دفاع کی ایک اہم جانچ سے منظوری مل چکی ہے۔</p>
<p>سعودی عرب طویل عرصے سے لاک ہیڈ مارٹن کے اس جدید لڑاکا طیارے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ایک سینئر امریکی اہلکار کے مطابق صدر ٹرمپ طیاروں کے معاملے پر سعودی ولی عہد کے ساتھ تفصیلی بات کرنا چاہتے ہیں، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ سعودی عرب، جو امریکی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے، اپنی فضائیہ کو جدید بنانے اور خصوصاً ایران سے درپیش علاقائی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ان طیاروں کا خواہش مند ہے۔</p>
<p>اس سودے پر کئی ماہ سے پینٹاگون کے پالیسی ماہرین کام کر رہے تھے۔ امریکا مشرق وسطیٰ میں اسلحہ فروخت کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھتا ہے کہ اسرائیل کی معیاری عسکری برتری برقرار رہے، جس کے تحت اسرائیل کو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ جدید امریکی اسلحہ فراہم کیا جاتا ہے۔ ایف۔35 دنیا کا سب سے جدید اسٹیلتھ طیارہ سمجھا جاتا ہے، اور اسرائیل اسے تقریباً ایک دہائی سے استعمال کر رہا ہے۔</p>
<p>اگرچہ بائیڈن انتظامیہ نے ماضی میں سعودی عرب کو ایف۔35 فراہم کرنے کے بدلے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر بات چیت کی تھی، مگر وہ کوششیں آگے نہ بڑھ سکیں۔ دوسری جانب امریکی کانگریس میں کچھ ارکان اب بھی سعودی عرب کے ساتھ بڑے دفاعی سودوں کے حوالے سے محتاط ہیں، خصوصاً جمال خاشقجی کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی تنقید کے باعث۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279446</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Nov 2025 09:23:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/180921523a696cb.webp" type="image/webp" medium="image" height="321" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/180921523a696cb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
