<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں اے آئی کی ترقی کا انحصارصلاحیتوں پرہے ، ماہرین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279379/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو لوگوں، پالیسی اور پروڈکٹ ڈیولپمنٹ کو ایک ہی سمت میں لے کر چلنا ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی بی اے کراچی کے پینل  The AI Imperative میں جاز کے چیف اسٹریٹیجی آفیسر علی ناصر نے کہا کہ پاکستان کی اے آئی ترقی تین بنیادوں پر منحصر ہے ، مقامی ٹیلنٹ کی مضبوطی، ڈیٹا گورننس پر اعتماد اور ایسی قومی پالیسیاں جو جدت کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ان بنیادوں کے بغیر اے آئی کا استعمال محدود اور بکھرا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید  کہا کہ پاکستان کو ایسے اے آئی پروڈکٹس وسیع پیمانے پر اپنانا ہوں گے جو مقامی ضروریات مثال کے طورپر نیٹ ورک، کسٹمر ایکسپیریئنس اور ڈیجیٹل سروسز کو بہتر بنائیں، تاکہ ٹیکنالوجی کا فائدہ قومی سطح پر حقیقی طور پر سامنے آئے۔ جاز میں اے آئی انٹیگریشن کو انہوں نے اس کا عملی نمونہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی ناصر نے چین کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ممالک تیزی سے آگے بڑھتے ہیں جہاں صنعت، حکومت اور تعلیمی ادارے مشترکہ ایجنڈا رکھتے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینل نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اے آئی اب مرکزی دھارے میں داخل ہو چکی ہے اور مستقبل میں پاکستان کی معاشی و تکنیکی سمت کا تعین کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو لوگوں، پالیسی اور پروڈکٹ ڈیولپمنٹ کو ایک ہی سمت میں لے کر چلنا ہوگا۔</strong></p>
<p>آئی بی اے کراچی کے پینل  The AI Imperative میں جاز کے چیف اسٹریٹیجی آفیسر علی ناصر نے کہا کہ پاکستان کی اے آئی ترقی تین بنیادوں پر منحصر ہے ، مقامی ٹیلنٹ کی مضبوطی، ڈیٹا گورننس پر اعتماد اور ایسی قومی پالیسیاں جو جدت کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں۔</p>
<p>ان کے مطابق ان بنیادوں کے بغیر اے آئی کا استعمال محدود اور بکھرا رہے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید  کہا کہ پاکستان کو ایسے اے آئی پروڈکٹس وسیع پیمانے پر اپنانا ہوں گے جو مقامی ضروریات مثال کے طورپر نیٹ ورک، کسٹمر ایکسپیریئنس اور ڈیجیٹل سروسز کو بہتر بنائیں، تاکہ ٹیکنالوجی کا فائدہ قومی سطح پر حقیقی طور پر سامنے آئے۔ جاز میں اے آئی انٹیگریشن کو انہوں نے اس کا عملی نمونہ قرار دیا۔</p>
<p>علی ناصر نے چین کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ممالک تیزی سے آگے بڑھتے ہیں جہاں صنعت، حکومت اور تعلیمی ادارے مشترکہ ایجنڈا رکھتے ہوں۔</p>
<p>پینل نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اے آئی اب مرکزی دھارے میں داخل ہو چکی ہے اور مستقبل میں پاکستان کی معاشی و تکنیکی سمت کا تعین کرے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279379</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Nov 2025 12:47:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/16123503825520c.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/16123503825520c.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
