<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 21:35:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 21:35:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلادیش، معاملات حسینہ واجد کی سزائے موت تک کیسے پہنچے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279435/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے پیر کے روز سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو سزائے موت سنادی، ایک ایسے مقدمے میں جس میں انہیں گزشتہ سال طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج پر طاقت کے استعمال کا براہِ راست حکم دینے کا مجرم قرار دیا گیا۔ یہ فیصلہ کئی ماہ تک جاری رہنے والے ٹرائل کے بعد سامنے آیا، جس نے ملک کی سیاسی صورتحال کو مزید بے یقینی کی طرف دھکیل دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلم اکثریتی جنوبی ایشیائی ملک، جس کی آبادی 170 ملین ہے، اگست 2024 میں حسینہ کے بھارت فرار کے بعد سے عدم استحکام کا شکار ہے۔ یہ فرار اُس وقت ہوا جب طلبہ احتجاج اپنے عروج پر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جولائی 2024 کا خونی احتجاج&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتجاجی تحریک کی قیادت اسٹوڈنٹس اگینسٹ ڈسکرمنیشن نامی گروپ کر رہا تھا، جو ابتدا میں سرکاری نوکریوں میں کوٹہ نظام کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ مگر جولائی 2024 میں تحریک نے شدت پکڑی اور مظاہرین نے حسینہ واجد کے استعفے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ مظاہرین کی جھڑپیں سیکورٹی فورسز اور حکمراں عوامی لیگ کے کارکنوں سے ہوئیں، جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;5 اگست کو صورتحال بدترین سطح پر پہنچ گئی جب مشتعل ہجوم وزیراعظم ہاؤس کی طرف بڑھا اور حسینہ واجد کو عجلت میں بھارت فرار ہونا پڑا۔ وہ اس وقت سے نئی دہلی میں مقیم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;محمد یونس کی عبوری حکومت&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسینہ واجد کے فرار کے بعد ایک عبوری حکومت تشکیل دی گئی، جس کا مقصد ملک میں استحکام بحال کرنا اور انتخابات کی تیاری کرنا تھا۔ 85 سالہ نوبیل انعام یافتہ محمد یونس نے ڈی فیکٹو وزیراعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ان کے مطابق عام انتخابات فروری کے اوائل میں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبوری حکومت نے ادارہ جاتی اصلاحات کے وسیع پروگرام کا اعلان تو کیا، لیکن پیش رفت سست اور غیر مربوط رہی ہے۔ غیر جانبدار نگران حکومت کی بحالی، ریاستی اداروں کی ڈی پولیٹیسائزیشن اور الیکشن کمیشن کی اصلاحات جیسے اقدامات پر وسیع اتفاق رائے موجود ہے، مگر آئینی ترامیم اور دو ایوانی پارلیمان کے قیام جیسے بڑے فیصلوں پر سیاسی جماعتوں میں شدید اختلافات نے پیش رفت روک دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عوامی توقعات اور حکومتی کارکردگی کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انتخابات، شمولیت اور تنازع&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبوری حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اصلاحات اور بروقت انتخابات کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ اس میں مزید پیچیدگی اُس وقت آئی جب عوامی لیگ کی رجسٹریشن معطل کر دی گئی، جس نے جماعت کو انتخابات میں حصہ لینے سے عملاً روک دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے اندر ایک بڑا طبقہ چاہتا ہے کہ عوامی لیگ کو انتخابی عمل میں شامل کیا جائے، کیونکہ شمولیت کے بغیر الیکشن کی ساکھ مشکوک ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب 2024 کی تحریک کے اثر سے ابھرنے والی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ عبوری حکومت اسے خفیہ طور پر فائدہ پہنچا رہی ہے، اگرچہ حکومت اس تاثر کی تردید کرتی ہے۔ تاہم اس شبہے نے انتخابی عمل کی شفافیت پر مزید سوال اٹھا دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بدلا ہوا مگر کمزور سیاسی ماحول&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سخت نگرانی کے باوجود چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اگست 2024 سے اکتوبر 2025 کے دوران ہجوم کے ہاتھوں 261 افراد کی جانیں گئیں۔ صحافیوں، خواتین اور اقلیتی برادریوں کے خلاف ہراسگی کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اگرچہ پچھلی حکومت کے بعض آمرانہ طریقے ختم ہوئے ہیں، لیکن عبوری حکومت نے بھی من مانیاں گرفتاریاں، سیاسی مقدمات اور خصوصی اختیارات کے قانون کے استعمال جیسے اقدامات کیے ہیں۔ حکومت ان الزامات کو تسلیم نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;’جولائی ڈیکلریشن‘ اور ریفرینڈم&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال کے احتجاج کے بعد تیار کیا گیا ’جولائی ڈیکلریشن‘ ملک کی سیاسی اور آئینی سمت کا نیا لائحہ عمل پیش کرتا ہے۔ گزشتہ ہفتے محمد یونس نے اعلان کیا کہ فروری کے انتخابات کے ساتھ ساتھ اس چارٹر پر ایک قومی ریفرینڈم بھی کرایا جائے گا۔ اگر پارلیمان اسے منظور کرلے تو یہ چارٹر آئین کا حصہ بن جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چارٹر میں عورتوں کی بڑھتی نمائندگی، وزیراعظم کی مدت کی حد، صدر کے اختیارات میں اضافہ، بنیادی حقوق کی توسیع اور عدلیہ کی عملی آزادی جیسے بڑے اہداف شامل ہیں، جبکہ 2024 کی تحریک کو آئینی حیثیت دینے کی سفارش بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے پیر کے روز سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو سزائے موت سنادی، ایک ایسے مقدمے میں جس میں انہیں گزشتہ سال طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج پر طاقت کے استعمال کا براہِ راست حکم دینے کا مجرم قرار دیا گیا۔ یہ فیصلہ کئی ماہ تک جاری رہنے والے ٹرائل کے بعد سامنے آیا، جس نے ملک کی سیاسی صورتحال کو مزید بے یقینی کی طرف دھکیل دیا ہے۔</strong></p>
<p>مسلم اکثریتی جنوبی ایشیائی ملک، جس کی آبادی 170 ملین ہے، اگست 2024 میں حسینہ کے بھارت فرار کے بعد سے عدم استحکام کا شکار ہے۔ یہ فرار اُس وقت ہوا جب طلبہ احتجاج اپنے عروج پر تھا۔</p>
<p><strong>جولائی 2024 کا خونی احتجاج</strong></p>
<p>احتجاجی تحریک کی قیادت اسٹوڈنٹس اگینسٹ ڈسکرمنیشن نامی گروپ کر رہا تھا، جو ابتدا میں سرکاری نوکریوں میں کوٹہ نظام کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ مگر جولائی 2024 میں تحریک نے شدت پکڑی اور مظاہرین نے حسینہ واجد کے استعفے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ مظاہرین کی جھڑپیں سیکورٹی فورسز اور حکمراں عوامی لیگ کے کارکنوں سے ہوئیں، جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔</p>
<p>5 اگست کو صورتحال بدترین سطح پر پہنچ گئی جب مشتعل ہجوم وزیراعظم ہاؤس کی طرف بڑھا اور حسینہ واجد کو عجلت میں بھارت فرار ہونا پڑا۔ وہ اس وقت سے نئی دہلی میں مقیم ہیں۔</p>
<p><strong>محمد یونس کی عبوری حکومت</strong></p>
<p>حسینہ واجد کے فرار کے بعد ایک عبوری حکومت تشکیل دی گئی، جس کا مقصد ملک میں استحکام بحال کرنا اور انتخابات کی تیاری کرنا تھا۔ 85 سالہ نوبیل انعام یافتہ محمد یونس نے ڈی فیکٹو وزیراعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ان کے مطابق عام انتخابات فروری کے اوائل میں ہوں گے۔</p>
<p>عبوری حکومت نے ادارہ جاتی اصلاحات کے وسیع پروگرام کا اعلان تو کیا، لیکن پیش رفت سست اور غیر مربوط رہی ہے۔ غیر جانبدار نگران حکومت کی بحالی، ریاستی اداروں کی ڈی پولیٹیسائزیشن اور الیکشن کمیشن کی اصلاحات جیسے اقدامات پر وسیع اتفاق رائے موجود ہے، مگر آئینی ترامیم اور دو ایوانی پارلیمان کے قیام جیسے بڑے فیصلوں پر سیاسی جماعتوں میں شدید اختلافات نے پیش رفت روک دی ہے۔</p>
<p>سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عوامی توقعات اور حکومتی کارکردگی کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔</p>
<p><strong>انتخابات، شمولیت اور تنازع</strong></p>
<p>عبوری حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اصلاحات اور بروقت انتخابات کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ اس میں مزید پیچیدگی اُس وقت آئی جب عوامی لیگ کی رجسٹریشن معطل کر دی گئی، جس نے جماعت کو انتخابات میں حصہ لینے سے عملاً روک دیا۔</p>
<p>ملک کے اندر ایک بڑا طبقہ چاہتا ہے کہ عوامی لیگ کو انتخابی عمل میں شامل کیا جائے، کیونکہ شمولیت کے بغیر الیکشن کی ساکھ مشکوک ہوسکتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب 2024 کی تحریک کے اثر سے ابھرنے والی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ عبوری حکومت اسے خفیہ طور پر فائدہ پہنچا رہی ہے، اگرچہ حکومت اس تاثر کی تردید کرتی ہے۔ تاہم اس شبہے نے انتخابی عمل کی شفافیت پر مزید سوال اٹھا دیے ہیں۔</p>
<p><strong>بدلا ہوا مگر کمزور سیاسی ماحول</strong></p>
<p>قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سخت نگرانی کے باوجود چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اگست 2024 سے اکتوبر 2025 کے دوران ہجوم کے ہاتھوں 261 افراد کی جانیں گئیں۔ صحافیوں، خواتین اور اقلیتی برادریوں کے خلاف ہراسگی کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔</p>
<p>ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اگرچہ پچھلی حکومت کے بعض آمرانہ طریقے ختم ہوئے ہیں، لیکن عبوری حکومت نے بھی من مانیاں گرفتاریاں، سیاسی مقدمات اور خصوصی اختیارات کے قانون کے استعمال جیسے اقدامات کیے ہیں۔ حکومت ان الزامات کو تسلیم نہیں کرتی۔</p>
<p><strong>’جولائی ڈیکلریشن‘ اور ریفرینڈم</strong></p>
<p>گزشتہ سال کے احتجاج کے بعد تیار کیا گیا ’جولائی ڈیکلریشن‘ ملک کی سیاسی اور آئینی سمت کا نیا لائحہ عمل پیش کرتا ہے۔ گزشتہ ہفتے محمد یونس نے اعلان کیا کہ فروری کے انتخابات کے ساتھ ساتھ اس چارٹر پر ایک قومی ریفرینڈم بھی کرایا جائے گا۔ اگر پارلیمان اسے منظور کرلے تو یہ چارٹر آئین کا حصہ بن جائے گا۔</p>
<p>چارٹر میں عورتوں کی بڑھتی نمائندگی، وزیراعظم کی مدت کی حد، صدر کے اختیارات میں اضافہ، بنیادی حقوق کی توسیع اور عدلیہ کی عملی آزادی جیسے بڑے اہداف شامل ہیں، جبکہ 2024 کی تحریک کو آئینی حیثیت دینے کی سفارش بھی موجود ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279435</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Nov 2025 15:53:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/171547463403f3e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/171547463403f3e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
