<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پہلی سہ ماہی: حکومتی قرضوں میں 1.2 کھرب روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279347/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملکی معیشت کے محاذ پر ایک اہم پیشرفت کے تحت رواں مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی کے دوران حکومت کے قرض میں 1.2 کھرب روپے سے زائد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ کمی مرکزی بینک سے منافع کی مضبوط منتقلی کی وجہ سے ممکن ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 26  کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران ملک کے مجموعی سرکاری قرضے جس میں اندرونی اور بیرونی دونوں واجبات شامل ہیں، میں 1.283 کھرب روپے کی کمی واقع ہوئی۔ جون 2025 کے اختتام پر مجموعی قرضہ 77.888 کھرب روپے تھا جو ستمبر 2025 کے اختتام پر کم ہو کر 76.605 کھرب روپے کی سطح پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران قرض میں ہونے والی کمی کا بڑا حصہ اندرونی قرض سے آیا۔ اندرونی قرض میں 1.048 کھرب روپے کی کمی ہوئی اور ستمبر 2025 میں یہ کم ہو کر 53.424 کھرب روپے رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں نے کہا کہ حکومتی قرض میں ابتدائی کمی ایک مثبت اشارہ ہے اور اس سے سود کی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہونے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک نے رواں سال قرضوں کے انتظام کو زیادہ مؤثر طریقے سے سنبھالا ہے جس میں مرکزی بینک کی جانب سے وفاقی حکومت کو بھاری منافع کی منتقلی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں نے مزید کہا کہ جاری مالی استحکام (فِسکل کنسولیڈیشن) کی مدد سے، خالص بجٹ قرضے  کو قابو میں رکھنے کے نتیجے میں نجی شعبے کو مستحکم ترقی کے لیے قرضہ  فراہم کرنے کی گنجائش پیدا ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈومیسٹک  قرض کے تحت طویل مدتی قرضوں میں بھی ایک نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ طویل مدتی قرض 692 ارب روپے کم ہو کر ستمبر 2025 میں 44.961 کھرب روپے رہ گیا، جو جون 2025 میں 45.653 کھرب روپے تھا۔ اسی طرح، مختصر مدتی قرضہ بھی 356 ارب روپے کم ہو کر اسی مالی سال کی اسی مدت میں 8.756 کھرب روپے سے گر کر 8.4 کھرب روپے رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے تحت قرض رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 62 ارب روپے سے بڑھ کر 63 ارب روپے ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا بیرونی قرض (روپے میں مالیت کے لحاظ سے) 236 ارب روپے کم ہوا۔ ستمبر 2025 کے اختتام پر بیرونی قرض کا حجم 23.181 کھرب روپے رہا جو جون 2025 میں 23.417 کھرب روپے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے گزشتہ مالی سال میں 2.5 کھرب روپے کا مضبوط منافع کمایا، جس میں سے 2.4 کھرب روپے وفاقی حکومت کو منتقل کیے گئے۔ اس آمدن نے مجموعی طور پر معیشت پر قرض کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملکی معیشت کے محاذ پر ایک اہم پیشرفت کے تحت رواں مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی کے دوران حکومت کے قرض میں 1.2 کھرب روپے سے زائد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ کمی مرکزی بینک سے منافع کی مضبوط منتقلی کی وجہ سے ممکن ہوئی۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 26  کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران ملک کے مجموعی سرکاری قرضے جس میں اندرونی اور بیرونی دونوں واجبات شامل ہیں، میں 1.283 کھرب روپے کی کمی واقع ہوئی۔ جون 2025 کے اختتام پر مجموعی قرضہ 77.888 کھرب روپے تھا جو ستمبر 2025 کے اختتام پر کم ہو کر 76.605 کھرب روپے کی سطح پر آ گیا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران قرض میں ہونے والی کمی کا بڑا حصہ اندرونی قرض سے آیا۔ اندرونی قرض میں 1.048 کھرب روپے کی کمی ہوئی اور ستمبر 2025 میں یہ کم ہو کر 53.424 کھرب روپے رہ گیا۔</p>
<p>تجزیہ کاروں نے کہا کہ حکومتی قرض میں ابتدائی کمی ایک مثبت اشارہ ہے اور اس سے سود کی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہونے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک نے رواں سال قرضوں کے انتظام کو زیادہ مؤثر طریقے سے سنبھالا ہے جس میں مرکزی بینک کی جانب سے وفاقی حکومت کو بھاری منافع کی منتقلی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں نے مزید کہا کہ جاری مالی استحکام (فِسکل کنسولیڈیشن) کی مدد سے، خالص بجٹ قرضے  کو قابو میں رکھنے کے نتیجے میں نجی شعبے کو مستحکم ترقی کے لیے قرضہ  فراہم کرنے کی گنجائش پیدا ہو گی۔</p>
<p>ڈومیسٹک  قرض کے تحت طویل مدتی قرضوں میں بھی ایک نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ طویل مدتی قرض 692 ارب روپے کم ہو کر ستمبر 2025 میں 44.961 کھرب روپے رہ گیا، جو جون 2025 میں 45.653 کھرب روپے تھا۔ اسی طرح، مختصر مدتی قرضہ بھی 356 ارب روپے کم ہو کر اسی مالی سال کی اسی مدت میں 8.756 کھرب روپے سے گر کر 8.4 کھرب روپے رہ گیا۔</p>
<p>تاہم، نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے تحت قرض رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 62 ارب روپے سے بڑھ کر 63 ارب روپے ہو گیا۔</p>
<p>پاکستان کا بیرونی قرض (روپے میں مالیت کے لحاظ سے) 236 ارب روپے کم ہوا۔ ستمبر 2025 کے اختتام پر بیرونی قرض کا حجم 23.181 کھرب روپے رہا جو جون 2025 میں 23.417 کھرب روپے تھا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے گزشتہ مالی سال میں 2.5 کھرب روپے کا مضبوط منافع کمایا، جس میں سے 2.4 کھرب روپے وفاقی حکومت کو منتقل کیے گئے۔ اس آمدن نے مجموعی طور پر معیشت پر قرض کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279347</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Nov 2025 10:41:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/151024102ead581.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/151024102ead581.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
