<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیبیا، دو کشتیوں کے الٹنے سے چار افراد ہلاک، درجنوں مہاجرین لاپتہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279385/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لیبیا کے ساحلی شہر الخمس کے نزدیک دو کشتیوں کے الٹنے سے کم از کم چار افراد ہلاک اور دیگر درجنوں لاپتہ ہو گئے، یہ اطلاع لیبیا ریڈ کریسنٹ نے ہفتے کے روز دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریڈ کریسنٹ کے مطابق پہلی کشتی میں 26 بنگلہ دیشی مہاجر سوار تھے، جن میں سے چار ہلاک ہوئے۔ دوسری کشتی میں 69 مہاجر سوار تھے جن میں دو مصری اور متعدد سوڈانی شامل تھے، تاہم ان کی حالت کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الخمس، دارالحکومت طرابلس سے تقریباً 118 کلومیٹر مشرق میں واقع ایک ساحلی شہر ہے۔ بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے بدھ کو بتایا تھا کہ الخمس کے شمالی ساحل کے قریب ایک ربڑ کی کشتی کے ڈوبنے کے بعد کم از کم 42 مہاجرین لاپتہ اور مردہ تصور کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریڈ کریسنٹ کی جاری کردہ تصاویر میں لاشیں سیاہ پلاسٹک کے تھیلوں میں رکھی ہوئی دکھائی گئی ہیں، جبکہ رضاکار بچ جانے والوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ دیگر تصاویر میں بچائے گئے مہاجرین گرم کمبل میں لپٹے فرش پر بیٹھے دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو آپریشن میں کوسٹ گارڈز اور الخمس پورٹ سیکیورٹی ایجنسی نے حصہ لیا۔ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں متعلقہ حکام کے حوالے کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر کے وسط میں طرابلس کے مغرب میں ساحل پر 61 مہاجرین کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں، جبکہ ستمبر میں آئی او ایم نے بتایا تھا کہ ایک کشتی میں آگ لگنے سے کم از کم 50 سودانی مہاجرین ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے جنیوا اجلاس میں برطانیہ، اسپین، ناروے اور سیرالیون سمیت کئی ممالک نے لیبیا پر زور دیا کہ وہ ایسے حراستی مراکز بند کرے جہاں حقوق انسانی کی تنظیموں کے مطابق مہاجرین اور پناہ گزینوں کے ساتھ تشدد اور ظلم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لیبیا کے ساحلی شہر الخمس کے نزدیک دو کشتیوں کے الٹنے سے کم از کم چار افراد ہلاک اور دیگر درجنوں لاپتہ ہو گئے، یہ اطلاع لیبیا ریڈ کریسنٹ نے ہفتے کے روز دی۔</strong></p>
<p>ریڈ کریسنٹ کے مطابق پہلی کشتی میں 26 بنگلہ دیشی مہاجر سوار تھے، جن میں سے چار ہلاک ہوئے۔ دوسری کشتی میں 69 مہاجر سوار تھے جن میں دو مصری اور متعدد سوڈانی شامل تھے، تاہم ان کی حالت کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں۔</p>
<p>الخمس، دارالحکومت طرابلس سے تقریباً 118 کلومیٹر مشرق میں واقع ایک ساحلی شہر ہے۔ بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے بدھ کو بتایا تھا کہ الخمس کے شمالی ساحل کے قریب ایک ربڑ کی کشتی کے ڈوبنے کے بعد کم از کم 42 مہاجرین لاپتہ اور مردہ تصور کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>ریڈ کریسنٹ کی جاری کردہ تصاویر میں لاشیں سیاہ پلاسٹک کے تھیلوں میں رکھی ہوئی دکھائی گئی ہیں، جبکہ رضاکار بچ جانے والوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ دیگر تصاویر میں بچائے گئے مہاجرین گرم کمبل میں لپٹے فرش پر بیٹھے دکھائی دیے۔</p>
<p>ریسکیو آپریشن میں کوسٹ گارڈز اور الخمس پورٹ سیکیورٹی ایجنسی نے حصہ لیا۔ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں متعلقہ حکام کے حوالے کی گئی ہیں۔</p>
<p>اکتوبر کے وسط میں طرابلس کے مغرب میں ساحل پر 61 مہاجرین کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں، جبکہ ستمبر میں آئی او ایم نے بتایا تھا کہ ایک کشتی میں آگ لگنے سے کم از کم 50 سودانی مہاجرین ہلاک ہوئے تھے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے جنیوا اجلاس میں برطانیہ، اسپین، ناروے اور سیرالیون سمیت کئی ممالک نے لیبیا پر زور دیا کہ وہ ایسے حراستی مراکز بند کرے جہاں حقوق انسانی کی تنظیموں کے مطابق مہاجرین اور پناہ گزینوں کے ساتھ تشدد اور ظلم ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279385</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Nov 2025 13:43:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/161342008f17c76.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/161342008f17c76.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
