<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:54:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:54:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کو کے۔الیکٹرک کے سعودی اور کویتی سرمایہ کاروں کی جانب سے ثالثی کے خطرے کا سامنا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279395/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت پاکستان کو سعودی اور کویتی سرمایہ کاروں کی جانب سے بین الاقوامی ثالثی کے ممکنہ خدشے کا سامنا ہے جو کے۔الیکٹرک کے اہم شیئر ہولڈرز ہیں اور اسلام آباد کو پہلے ہی دو ارب ڈالر کا نوٹس بھیج چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اگر یہ معاملہ آگے بڑھا تو یہ توانائی شعبے میں پاکستان کے خلاف تیسری بڑی بین الاقوامی ثالثی ہوگی۔ اس سے قبل ہالمور پاور کمپنی اور اسٹار ہائیڈرو پاور کے معاملات پر بھی اسی نوعیت کے مقدمات ہو چکے ہیں۔ تازہ ترین نوٹس بین الاقوامی لاء فرم اسٹیپٹو ایل ایل پی نے 12 نومبر 2025 کو اٹارنی جنرل آف پاکستان کو او آئی سی انویسٹمنٹ ایگریمنٹ کے تحت بھیجا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس میں اسٹیپٹو نے 20 اکتوبر 2025 کو بھیجے گئے پہلے تنازع نوٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی کاپیاں وزیر اعظم آفس، وزیر توانائی، وزیر قانون اور ایس آئی ایف سی کو بھی ارسال کی گئی تھیں۔ تازہ نوٹس میں فریقین کو مصالحت کے بجائے مذاکرات یا پھر مصالحتی عمل کے آغاز کی تجویز دی گئی، جبکہ ساتھ ہی فوری ثالثی پر جانے کا حق بھی محفوظ رکھا گیا۔ نوٹس میں حکومت سے درخواست کی گئی کہ وہ مذاکرات کے لیے اپنے مجاز نمائندوں کی تفصیلات فراہم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس کے مطابق تین ہفتوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور نہ ہی کسی نمائندے کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔ اس صورتحال میں دونوں فریقین کے درمیان مصالحت پر اتفاق ممکن نہیں رہا۔ فرم نے واضح کیا کہ اب سرمایہ کار ثالثی کے عمل میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور جلد اپنے نامزد ثالث کے بارے میں حکومت کو آگاہ کر دیا جائے گا۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاملے میں تاخیر سے سرمایہ کاروں کو مالی، ضابطہ جاتی اور ساکھ کے شدید نقصان کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں نے متعدد وجوہات بیان کی ہیں جن میں نیپرا کے 2025 ملٹی ایئر ٹیرف فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونا، حکومتی ہدایات پر سی پی پی اے- جی کی جانب سے غیر قانونی نظر ثانی کی کارروائیوں کا آغاز، کے۔الیکٹرک کی مالی حالت میں بگاڑ، سبسڈی ادائیگیوں میں تاخیر اور متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں پر عدم کارروائی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اے جے پی ایل اور ڈینہم کی جانب سے کے۔الیکٹرک کے بورڈ کو بھیجے گئے خط میں مجوزہ سی ای او کی تقرری اور انتظامی تبدیلیوں پر بھی اعتراض اٹھایا گیا جنہیں سرمایہ کار سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں کا مؤقف ہے کہ حکومت کے نامزد بورڈ ارکان ان تمام معاملات سے آگاہ تھے لیکن کسی نے انہیں روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل ریاست کی جانب سے غیر امتیازی سلوک، قانونی استحکام اور سرمایہ کاری کے انتظامی حقوق کے تحفظ سے متعلق ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔ نوٹس میں کہا گیا کہ اگر حکومت 14 نومبر 2025 تک مذاکرات کے لیے مجاز نمائندے کی نشاندہی نہ کرے تو سرمایہ کار ثالثی ٹریبونل کی تشکیل کا عمل شروع کر دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے اس بارے میں رابطہ کیا گیا تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ لاء فرم نے کہا کہ سرمایہ کار اپنے تمام قانونی حقوق محفوظ رکھتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومت باہمی تعاون سے اس تنازعے کو خوش اسلوبی سے حل کرے تاکہ مزید کارروائی سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت پاکستان کو سعودی اور کویتی سرمایہ کاروں کی جانب سے بین الاقوامی ثالثی کے ممکنہ خدشے کا سامنا ہے جو کے۔الیکٹرک کے اہم شیئر ہولڈرز ہیں اور اسلام آباد کو پہلے ہی دو ارب ڈالر کا نوٹس بھیج چکے ہیں۔</strong></p>
<p>ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اگر یہ معاملہ آگے بڑھا تو یہ توانائی شعبے میں پاکستان کے خلاف تیسری بڑی بین الاقوامی ثالثی ہوگی۔ اس سے قبل ہالمور پاور کمپنی اور اسٹار ہائیڈرو پاور کے معاملات پر بھی اسی نوعیت کے مقدمات ہو چکے ہیں۔ تازہ ترین نوٹس بین الاقوامی لاء فرم اسٹیپٹو ایل ایل پی نے 12 نومبر 2025 کو اٹارنی جنرل آف پاکستان کو او آئی سی انویسٹمنٹ ایگریمنٹ کے تحت بھیجا۔</p>
<p>نوٹس میں اسٹیپٹو نے 20 اکتوبر 2025 کو بھیجے گئے پہلے تنازع نوٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی کاپیاں وزیر اعظم آفس، وزیر توانائی، وزیر قانون اور ایس آئی ایف سی کو بھی ارسال کی گئی تھیں۔ تازہ نوٹس میں فریقین کو مصالحت کے بجائے مذاکرات یا پھر مصالحتی عمل کے آغاز کی تجویز دی گئی، جبکہ ساتھ ہی فوری ثالثی پر جانے کا حق بھی محفوظ رکھا گیا۔ نوٹس میں حکومت سے درخواست کی گئی کہ وہ مذاکرات کے لیے اپنے مجاز نمائندوں کی تفصیلات فراہم کرے۔</p>
<p>نوٹس کے مطابق تین ہفتوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور نہ ہی کسی نمائندے کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔ اس صورتحال میں دونوں فریقین کے درمیان مصالحت پر اتفاق ممکن نہیں رہا۔ فرم نے واضح کیا کہ اب سرمایہ کار ثالثی کے عمل میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور جلد اپنے نامزد ثالث کے بارے میں حکومت کو آگاہ کر دیا جائے گا۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاملے میں تاخیر سے سرمایہ کاروں کو مالی، ضابطہ جاتی اور ساکھ کے شدید نقصان کا سامنا ہے۔</p>
<p>سرمایہ کاروں نے متعدد وجوہات بیان کی ہیں جن میں نیپرا کے 2025 ملٹی ایئر ٹیرف فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونا، حکومتی ہدایات پر سی پی پی اے- جی کی جانب سے غیر قانونی نظر ثانی کی کارروائیوں کا آغاز، کے۔الیکٹرک کی مالی حالت میں بگاڑ، سبسڈی ادائیگیوں میں تاخیر اور متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں پر عدم کارروائی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اے جے پی ایل اور ڈینہم کی جانب سے کے۔الیکٹرک کے بورڈ کو بھیجے گئے خط میں مجوزہ سی ای او کی تقرری اور انتظامی تبدیلیوں پر بھی اعتراض اٹھایا گیا جنہیں سرمایہ کار سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔</p>
<p>سرمایہ کاروں کا مؤقف ہے کہ حکومت کے نامزد بورڈ ارکان ان تمام معاملات سے آگاہ تھے لیکن کسی نے انہیں روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل ریاست کی جانب سے غیر امتیازی سلوک، قانونی استحکام اور سرمایہ کاری کے انتظامی حقوق کے تحفظ سے متعلق ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔ نوٹس میں کہا گیا کہ اگر حکومت 14 نومبر 2025 تک مذاکرات کے لیے مجاز نمائندے کی نشاندہی نہ کرے تو سرمایہ کار ثالثی ٹریبونل کی تشکیل کا عمل شروع کر دیں گے۔</p>
<p>وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے اس بارے میں رابطہ کیا گیا تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ لاء فرم نے کہا کہ سرمایہ کار اپنے تمام قانونی حقوق محفوظ رکھتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومت باہمی تعاون سے اس تنازعے کو خوش اسلوبی سے حل کرے تاکہ مزید کارروائی سے بچا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279395</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Nov 2025 09:14:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/170912535d60142.webp" type="image/webp" medium="image" height="500" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/170912535d60142.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
