<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:37:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:37:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>توانائی سیکٹر، تمام مالی معاملات کابینہ کمیٹی برائے توانائی کو بھیجنے کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279369/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا ک وفاقی کابینہ نے ہدایت کی ہے کہ توانائی شعبے سے متعلق تمام مالی معاملات کو اسٹریٹجک فیصلوں کے لیے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے سامنے پیش کیا جائے۔ یہ ہدایات اُس وقت جاری کی گئیں جب کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اس فیصلے کی توثیق کی جس کا تعلق جوہری بجلی گھروں کے لیے ایل پی آئی میں کمی اور ممکنہ ٹیرف میں نرمی سے تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اوگرا آرڈیننس کی دفعہ 21 کے تحت پالیسی گائیڈلائنز جاری کرنے کی منظوری بھی دی تاکہ اوگرا وفاقی کابینہ سے منظور شدہ اور آڈٹ سے مشروط 21.9 ارب روپے کو آر ایل این جی اور سسٹم گیس کی لاگت میں شامل کرسکے۔ ذرائع کے مطابق پاور سیکٹر اور پیٹرولیم سیکٹر کے معاملات میں ہم آہنگی بہتر بنانے کے لیے لازم ہوگا کہ یہ امور باقاعدگی سے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کو بھیجے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے مطابق سی پی پی اے-جی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ او جی ڈی سی ایل کو اوچ پاور لمیٹڈ اور اوچ ٹو کی جانب سے بقایاجات کی مد میں 89.5 ارب روپے ایک ہی قسط میں ادا کرے، حالانکہ پہلے یہ ادائیگی 18 مساوی اقساط میں طے تھی۔ یہ ادائیگی جوہری بجلی گھروں کے ٹیرف میں کمی کے لیے منظور شدہ جامع منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت پاور ڈویژن کی سمری کے مطابق متعدد مراعات اور اصلاحات طے پائی تھیں۔ وزیراعظم کی قائم کردہ ٹاسک فورس نے ٹیرف میں کمی کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا تاکہ بجلی صارفین پر بوجھ کم کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی مذاکراتی مراحل کے بعد ٹاسک فورس نے جوہری پاور پلانٹس سے مفاہمتی یادداشتیں حتمی شکل دیں جن میں بقایاجات کی ادائیگی، دیر سے ادائیگی پر سود سے دستبرداری، یکم جنوری 2025 سے نئے ڈیلیڈ پیمنٹ ریٹ کا اطلاق اور حکومتی تعاون شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت پاور پروڈیوسرز کو 614.92 ارب روپے پہلے ہی ادا کرچکی ہے، جبکہ جولائی 2025 تک 150 ارب روپے کے واجبات باقی تھے جنہیں سرکلر ڈیٹ فنانسنگ سہولت سے پورا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاسک فورس نے دیگر بڑے پیداواری یونٹس جیسے حویلی بہادر شاہ، بلوکی اور قائداعظم تھرمل سے بھی واجب الادا ایل پی آئی کے خاتمے پر اتفاق کیا جس سے کل رعایت 119.53 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اوچ پاور کے لیے او جی ڈی سی ایل نے 54 ارب روپے کے ایل پی آئی سے دستبرداری کی منظوری دی، جبکہ 89.5 ارب روپے کی بنیادی رقم کی ایک متبادل یکمشت ادائیگی کی سفارش کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، آر ایل این جی کی ٹیک اور پے شرائط کے تنازع کو بھی حل کرلیا گیا اور طے پایا کہ تصدیق شدہ مالی اثرات آر ایل این جی کے ریونیو میں شامل کیے جائیں تاکہ صارفین کے لیے قیمتوں میں کمی ممکن ہو سکے۔ کابینہ نے اس مقصد کے لیے 21.9 ارب روپے کے مالی ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دیتے ہوئے پالیسی گائیڈلائنز جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا ک وفاقی کابینہ نے ہدایت کی ہے کہ توانائی شعبے سے متعلق تمام مالی معاملات کو اسٹریٹجک فیصلوں کے لیے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے سامنے پیش کیا جائے۔ یہ ہدایات اُس وقت جاری کی گئیں جب کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اس فیصلے کی توثیق کی جس کا تعلق جوہری بجلی گھروں کے لیے ایل پی آئی میں کمی اور ممکنہ ٹیرف میں نرمی سے تھا۔</strong></p>
<p>اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اوگرا آرڈیننس کی دفعہ 21 کے تحت پالیسی گائیڈلائنز جاری کرنے کی منظوری بھی دی تاکہ اوگرا وفاقی کابینہ سے منظور شدہ اور آڈٹ سے مشروط 21.9 ارب روپے کو آر ایل این جی اور سسٹم گیس کی لاگت میں شامل کرسکے۔ ذرائع کے مطابق پاور سیکٹر اور پیٹرولیم سیکٹر کے معاملات میں ہم آہنگی بہتر بنانے کے لیے لازم ہوگا کہ یہ امور باقاعدگی سے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کو بھیجے جائیں۔</p>
<p>فیصلے کے مطابق سی پی پی اے-جی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ او جی ڈی سی ایل کو اوچ پاور لمیٹڈ اور اوچ ٹو کی جانب سے بقایاجات کی مد میں 89.5 ارب روپے ایک ہی قسط میں ادا کرے، حالانکہ پہلے یہ ادائیگی 18 مساوی اقساط میں طے تھی۔ یہ ادائیگی جوہری بجلی گھروں کے ٹیرف میں کمی کے لیے منظور شدہ جامع منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت پاور ڈویژن کی سمری کے مطابق متعدد مراعات اور اصلاحات طے پائی تھیں۔ وزیراعظم کی قائم کردہ ٹاسک فورس نے ٹیرف میں کمی کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا تاکہ بجلی صارفین پر بوجھ کم کیا جاسکے۔</p>
<p>کئی مذاکراتی مراحل کے بعد ٹاسک فورس نے جوہری پاور پلانٹس سے مفاہمتی یادداشتیں حتمی شکل دیں جن میں بقایاجات کی ادائیگی، دیر سے ادائیگی پر سود سے دستبرداری، یکم جنوری 2025 سے نئے ڈیلیڈ پیمنٹ ریٹ کا اطلاق اور حکومتی تعاون شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت پاور پروڈیوسرز کو 614.92 ارب روپے پہلے ہی ادا کرچکی ہے، جبکہ جولائی 2025 تک 150 ارب روپے کے واجبات باقی تھے جنہیں سرکلر ڈیٹ فنانسنگ سہولت سے پورا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔</p>
<p>ٹاسک فورس نے دیگر بڑے پیداواری یونٹس جیسے حویلی بہادر شاہ، بلوکی اور قائداعظم تھرمل سے بھی واجب الادا ایل پی آئی کے خاتمے پر اتفاق کیا جس سے کل رعایت 119.53 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اوچ پاور کے لیے او جی ڈی سی ایل نے 54 ارب روپے کے ایل پی آئی سے دستبرداری کی منظوری دی، جبکہ 89.5 ارب روپے کی بنیادی رقم کی ایک متبادل یکمشت ادائیگی کی سفارش کی گئی۔</p>
<p>مزید برآں، آر ایل این جی کی ٹیک اور پے شرائط کے تنازع کو بھی حل کرلیا گیا اور طے پایا کہ تصدیق شدہ مالی اثرات آر ایل این جی کے ریونیو میں شامل کیے جائیں تاکہ صارفین کے لیے قیمتوں میں کمی ممکن ہو سکے۔ کابینہ نے اس مقصد کے لیے 21.9 ارب روپے کے مالی ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دیتے ہوئے پالیسی گائیڈلائنز جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279369</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Nov 2025 09:45:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/160942470bc61fe.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/160942470bc61fe.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
