<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:16:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:16:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ٹی برآمدات 386 ملین ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279445/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے نے اکتوبر 2025 میں ریکارڈ کارکردگی دکھائی، جب ماہانہ آئی ٹی برآمدات 386 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حجم سالانہ بنیاد پر 17 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 5 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے، جو گزشتہ 12 ماہ کی اوسط 332 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔ جون 2025 کے بعد سے یہ مسلسل پانچواں مہینا ہے جس میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں سالانہ اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر کی مضبوط کارکردگی کی بدولت مالی سال 26 کے ابتدائی چار ماہ میں آئی ٹی برآمدات مجموعی طور پر 1.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20 فیصد زائد ہیں۔ اکتوبر میں یومیہ اوسط آمدنی 16.78 ملین ڈالر رہی، جو ستمبر میں ریکارڈ 16.64 ملین ڈالر سے کچھ زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی ماہرین کے مطابق اکتوبر میں آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں مقامی آئی ٹی کمپنیوں کے کلائنٹ پورٹ فولیوز میں توسیع، خصوصاً خلیجی ممالک میں، اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے حالیہ سہولت کاری اقدامات شامل ہیں۔ ان اقدامات میں برآمد کنندگان کے لیے خصوصی غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں قابلِ اجازت ریٹینشن حد کو 50 فیصد تک بڑھانا اور ان اکاؤنٹس کے ذریعے بیرونِ ملک ایکویٹی انویسٹمنٹ کی اجازت دینا شامل ہے۔ زرِ مبادلہ کی شرح میں نسبتاً استحکام نے بھی آئی ٹی برآمد کنندگان کو اپنی آمدنی کا زیادہ حصہ پاکستان بھجوانے کی ترغیب دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کے ایک سروے کے مطابق 62 فیصد آئی ٹی کمپنیاں اس وقت خصوصی غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس رکھتی ہیں اور نئے ضابطہ کار کے فوائد حاصل کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خالص آئی ٹی برآمدات، یعنی برآمدات میں سے درآمدات منہا کرنے کے بعد کی رقم، اکتوبر 2025 میں 335 ملین ڈالر رہی، جو سالانہ بنیاد پر 12 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 2 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ یہ حجم بھی گزشتہ 12 ماہ کی اوسط 292 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ حکومت نے مالی سال 26 کے لیے آئی ٹی برآمدات کا ہدف 5 ارب ڈالر رکھا ہے، مگر موجودہ رجحانات 18 سے 20 فیصد کی شرح نمو کی جانب اشارہ کرتے ہیں، جس کے تحت رواں مالی سال کی مجموعی آئی ٹی برآمدات تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو مالی سال 25 میں 3.8 ارب ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی معاشی منصوبہ اُڑان پاکستان کے تحت حکام نے مالی سال  29 تک آئی ٹی برآمدات کو 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کا طویل مدتی ہدف بھی مقرر کیا ہے، جس کے حصول کے لیے اگلے چار برسوں میں 27 فیصد کی اوسط سالانہ شرح نمو درکار ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے نے اکتوبر 2025 میں ریکارڈ کارکردگی دکھائی، جب ماہانہ آئی ٹی برآمدات 386 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔</strong></p>
<p>یہ حجم سالانہ بنیاد پر 17 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 5 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے، جو گزشتہ 12 ماہ کی اوسط 332 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔ جون 2025 کے بعد سے یہ مسلسل پانچواں مہینا ہے جس میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں سالانہ اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p>اکتوبر کی مضبوط کارکردگی کی بدولت مالی سال 26 کے ابتدائی چار ماہ میں آئی ٹی برآمدات مجموعی طور پر 1.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20 فیصد زائد ہیں۔ اکتوبر میں یومیہ اوسط آمدنی 16.78 ملین ڈالر رہی، جو ستمبر میں ریکارڈ 16.64 ملین ڈالر سے کچھ زیادہ ہے۔</p>
<p>صنعتی ماہرین کے مطابق اکتوبر میں آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں مقامی آئی ٹی کمپنیوں کے کلائنٹ پورٹ فولیوز میں توسیع، خصوصاً خلیجی ممالک میں، اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے حالیہ سہولت کاری اقدامات شامل ہیں۔ ان اقدامات میں برآمد کنندگان کے لیے خصوصی غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں قابلِ اجازت ریٹینشن حد کو 50 فیصد تک بڑھانا اور ان اکاؤنٹس کے ذریعے بیرونِ ملک ایکویٹی انویسٹمنٹ کی اجازت دینا شامل ہے۔ زرِ مبادلہ کی شرح میں نسبتاً استحکام نے بھی آئی ٹی برآمد کنندگان کو اپنی آمدنی کا زیادہ حصہ پاکستان بھجوانے کی ترغیب دی۔</p>
<p>پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کے ایک سروے کے مطابق 62 فیصد آئی ٹی کمپنیاں اس وقت خصوصی غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس رکھتی ہیں اور نئے ضابطہ کار کے فوائد حاصل کر رہی ہیں۔</p>
<p>خالص آئی ٹی برآمدات، یعنی برآمدات میں سے درآمدات منہا کرنے کے بعد کی رقم، اکتوبر 2025 میں 335 ملین ڈالر رہی، جو سالانہ بنیاد پر 12 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 2 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ یہ حجم بھی گزشتہ 12 ماہ کی اوسط 292 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔</p>
<p>اگرچہ حکومت نے مالی سال 26 کے لیے آئی ٹی برآمدات کا ہدف 5 ارب ڈالر رکھا ہے، مگر موجودہ رجحانات 18 سے 20 فیصد کی شرح نمو کی جانب اشارہ کرتے ہیں، جس کے تحت رواں مالی سال کی مجموعی آئی ٹی برآمدات تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو مالی سال 25 میں 3.8 ارب ڈالر تھیں۔</p>
<p>قومی معاشی منصوبہ اُڑان پاکستان کے تحت حکام نے مالی سال  29 تک آئی ٹی برآمدات کو 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کا طویل مدتی ہدف بھی مقرر کیا ہے، جس کے حصول کے لیے اگلے چار برسوں میں 27 فیصد کی اوسط سالانہ شرح نمو درکار ہوگی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279445</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Nov 2025 09:14:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد ثاقب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/1809115784e50d0.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/1809115784e50d0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
