<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:39:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:39:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیرک مائننگ کو دو الگ اداروں میں تقسیم کرنے پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279360/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کینیڈا کی بیرک مائننگ کے بورڈ نے کمپنی کو دو الگ اداروں میں تقسیم کرنے پر غور کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے جن میں سے ایک شمالی امریکہ پر توجہ مرکوز کرے گا اور دوسرا افریقہ اور ایشیا کے اثاثوں پر۔ یہ خبر رائٹرز کو کمپنی کے معاملات سے واقف چار ذرائع نے دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ممکنہ تقسیم میں بیرک کے افریقی اثاثوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں واقع ریکو ڈِک کان کی فروخت بھی شامل ہو سکتی ہے، بشرطیکہ منصوبے کے لیے مطلوبہ فنانسنگ حاصل کرلی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی میں کمپنی کی جانب سے اثاثہ فروخت کرنے سے قبل فوجی حکومت کے ساتھ جاری تنازعہ حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرک کے ترجمان نے فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا جبکہ عبوری سی ای او مارک ہِل نے کہا کہ کمپنی قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرتی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت جاری ہے اور ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے 2019 میں رینڈ گولڈ کے ساتھ بیرک کے انضمام کی واپسی ہوگی اور سابق سی ای او مارک بریسٹو کے دور میں شامل کیے گئے بعض اثاثے کمپنی کے دائرہ کار سے نکل جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کی شمالی امریکہ پر توجہ جس میں نیواڈا میں واقع فور مائل کی بڑی مگر غیر ترقی یافتہ سونے کی کان بھی شامل ہے، اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ممکنہ ٹیک اوور کی صورت میں بیرک کی قیمت کم نہ لگائی جائے۔ فور مائل کان کی ٹیسٹ پروڈکشن 2029 تک شروع نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے بعد جمعہ کو ٹورنٹو اسٹاک ایکسچینج میں بیرک کے شیئرز میں 3 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ کمپنی کے شیئرز کی قیمت کم لگائی گئی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ بیرک تاریخی بلندی پر پہنچنے والی سونے کی قیمتوں سے زیادہ مؤثر فائدہ اٹھائے۔ اگرچہ رواں سال بیرک کے شیئرز میں 130 فیصد اضافہ ہوا، پچھلے پانچ سال میں کمپنی کی کارکردگی اپنے حریفوں کے مقابلے میں کمزور رہی، بیرک کے شیئرز 52 فیصد بڑھے جبکہ ایگنیکو ایگل کے شیئرز 142 فیصد اضافے کے ساتھ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں نے پہلے تجویز دی تھی کہ کمپنی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے: ایک حصہ مستحکم اثاثوں جیسے نیواڈا اور فور مائل پر مشتمل ہو، جبکہ دوسرا حصہ زیادہ خطرے والے اثاثوں پر مشتمل ہو، جن میں افریقہ، پاپوا نیو گِنی اور ریکو ڈِک شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں کے مطابق بیرِک اُن چند سونے کی کان کنی کرنے والی کمپنیوں میں سے ہے جن کے اثاثے کئی براعظموں میں پھیلے ہوئے ہیں، اور اس کی سب سے بڑی کمزوری سیاسی طور پر غیر مستحکم علاقوں میں موجود کانیں رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرک کی سب سے بڑی کمزوری سیاسی طور پر غیر مستحکم علاقوں میں موجود کانیں رہی ہیں۔ اس سال کے آغاز میں کمپنی نے مالی میں واقع اپنی سب سے منافع بخش کان، لُولو-گونکوٹو کمپلیکس، پر کنٹرول کھو دیا، جس سے ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ ملک کے نئے مائننگ ٹیکس کوڈ پر تنازعے کے سبب 3 میٹرک ٹن سونا ضبط کیا گیا اور کان کے انتظام کے لیے عبوری ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا گیا۔ کمپنی کے چار ملازمین اب بھی مالی کی انتظامیہ کی حراست میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سرمایہ کار نے کہا کہ نیواڈا میں کافی قدر موجود ہے۔ اگر یہ کان بذات خود عوامی طور پر درج کمپنی ہوتی تو دنیا کی سب سے بڑی سرمائے والی سونے کی کان کنی کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک ہوتی۔ سرمایہ کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کینیڈا کی بیرک مائننگ کے بورڈ نے کمپنی کو دو الگ اداروں میں تقسیم کرنے پر غور کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے جن میں سے ایک شمالی امریکہ پر توجہ مرکوز کرے گا اور دوسرا افریقہ اور ایشیا کے اثاثوں پر۔ یہ خبر رائٹرز کو کمپنی کے معاملات سے واقف چار ذرائع نے دی۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق ممکنہ تقسیم میں بیرک کے افریقی اثاثوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں واقع ریکو ڈِک کان کی فروخت بھی شامل ہو سکتی ہے، بشرطیکہ منصوبے کے لیے مطلوبہ فنانسنگ حاصل کرلی جائے۔</p>
<p>مالی میں کمپنی کی جانب سے اثاثہ فروخت کرنے سے قبل فوجی حکومت کے ساتھ جاری تنازعہ حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔</p>
<p>بیرک کے ترجمان نے فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا جبکہ عبوری سی ای او مارک ہِل نے کہا کہ کمپنی قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرتی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت جاری ہے اور ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔</p>
<p>اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے 2019 میں رینڈ گولڈ کے ساتھ بیرک کے انضمام کی واپسی ہوگی اور سابق سی ای او مارک بریسٹو کے دور میں شامل کیے گئے بعض اثاثے کمپنی کے دائرہ کار سے نکل جائیں گے۔</p>
<p>کمپنی کی شمالی امریکہ پر توجہ جس میں نیواڈا میں واقع فور مائل کی بڑی مگر غیر ترقی یافتہ سونے کی کان بھی شامل ہے، اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ممکنہ ٹیک اوور کی صورت میں بیرک کی قیمت کم نہ لگائی جائے۔ فور مائل کان کی ٹیسٹ پروڈکشن 2029 تک شروع نہیں ہوگی۔</p>
<p>رپورٹ کے بعد جمعہ کو ٹورنٹو اسٹاک ایکسچینج میں بیرک کے شیئرز میں 3 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ کمپنی کے شیئرز کی قیمت کم لگائی گئی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ بیرک تاریخی بلندی پر پہنچنے والی سونے کی قیمتوں سے زیادہ مؤثر فائدہ اٹھائے۔ اگرچہ رواں سال بیرک کے شیئرز میں 130 فیصد اضافہ ہوا، پچھلے پانچ سال میں کمپنی کی کارکردگی اپنے حریفوں کے مقابلے میں کمزور رہی، بیرک کے شیئرز 52 فیصد بڑھے جبکہ ایگنیکو ایگل کے شیئرز 142 فیصد اضافے کے ساتھ رہے۔</p>
<p>سرمایہ کاروں نے پہلے تجویز دی تھی کہ کمپنی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے: ایک حصہ مستحکم اثاثوں جیسے نیواڈا اور فور مائل پر مشتمل ہو، جبکہ دوسرا حصہ زیادہ خطرے والے اثاثوں پر مشتمل ہو، جن میں افریقہ، پاپوا نیو گِنی اور ریکو ڈِک شامل ہیں۔</p>
<p>سرمایہ کاروں کے مطابق بیرِک اُن چند سونے کی کان کنی کرنے والی کمپنیوں میں سے ہے جن کے اثاثے کئی براعظموں میں پھیلے ہوئے ہیں، اور اس کی سب سے بڑی کمزوری سیاسی طور پر غیر مستحکم علاقوں میں موجود کانیں رہی ہیں۔</p>
<p>بیرک کی سب سے بڑی کمزوری سیاسی طور پر غیر مستحکم علاقوں میں موجود کانیں رہی ہیں۔ اس سال کے آغاز میں کمپنی نے مالی میں واقع اپنی سب سے منافع بخش کان، لُولو-گونکوٹو کمپلیکس، پر کنٹرول کھو دیا، جس سے ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ ملک کے نئے مائننگ ٹیکس کوڈ پر تنازعے کے سبب 3 میٹرک ٹن سونا ضبط کیا گیا اور کان کے انتظام کے لیے عبوری ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا گیا۔ کمپنی کے چار ملازمین اب بھی مالی کی انتظامیہ کی حراست میں ہیں۔</p>
<p>ایک سرمایہ کار نے کہا کہ نیواڈا میں کافی قدر موجود ہے۔ اگر یہ کان بذات خود عوامی طور پر درج کمپنی ہوتی تو دنیا کی سب سے بڑی سرمائے والی سونے کی کان کنی کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک ہوتی۔ سرمایہ کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279360</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Nov 2025 15:46:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/151544294441809.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/151544294441809.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
