<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 08:48:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 08:48:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا کا مشرقی بحرالکاہل میں منشیات بردار کشتی پر ایک اور حملہ، 3 افراد ہلاک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279427/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی محکمۂ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے ہفتہ کے روز مشرقی بحرالکاہل میں مبینہ منشیات اسمگلنگ میں ملوث ایک کشتی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کشتی پر سوار 3 افراد ہلاک ہوگئے۔ اتوار کو جاری بیان میں پینٹاگون نے کہا کہ یہ کارروائی جوائنٹ ٹاسک فورس سدرن اسپیئر نے بین الاقوامی پانیوں میں انجام دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سدرن کمانڈ کے مطابق انٹیلی جنس نے تصدیق کی تھی کہ یہ کشتی غیرقانونی منشیات اسمگلنگ میں ملوث تھی اور منشیات کی ترسیل کے لیے معروف سمندری راستے پر رواں دواں تھی۔ حکام کے مطابق کشتی میں منشیات بھی موجود تھیں جنہیں امریکا اسمگل کیا جانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کارروائی ستمبر کے آغاز سے اب تک 21واں حملہ ہے، جو امریکی فوج نے منشیات بردار کشتیوں کے خلاف کیا ہے۔ پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں اب تک 80 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی کانگریس کے قانون سازوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعدد اتحادی ممالک نے ان کارروائیوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں ہلاکت خیز حملے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کی مکمل قانونی منظوری موجود ہے، اور امریکی محکمۂ انصاف نے اس حوالے سے رائے دی ہے کہ ان حملوں میں شریک امریکی فوجی اہلکاروں کو کسی قسم کی قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار ہی کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا کہ مبینہ منشیات نیٹ ورک کارٹیل دے لوس سولیس کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے۔ اس فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد امریکا میں کسی بھی فرد یا ادارے کے لیے اس تنظیم کو مالی یا مادی معاونت فراہم کرنا جرم ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کے مطابق کارٹیل دے لوس سولیس، وینزویلا کے جرائم پیشہ گروہ ٹرین دے ارگوا کے ساتھ مل کر امریکا کو منشیات بھیج رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ دعویٰ کرتی ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو اس کارٹیل کی قیادت کرتے ہیں، تاہم وہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکا نے کیریبین خطے میں جنگی بحری جہاز، لڑاکا طیارے اور ایک جوہری آبدوز بھی تعینات کر دی ہے، جبکہ واشنگٹن اس وقت مادورو حکومت کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی محکمۂ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے ہفتہ کے روز مشرقی بحرالکاہل میں مبینہ منشیات اسمگلنگ میں ملوث ایک کشتی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کشتی پر سوار 3 افراد ہلاک ہوگئے۔ اتوار کو جاری بیان میں پینٹاگون نے کہا کہ یہ کارروائی جوائنٹ ٹاسک فورس سدرن اسپیئر نے بین الاقوامی پانیوں میں انجام دی۔</strong></p>
<p>امریکی سدرن کمانڈ کے مطابق انٹیلی جنس نے تصدیق کی تھی کہ یہ کشتی غیرقانونی منشیات اسمگلنگ میں ملوث تھی اور منشیات کی ترسیل کے لیے معروف سمندری راستے پر رواں دواں تھی۔ حکام کے مطابق کشتی میں منشیات بھی موجود تھیں جنہیں امریکا اسمگل کیا جانا تھا۔</p>
<p>یہ کارروائی ستمبر کے آغاز سے اب تک 21واں حملہ ہے، جو امریکی فوج نے منشیات بردار کشتیوں کے خلاف کیا ہے۔ پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں اب تک 80 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>
<p>امریکی کانگریس کے قانون سازوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعدد اتحادی ممالک نے ان کارروائیوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں ہلاکت خیز حملے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آسکتے ہیں۔</p>
<p>تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کی مکمل قانونی منظوری موجود ہے، اور امریکی محکمۂ انصاف نے اس حوالے سے رائے دی ہے کہ ان حملوں میں شریک امریکی فوجی اہلکاروں کو کسی قسم کی قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔</p>
<p>اتوار ہی کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا کہ مبینہ منشیات نیٹ ورک کارٹیل دے لوس سولیس کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے۔ اس فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد امریکا میں کسی بھی فرد یا ادارے کے لیے اس تنظیم کو مالی یا مادی معاونت فراہم کرنا جرم ہوگا۔</p>
<p>امریکی حکام کے مطابق کارٹیل دے لوس سولیس، وینزویلا کے جرائم پیشہ گروہ ٹرین دے ارگوا کے ساتھ مل کر امریکا کو منشیات بھیج رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ دعویٰ کرتی ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو اس کارٹیل کی قیادت کرتے ہیں، تاہم وہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔</p>
<p>ادھر امریکا نے کیریبین خطے میں جنگی بحری جہاز، لڑاکا طیارے اور ایک جوہری آبدوز بھی تعینات کر دی ہے، جبکہ واشنگٹن اس وقت مادورو حکومت کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279427</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Nov 2025 13:55:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/171353406cfda69.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/171353406cfda69.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
