<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>الزام تراشی کے نہ ختم ہونے والے کھیل سے آگے کا منظرنامہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279361/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جب دہلی یا اسلام آباد میں کوئی بم دھماکہ ہوتا ہے، تو منظرنامہ شاذ و نادر ہی بدلتا ہے۔ چند ہی گھنٹوں میں دونوں ممالک مذمت کے بیانات جاری کرتے ہیں، جس کے فوراً بعد الزامات کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے۔ ہر طرف ایک دوسرے پر الزام تراشی، نیوز رومز میں جذبات کی لہر عروج پر پہنچ جاتی ہے اور پرائم ٹائم پر انتقام کے نعرے غالب آ جاتے ہیں۔ کچھ ہی دیر بعد سفارتکار اپنی قومی بیانیے کے پیچھے چھپ جاتے ہیں اور امن کا ایک اور موقع اس سے پہلے ہی دم توڑ دیتا ہے کہ وہ جنم لے سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے کے دہرے سانحات، ایک دہلی قلعے کے قریب اور دوسرا اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس کے باہر، نے ایک بار پھر پرانے زخموں اور جانے پہچانے شکوک و شبہات کو تازہ کر دیا۔ درجنوں بے گناہ جانیں ضائع ہو گئیں، مگر کسی بھی فریق کی تیاریاں رکنے اور یہ مشکل سوال کرنے کی نظر نہیں آتیں: یہ سلسلہ اتنی پیش گوئی کے ساتھ کیوں دہرایا جاتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سات دہائیوں سے زائد عرصے سے، پاکستان اور بھارت ایک حریفانہ گٹھ جوڑ میں بندھے رہے ہیں، جس کی ابتدا تقسیم ہند سے ہوئی، جنگوں نے اسے سخت بنایا اور عدم اعتماد نے اسے جاری رکھا۔ جب بھی کسی جانب دہشت گردی کا واقعہ پیش آتا ہے، پہلا ردعمل تحقیق کی بجائے الزام تراشی ہوتا ہے۔ شواہد کہانی کے سامنے ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں اور عوامی  غم و غصہ معتدل تجزیے کی جگہ لے لیتا ہے۔ اصل نقصان: امن یرغمال۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تبدیلی کے طور پر، اس بار بھارت کا ردعمل مختلف رہا ہے۔ دہلی قلعے کے واقعے میں بھارت الزام تراشی میں احتیاط برت رہا ہے۔ اس کے بجائے وہ منظم انداز میں شواہد جمع کر رہا ہے اور ایک قابلِ اعتبار کہانی تیار کرنے کے لیے وقت لے رہا ہے، اور ممکنہ طور پر عالمی ناظرین کے سامنے پیش کرنے کے لیے بہتر مقدمہ تشکیل دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی جانب سے کشمیر کے پہلگام واقعے اور آپریشن سندور کے حوالے سے تقریباً خودبخود جاری کی گئی کہانی بھارت کے حق میں مؤثر ثابت نہیں ہوئی اور پاکستان کو مقدمہ میں لانے کی کوشش میں بھارت ہی نقصان اٹھا گیا۔ دنیا میں کہیں بھی شواہد سے خالی کہانی خریدنے والے نہیں ملے۔ بھارت نے اپنی سفارتی اور عسکری ناکامی سے سبق سیکھا اور ساتھ ہی یہ بھی سمجھ لیا کہ اقتصادی ترقی اور عالمی مقام اس کے لیے عالمی سفارت کاری میں وزن ڈالنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ بھارت نے ایک آسان کامیابی کا تصور کر رکھا تھا۔ حقیقت میں، حالیہ واقعے میں پاکستان نے، اقتصادی چیلنجز اور سیاسی عدم استحکام کے باوجود، عالمی سفارت کاری اور سیاست کے میدان میں بھارت کے مقابلے میں اچھا مظاہرہ کیا، بلکہ بعض لحاظ سے اسے پیچھے چھوڑ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دشمنی سے آگے دیکھتے ہوئے، ایک ایسا نقطہ نظر قابل غور ہے: “پاکستان اور بھارت کے درمیان حقیقی امن کیسا ہو سکتا ہے؟”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور بھارت کے درمیان امن دیرینہ خواب اور سیاسی ممنوعہ موضوع رہا ہے۔ جب بھی لفظ ”مذاکرات“ لیا جاتا ہے، دونوں طرف کے سخت گیر افراد خیانت کا انتباہ دیتے ہیں، جبکہ معتدل لوگ مایوسی کی تھکن محسوس کرتے ہیں۔ مگر دہائیوں کے تناؤ اور دہشت گردی کے بعد سادہ سچ یہ ہے: دونوں ممالک مستقل دشمنی برداشت نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر دشمنی نے صرف عدم اعتماد پیدا کیا ہے، تو شاید یہ وقت ہے کہ یہ سوال پوچھا جائے، حقیقی امن کیسا دکھائی دے گا؟ نہ کسی نعروں یا سربراہی ملاقاتوں کے لیے، بلکہ دو پڑوسیوں کے لیے ایک عملی نقشہ کے طور پر، جو تاریخ، سرحدیں اور تقدیر مشترک رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معیار کم رکھا جانا چاہیے، “ایک عملی امن، کامل نہیں”۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امن کا مطلب ہرگز بغیر ٹکراؤ کی دوستی نہیں۔ اس کا مطلب ہے اختلافات کو پرامن طریقے سے سنبھالنا۔ پاکستان اور بھارت کے لیے حقیقت پسندانہ امن بڑے معاہدوں سے شروع نہیں ہوگا بلکہ منظم ہم آہنگی سے ہوگا، چھوٹے، قابلِ تصدیق اقدامات جو اعتماد کو ایک ایک اینٹ رکھتے ہوئے تعمیر کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ عمل مسلسل مذاکرات سے شروع ہونا چاہیے جو سیاسی موڈ میں اتار چڑھاؤ سے متاثر نہ ہوں۔ یہ عمل شخصیات کے بجائے اداروں کی بنیاد پر ہونا چاہیے: ایک مشترکہ امن سیکرٹریٹ جو بحران کے دوران بھی بات چیت جاری رکھے۔ 2003–2007 کے بیک چینل میکانزم، جس نے کشمیر پر تقریباً پیش رفت حاصل کی، نے ثابت کیا کہ مستقل روابط مضبوط دشمنی کو بھی عبور کر سکتے ہیں جبکہ 2016 کے بعد مذاکرات کی ناکامی سے واضح ہوا کہ جب سیاست اصولوں پر غالب آ جائے تو کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارت امن کا سب سے آسان اور مؤثر ذریعہ ہے۔ جنوبی ایشیا دنیا کا سب سے کم اقتصادی طور پر مربوط خطہ رہ گیا ہے؛ دو طرفہ تجارت اپنی مکمل صلاحیت کا محض ایک چھوٹا حصہ ہے۔ سرحدی تجارتی راستوں کی بحالی اور توسیع، واگہ سے کھوکھراپار اور کارتارپور کوریڈور تک، منقسم بازاروں اور خاندانوں کو دوبارہ جوڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے بھارت کے وسیع بازار تک رسائی اس کی کمزور صنعتوں کو زندہ کر سکتی ہے اور درآمدی لاگت کم کر سکتی ہے۔ بھارت کے لیے پاکستان کے راستے وسطی ایشیا تک رسائی لاجسٹک اخراجات کم کرے گی اور توانائی کے راستے کھولے گی۔ تجارت امن کے حامی پیدا کرتی ہے؛ جبکہ ٹیرف اور شک و شبہات دیواریں کھڑی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت گردی، سائبر پروپیگنڈا اور ماحولیاتی آفات سرحدوں پر رُکتی نہیں ہیں۔ دونوں ممالک شدت پسندی، غلط اطلاعات اور ماحولیاتی دباؤ کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک مشترکہ بحران مینجمنٹ کا فریم ورک، انٹیلی جنس شیئرنگ، سرحدی ہم آہنگی، اور فوری رابطے کا نظام، ایسے حملوں کو روک سکتا ہے جو دہشت گرد وقت اور حالات کے مطابق منصوبہ بندی کے ساتھ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے لیے فوری اعتماد کی ضرورت نہیں بلکہ پروٹوکولز درکار ہیں۔ حتیٰ کہ دشمن بھی غلط فہمی سے بچنے کے لیے رابطے برقرار رکھتے ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان بحال شدہ ہاٹ لائن ابتدائی دیوار کے طور پر کام کر سکتی ہے تاکہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم اور سب سے پائیدار عنصر انسانی جہت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امن صرف سفارتکاروں ہی قائم نہیں کرتے، یہ لوگوں کی زندگیوں میں محسوس ہوتا ہے۔ ہزاروں بٹے ہوئے خاندانوں، زائرین، فنکاروں اور طلبہ نے سیاست کی قیمت برداشت کی ہے۔ صحافیوں، تعلیمی ماہرین اور ثقافتی تبادلوں کے لیے ویزا سہولتیں ہمدردی کے وہ راستے دوبارہ کھول سکتی ہیں جو کوئی معاہدہ بدل نہیں سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارتارپور کوریڈور نے دکھایا کہ عوامی منصوبے حتیٰ کہ کشیدگی کے وقت بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح کے انسانی ہمدردی والے راستے طبی مریضوں، طلبہ اور مذہبی زائرین کے لیے تعلقات کو انسانی رنگ دے سکتے ہیں اور پروپیگنڈے کو کمزور کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کشمیر بنیادی اور سب سے نازک تنازع ہے۔ پائیدار امن اسے نظر انداز نہیں کر سکتا، لیکن اس پر مختلف طریقے سے توجہ دی جا سکتی ہے۔ زور خود مختاری سے حل پذیری کی جانب ہونا چاہیے، لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف زندگیوں کو بہتر بنانا اور مستقل حل کے لیے کام کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماحولیاتی تبدیلی شاید اس جگہ کامیاب ہو جائے جہاں سیاست ناکام رہتی ہے۔ دونوں ممالک دریا، مون سون، اور پہاڑ شیئر کرتے ہیں؛ سیلاب اور خشک سالی پر پرچم اثر نہیں رکھتے۔ مشترکہ آفات سے نمٹنے کے نظام اور ابتدائی انتباہی نظام لاکھوں کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ شمسی، ہائیڈرو اور ہوائی توانائی پر علاقائی تعاون درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کم کر سکتا ہے اور مشترکہ بنیادی ڈھانچہ قائم کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) اور علاقائی ٹرانزٹ فریم ورک کے تحت کنیکٹیویٹی منصوبے پاکستان، بھارت، اور وسطی ایشیا کو اقتصادی طور پر مربوط کر سکتے ہیں۔ جب ممالک بجلی، پانی اور سامان کا تبادلہ کریں گے، تو جنگ کی طلب خود بخود کم ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;سب سے مشکل اصلاح ذہن اور  بیانیے کے زاویے کی تبدیلی ہے۔ بھارت کو اپنی علاقائی بالادستی اور اقتصادی ترقی کی بنیاد پر برتری کے خیالات سے پیچھے ہٹنا ہوگا۔ پاکستان اور بھارت دونوں کو علاقائی شطرنج کے بورڈ پر مساوی شراکت دار کے طور پر کام کرنا ہوگا۔ دونوں ممالک کو ایک نیا بیانیے میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے، ایسا بیانیہ جو امن کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت کے طور پر دیکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;اب پاکستان اور بھارت کئی مشترکہ حقیقتوں کا سامنا کر رہے ہیں: ماحولیاتی دباؤ، غربت، اور ایک بے چین نوجوان نسل جو دشمنی کے بجائے مواقع کی طلب رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقی امن ایک ہاتھ ملانے سے نہیں آئے گا، نہ ہی کسی ایک اشتعال انگیز واقعے سے ختم ہو جائے گا۔ یہ خاموشی سے اُبھرے گا، مسلسل رابطے اور اس یقین کے ذریعے کہ ایک کی خوشحالی دوسرے کے لیے خطرہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ مثالیں پیش کرتی ہے۔ فرانس اور جرمنی، جو کبھی سخت دشمن تھے، نے دوسری جنگ عظیم کے بعد مقصود مفاہمت کے ذریعے شراکت داری قائم کی۔ جنوب مشرقی ایشیا نے عدم اعتماد اور جنگوں کے باوجود آسیان (اے ایس ای اے این ) قائم کی اور آج استحکام اور ترقی کا لطف اٹھا رہا ہے۔ جنوبی ایشیا بھی اپنا بیانیہ بدل سکتا ہے، اگر اس کے رہنما امن کو کمزوری نہیں بلکہ سیاسی اثاثہ سمجھ کر اس کا تصور کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جب دہلی یا اسلام آباد میں کوئی بم دھماکہ ہوتا ہے، تو منظرنامہ شاذ و نادر ہی بدلتا ہے۔ چند ہی گھنٹوں میں دونوں ممالک مذمت کے بیانات جاری کرتے ہیں، جس کے فوراً بعد الزامات کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے۔ ہر طرف ایک دوسرے پر الزام تراشی، نیوز رومز میں جذبات کی لہر عروج پر پہنچ جاتی ہے اور پرائم ٹائم پر انتقام کے نعرے غالب آ جاتے ہیں۔ کچھ ہی دیر بعد سفارتکار اپنی قومی بیانیے کے پیچھے چھپ جاتے ہیں اور امن کا ایک اور موقع اس سے پہلے ہی دم توڑ دیتا ہے کہ وہ جنم لے سکے۔</strong></p>
<p>گزشتہ ہفتے کے دہرے سانحات، ایک دہلی قلعے کے قریب اور دوسرا اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس کے باہر، نے ایک بار پھر پرانے زخموں اور جانے پہچانے شکوک و شبہات کو تازہ کر دیا۔ درجنوں بے گناہ جانیں ضائع ہو گئیں، مگر کسی بھی فریق کی تیاریاں رکنے اور یہ مشکل سوال کرنے کی نظر نہیں آتیں: یہ سلسلہ اتنی پیش گوئی کے ساتھ کیوں دہرایا جاتا ہے؟</p>
<p>سات دہائیوں سے زائد عرصے سے، پاکستان اور بھارت ایک حریفانہ گٹھ جوڑ میں بندھے رہے ہیں، جس کی ابتدا تقسیم ہند سے ہوئی، جنگوں نے اسے سخت بنایا اور عدم اعتماد نے اسے جاری رکھا۔ جب بھی کسی جانب دہشت گردی کا واقعہ پیش آتا ہے، پہلا ردعمل تحقیق کی بجائے الزام تراشی ہوتا ہے۔ شواہد کہانی کے سامنے ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں اور عوامی  غم و غصہ معتدل تجزیے کی جگہ لے لیتا ہے۔ اصل نقصان: امن یرغمال۔</p>
<p>تبدیلی کے طور پر، اس بار بھارت کا ردعمل مختلف رہا ہے۔ دہلی قلعے کے واقعے میں بھارت الزام تراشی میں احتیاط برت رہا ہے۔ اس کے بجائے وہ منظم انداز میں شواہد جمع کر رہا ہے اور ایک قابلِ اعتبار کہانی تیار کرنے کے لیے وقت لے رہا ہے، اور ممکنہ طور پر عالمی ناظرین کے سامنے پیش کرنے کے لیے بہتر مقدمہ تشکیل دے رہا ہے۔</p>
<p>بھارت کی جانب سے کشمیر کے پہلگام واقعے اور آپریشن سندور کے حوالے سے تقریباً خودبخود جاری کی گئی کہانی بھارت کے حق میں مؤثر ثابت نہیں ہوئی اور پاکستان کو مقدمہ میں لانے کی کوشش میں بھارت ہی نقصان اٹھا گیا۔ دنیا میں کہیں بھی شواہد سے خالی کہانی خریدنے والے نہیں ملے۔ بھارت نے اپنی سفارتی اور عسکری ناکامی سے سبق سیکھا اور ساتھ ہی یہ بھی سمجھ لیا کہ اقتصادی ترقی اور عالمی مقام اس کے لیے عالمی سفارت کاری میں وزن ڈالنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ بھارت نے ایک آسان کامیابی کا تصور کر رکھا تھا۔ حقیقت میں، حالیہ واقعے میں پاکستان نے، اقتصادی چیلنجز اور سیاسی عدم استحکام کے باوجود، عالمی سفارت کاری اور سیاست کے میدان میں بھارت کے مقابلے میں اچھا مظاہرہ کیا، بلکہ بعض لحاظ سے اسے پیچھے چھوڑ دیا۔</p>
<p>دشمنی سے آگے دیکھتے ہوئے، ایک ایسا نقطہ نظر قابل غور ہے: “پاکستان اور بھارت کے درمیان حقیقی امن کیسا ہو سکتا ہے؟”</p>
<p>پاکستان اور بھارت کے درمیان امن دیرینہ خواب اور سیاسی ممنوعہ موضوع رہا ہے۔ جب بھی لفظ ”مذاکرات“ لیا جاتا ہے، دونوں طرف کے سخت گیر افراد خیانت کا انتباہ دیتے ہیں، جبکہ معتدل لوگ مایوسی کی تھکن محسوس کرتے ہیں۔ مگر دہائیوں کے تناؤ اور دہشت گردی کے بعد سادہ سچ یہ ہے: دونوں ممالک مستقل دشمنی برداشت نہیں کر سکتے۔</p>
<p>اگر دشمنی نے صرف عدم اعتماد پیدا کیا ہے، تو شاید یہ وقت ہے کہ یہ سوال پوچھا جائے، حقیقی امن کیسا دکھائی دے گا؟ نہ کسی نعروں یا سربراہی ملاقاتوں کے لیے، بلکہ دو پڑوسیوں کے لیے ایک عملی نقشہ کے طور پر، جو تاریخ، سرحدیں اور تقدیر مشترک رکھتے ہیں۔</p>
<p>معیار کم رکھا جانا چاہیے، “ایک عملی امن، کامل نہیں”۔</p>
<p>امن کا مطلب ہرگز بغیر ٹکراؤ کی دوستی نہیں۔ اس کا مطلب ہے اختلافات کو پرامن طریقے سے سنبھالنا۔ پاکستان اور بھارت کے لیے حقیقت پسندانہ امن بڑے معاہدوں سے شروع نہیں ہوگا بلکہ منظم ہم آہنگی سے ہوگا، چھوٹے، قابلِ تصدیق اقدامات جو اعتماد کو ایک ایک اینٹ رکھتے ہوئے تعمیر کریں۔</p>
<p>یہ عمل مسلسل مذاکرات سے شروع ہونا چاہیے جو سیاسی موڈ میں اتار چڑھاؤ سے متاثر نہ ہوں۔ یہ عمل شخصیات کے بجائے اداروں کی بنیاد پر ہونا چاہیے: ایک مشترکہ امن سیکرٹریٹ جو بحران کے دوران بھی بات چیت جاری رکھے۔ 2003–2007 کے بیک چینل میکانزم، جس نے کشمیر پر تقریباً پیش رفت حاصل کی، نے ثابت کیا کہ مستقل روابط مضبوط دشمنی کو بھی عبور کر سکتے ہیں جبکہ 2016 کے بعد مذاکرات کی ناکامی سے واضح ہوا کہ جب سیاست اصولوں پر غالب آ جائے تو کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔</p>
<p>تجارت امن کا سب سے آسان اور مؤثر ذریعہ ہے۔ جنوبی ایشیا دنیا کا سب سے کم اقتصادی طور پر مربوط خطہ رہ گیا ہے؛ دو طرفہ تجارت اپنی مکمل صلاحیت کا محض ایک چھوٹا حصہ ہے۔ سرحدی تجارتی راستوں کی بحالی اور توسیع، واگہ سے کھوکھراپار اور کارتارپور کوریڈور تک، منقسم بازاروں اور خاندانوں کو دوبارہ جوڑ سکتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے بھارت کے وسیع بازار تک رسائی اس کی کمزور صنعتوں کو زندہ کر سکتی ہے اور درآمدی لاگت کم کر سکتی ہے۔ بھارت کے لیے پاکستان کے راستے وسطی ایشیا تک رسائی لاجسٹک اخراجات کم کرے گی اور توانائی کے راستے کھولے گی۔ تجارت امن کے حامی پیدا کرتی ہے؛ جبکہ ٹیرف اور شک و شبہات دیواریں کھڑی کرتے ہیں۔</p>
<p>دہشت گردی، سائبر پروپیگنڈا اور ماحولیاتی آفات سرحدوں پر رُکتی نہیں ہیں۔ دونوں ممالک شدت پسندی، غلط اطلاعات اور ماحولیاتی دباؤ کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک مشترکہ بحران مینجمنٹ کا فریم ورک، انٹیلی جنس شیئرنگ، سرحدی ہم آہنگی، اور فوری رابطے کا نظام، ایسے حملوں کو روک سکتا ہے جو دہشت گرد وقت اور حالات کے مطابق منصوبہ بندی کے ساتھ کرتے ہیں۔</p>
<p>اس کے لیے فوری اعتماد کی ضرورت نہیں بلکہ پروٹوکولز درکار ہیں۔ حتیٰ کہ دشمن بھی غلط فہمی سے بچنے کے لیے رابطے برقرار رکھتے ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان بحال شدہ ہاٹ لائن ابتدائی دیوار کے طور پر کام کر سکتی ہے تاکہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔</p>
<p>اہم اور سب سے پائیدار عنصر انسانی جہت ہے۔</p>
<p>امن صرف سفارتکاروں ہی قائم نہیں کرتے، یہ لوگوں کی زندگیوں میں محسوس ہوتا ہے۔ ہزاروں بٹے ہوئے خاندانوں، زائرین، فنکاروں اور طلبہ نے سیاست کی قیمت برداشت کی ہے۔ صحافیوں، تعلیمی ماہرین اور ثقافتی تبادلوں کے لیے ویزا سہولتیں ہمدردی کے وہ راستے دوبارہ کھول سکتی ہیں جو کوئی معاہدہ بدل نہیں سکتا۔</p>
<p>کارتارپور کوریڈور نے دکھایا کہ عوامی منصوبے حتیٰ کہ کشیدگی کے وقت بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح کے انسانی ہمدردی والے راستے طبی مریضوں، طلبہ اور مذہبی زائرین کے لیے تعلقات کو انسانی رنگ دے سکتے ہیں اور پروپیگنڈے کو کمزور کر سکتے ہیں۔</p>
<p>کشمیر بنیادی اور سب سے نازک تنازع ہے۔ پائیدار امن اسے نظر انداز نہیں کر سکتا، لیکن اس پر مختلف طریقے سے توجہ دی جا سکتی ہے۔ زور خود مختاری سے حل پذیری کی جانب ہونا چاہیے، لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف زندگیوں کو بہتر بنانا اور مستقل حل کے لیے کام کرنا۔</p>
<p>ماحولیاتی تبدیلی شاید اس جگہ کامیاب ہو جائے جہاں سیاست ناکام رہتی ہے۔ دونوں ممالک دریا، مون سون، اور پہاڑ شیئر کرتے ہیں؛ سیلاب اور خشک سالی پر پرچم اثر نہیں رکھتے۔ مشترکہ آفات سے نمٹنے کے نظام اور ابتدائی انتباہی نظام لاکھوں کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ شمسی، ہائیڈرو اور ہوائی توانائی پر علاقائی تعاون درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کم کر سکتا ہے اور مشترکہ بنیادی ڈھانچہ قائم کر سکتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح، بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) اور علاقائی ٹرانزٹ فریم ورک کے تحت کنیکٹیویٹی منصوبے پاکستان، بھارت، اور وسطی ایشیا کو اقتصادی طور پر مربوط کر سکتے ہیں۔ جب ممالک بجلی، پانی اور سامان کا تبادلہ کریں گے، تو جنگ کی طلب خود بخود کم ہو جائے گی۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>سب سے مشکل اصلاح ذہن اور  بیانیے کے زاویے کی تبدیلی ہے۔ بھارت کو اپنی علاقائی بالادستی اور اقتصادی ترقی کی بنیاد پر برتری کے خیالات سے پیچھے ہٹنا ہوگا۔ پاکستان اور بھارت دونوں کو علاقائی شطرنج کے بورڈ پر مساوی شراکت دار کے طور پر کام کرنا ہوگا۔ دونوں ممالک کو ایک نیا بیانیے میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے، ایسا بیانیہ جو امن کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت کے طور پر دیکھے۔</p>
</blockquote>
<p>اب پاکستان اور بھارت کئی مشترکہ حقیقتوں کا سامنا کر رہے ہیں: ماحولیاتی دباؤ، غربت، اور ایک بے چین نوجوان نسل جو دشمنی کے بجائے مواقع کی طلب رکھتی ہے۔</p>
<p>حقیقی امن ایک ہاتھ ملانے سے نہیں آئے گا، نہ ہی کسی ایک اشتعال انگیز واقعے سے ختم ہو جائے گا۔ یہ خاموشی سے اُبھرے گا، مسلسل رابطے اور اس یقین کے ذریعے کہ ایک کی خوشحالی دوسرے کے لیے خطرہ نہیں۔</p>
<p>تاریخ مثالیں پیش کرتی ہے۔ فرانس اور جرمنی، جو کبھی سخت دشمن تھے، نے دوسری جنگ عظیم کے بعد مقصود مفاہمت کے ذریعے شراکت داری قائم کی۔ جنوب مشرقی ایشیا نے عدم اعتماد اور جنگوں کے باوجود آسیان (اے ایس ای اے این ) قائم کی اور آج استحکام اور ترقی کا لطف اٹھا رہا ہے۔ جنوبی ایشیا بھی اپنا بیانیہ بدل سکتا ہے، اگر اس کے رہنما امن کو کمزوری نہیں بلکہ سیاسی اثاثہ سمجھ کر اس کا تصور کر سکیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279361</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Nov 2025 17:22:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/15163514a401323.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/15163514a401323.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
