<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:25:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:25:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معاشی مستقبل آبادی اور ماحولیاتی اقدامات سے وابستہ ہے، محمد اورنگزیب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279418/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے طویل مدتی اقتصادی امکانات اس بات پر منحصر ہیں کہ ملک تیزی سے بڑھتی آبادی اور ماحولیاتی خطرات جیسے دوہرے قومی چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات انہوں نے  پاپولیشن کونسل کے زیراہتمام ڈسٹرکٹ ولنرایبلیٹی انڈیکس آف پاکستان کے اجراء کے موقع پرمنعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر  نے نشاندہی کی کہ اگرچہ ملک مجموعی معاشی استحکام  اور ترقی کی جانب اپنا راستہ جاری رکھے ہوئے ہے لیکن پاکستان آبادی کی رفتار  اور بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات  سے پیدا ہونے والے دباؤ کو حل کیے بغیر اپنی مکمل صلاحیت کو حاصل نہیں کرسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آبادی میں اضافہ کی شرح 2.5فیصدکے قریب ہے یہ شرح بہت زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ زیادہ آبادی کی ترقی کے اثرات انسانی ترقی کے مستقل چیلنجز میں ظاہر ہوتے ہیں جن میں بچوں میں قد میں کمی، تعلیمی غربت اور مستقبل کے لیے نااہل ورک فورس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران موسمیاتی تبدیلیاں کمیونٹیز کو شدید درجہ حرارت، سیلاب، خشک سالی اور ماحولیاتی بگاڑ کے خطرات کے سامنے لا رہی ہیں جن میں سب سے زیادہ اثر ان اضلاع پر پڑ رہا ہے جو پہلے ہی غربت، کمزور بنیادی ڈھانچے اور ضروری خدمات تک محدود رسائی کا سامنا کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے یقین دہانی کرائی کہ وزارت (وزارتِ خزانہ) ان ترجیحات کو بجٹ سازی اور وسائل کی تقسیم میں شامل کر کے آبادی اور موسمیات سے متعلق پالیسی سازی میں قومی کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عالمی سطح پر فنانس منسٹری کے بڑھتے کردار پر بھی زور دیا جو ماحولیاتی اور آبادیاتی امور کو مرکزی دھارے میں شامل کر رہی ہیں، اور اس بات کو اجاگر کیا کہ پاکستان کو بھی یہی نقطۂ نظر اپنانا ہوگا تاکہ طویل مدتی لچک اور منصفانہ ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے 3 سال کی تحقیق پر مبنی ایک جامع، ڈیٹا پر مبنی ڈسٹرکٹ وِلنریبلٹی انڈیکس  تیار کرنے پر پاپولیشن کونسل کی تعریف کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ انڈیکس 6 شعبوں میں تفصیلی تجزیے کے ذریعے عملی انتظامی معلومات فراہم کرتا ہے، جغرافیائی تفاوت کی واضح تصویر پیش کرتا ہے اور ان اضلاع کی نشاندہی کرتا ہے جو سب سے زیادہ خطرے میں ہیں، خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نتائج اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کس طرح سماجی کمزوریاں  اور موسمیاتی خطرات ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں، جس سے پہلے ہی سے پسماندہ آبادی  کے لیے مجموعی خطرات پیدا ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دیہی سے شہری علاقوں کی طرف نقل مکانی کے بڑھتے رجحان اور غیر رسمی بستیوں کے پھیلاؤ کی طرف بھی توجہ دلائی جہاں پانی، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کی ناکافی صورتحال  غذائیت کے ناقص نتائج کو جنم دیتی ہے اور بچوں میں غذائی قلت کو برقرار  رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے شہری کمزوریوں  پر مزید تحقیق کی حوصلہ افزائی کی تاکہ قومی منصوبہ بندی  آبادیاتی اور موسمیات سے جڑے چیلنجز کے مکمل دائرہ کار کا احاطہ کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے آبادی کی حرکات اور ماحولیاتی اثرات کے باہمی انحصار کو تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مستقبل میں وسائل کی تقسیم کے فریم ورک میں کمزوری کے میٹرکس کو شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی منصوبہ بندی میں ان بصیرتوں کو شامل کرنا مساوات کو یقینی بنانے، لچک کو مضبوط کرنے اور ان اضلاع کی حمایت کے لیے اہم ہوگا جنہیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ ڈسٹرکٹ وُلنیریبلٹی انڈیکس مستقبل کی قومی حکمت عملیوں کی رہنمائی کے لیے ایک اہم آلہ کے طور پر کام کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے طویل مدتی اقتصادی امکانات اس بات پر منحصر ہیں کہ ملک تیزی سے بڑھتی آبادی اور ماحولیاتی خطرات جیسے دوہرے قومی چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرے۔</strong></p>
<p>یہ بات انہوں نے  پاپولیشن کونسل کے زیراہتمام ڈسٹرکٹ ولنرایبلیٹی انڈیکس آف پاکستان کے اجراء کے موقع پرمنعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔</p>
<p>وفاقی وزیر  نے نشاندہی کی کہ اگرچہ ملک مجموعی معاشی استحکام  اور ترقی کی جانب اپنا راستہ جاری رکھے ہوئے ہے لیکن پاکستان آبادی کی رفتار  اور بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات  سے پیدا ہونے والے دباؤ کو حل کیے بغیر اپنی مکمل صلاحیت کو حاصل نہیں کرسکتا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آبادی میں اضافہ کی شرح 2.5فیصدکے قریب ہے یہ شرح بہت زیادہ ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ زیادہ آبادی کی ترقی کے اثرات انسانی ترقی کے مستقل چیلنجز میں ظاہر ہوتے ہیں جن میں بچوں میں قد میں کمی، تعلیمی غربت اور مستقبل کے لیے نااہل ورک فورس شامل ہیں۔</p>
<p>اسی دوران موسمیاتی تبدیلیاں کمیونٹیز کو شدید درجہ حرارت، سیلاب، خشک سالی اور ماحولیاتی بگاڑ کے خطرات کے سامنے لا رہی ہیں جن میں سب سے زیادہ اثر ان اضلاع پر پڑ رہا ہے جو پہلے ہی غربت، کمزور بنیادی ڈھانچے اور ضروری خدمات تک محدود رسائی کا سامنا کررہے ہیں۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے یقین دہانی کرائی کہ وزارت (وزارتِ خزانہ) ان ترجیحات کو بجٹ سازی اور وسائل کی تقسیم میں شامل کر کے آبادی اور موسمیات سے متعلق پالیسی سازی میں قومی کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>انہوں نے عالمی سطح پر فنانس منسٹری کے بڑھتے کردار پر بھی زور دیا جو ماحولیاتی اور آبادیاتی امور کو مرکزی دھارے میں شامل کر رہی ہیں، اور اس بات کو اجاگر کیا کہ پاکستان کو بھی یہی نقطۂ نظر اپنانا ہوگا تاکہ طویل مدتی لچک اور منصفانہ ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے 3 سال کی تحقیق پر مبنی ایک جامع، ڈیٹا پر مبنی ڈسٹرکٹ وِلنریبلٹی انڈیکس  تیار کرنے پر پاپولیشن کونسل کی تعریف کی۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ انڈیکس 6 شعبوں میں تفصیلی تجزیے کے ذریعے عملی انتظامی معلومات فراہم کرتا ہے، جغرافیائی تفاوت کی واضح تصویر پیش کرتا ہے اور ان اضلاع کی نشاندہی کرتا ہے جو سب سے زیادہ خطرے میں ہیں، خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں۔</p>
<p>یہ نتائج اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کس طرح سماجی کمزوریاں  اور موسمیاتی خطرات ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں، جس سے پہلے ہی سے پسماندہ آبادی  کے لیے مجموعی خطرات پیدا ہوتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے دیہی سے شہری علاقوں کی طرف نقل مکانی کے بڑھتے رجحان اور غیر رسمی بستیوں کے پھیلاؤ کی طرف بھی توجہ دلائی جہاں پانی، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کی ناکافی صورتحال  غذائیت کے ناقص نتائج کو جنم دیتی ہے اور بچوں میں غذائی قلت کو برقرار  رکھتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے شہری کمزوریوں  پر مزید تحقیق کی حوصلہ افزائی کی تاکہ قومی منصوبہ بندی  آبادیاتی اور موسمیات سے جڑے چیلنجز کے مکمل دائرہ کار کا احاطہ کر سکے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے آبادی کی حرکات اور ماحولیاتی اثرات کے باہمی انحصار کو تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مستقبل میں وسائل کی تقسیم کے فریم ورک میں کمزوری کے میٹرکس کو شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی منصوبہ بندی میں ان بصیرتوں کو شامل کرنا مساوات کو یقینی بنانے، لچک کو مضبوط کرنے اور ان اضلاع کی حمایت کے لیے اہم ہوگا جنہیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ ڈسٹرکٹ وُلنیریبلٹی انڈیکس مستقبل کی قومی حکمت عملیوں کی رہنمائی کے لیے ایک اہم آلہ کے طور پر کام کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279418</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Nov 2025 13:07:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/17121333472fd22.webp" type="image/webp" medium="image" height="1066" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/17121333472fd22.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
