<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:07:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:07:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ نے لاطینی امریکہ میں نئے فوجی آپریشن کا اعلان کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279324/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے جمعرات کو “نارکو دہشت گردوں کو ختم کرنے” کے لیے ایک فوجی آپریشن کا اعلان کیا، اس دوران لاطینی امریکہ کے پانیوں میں امریکی بحری بیڑے کی بڑھتی ہوئی موجودگی سے خدشات بڑھ گئے کہ یہ زمین پر حملوں اور بڑے تصادم کی تیاری ہو سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹ ہیگسیٹھ نے ایکس پر کہا کہ آج میں آپریشن سدرن اسپئیر کا اعلان کر رہا ہوں۔ یہ مشن ہمارے ملک کا دفاع کرے گا، علاقے سے نارکو دہشت گردوں کو ختم کرے گا، اور ہمارے عوام کو مارنے والی منشیات سے حفاظت فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پوسٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آپریشن کس نوعیت کا ہوگا یا پہلے سے جاری فوجی کارروائیوں سے کس طرح مختلف ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کیریبین اور مشرقی پیسفک میں ایک فوجی مہم چلا رہی ہے، جس میں نیول اور فضائی افواج کو اینٹی ڈرگز مہم کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔ امریکی اعداد و شمار کے مطابق، امریکی افواج نے ستمبر کے اوائل سے اس خطے میں بین الاقوامی پانیوں میں تقریباً 20 جہازوں پر حملے کیے، جن میں کم از کم 76 افراد ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینٹاگون کے ایک ترجمان نے آپریشن سدرن اسپئیر کی نوعیت کے بارے میں وضاحت سے بچتے ہوئے پیٹ ہیگسیٹھ کی ایکس پوسٹ کی طرف رجوع کرنے کو کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی بی ایس نیوز نے بدھ کو متعدد ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سینئر فوجی حکام نے ٹرمپ کو وینزویلا میں ممکنہ کارروائیوں کے لیے تازہ آپشنز پیش کیے، جن میں زمینی حملے بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا نے منگل کو کہا کہ وہ اپنے ساحل کے قریب امریکی بحری موجودگی کے خلاف ایک بڑے قومی فوجی تعیناتی کا اعلان کر رہا ہے، جس میں کیریبین میں نئے آنے والے امریکی ایئرکرافٹ کیریئر اسٹریک گروپ، پورٹو ریکو بھیجے گئے ایف-35 سٹیلتھ طیارے، اور چھ امریکی بحری جہاز شامل ہیں۔ کاراکاس کا خدشہ ہے کہ یہ تعیناتی دراصل ایک ریجیم چینج منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے جمعرات کو “نارکو دہشت گردوں کو ختم کرنے” کے لیے ایک فوجی آپریشن کا اعلان کیا، اس دوران لاطینی امریکہ کے پانیوں میں امریکی بحری بیڑے کی بڑھتی ہوئی موجودگی سے خدشات بڑھ گئے کہ یہ زمین پر حملوں اور بڑے تصادم کی تیاری ہو سکتی ہے۔</strong></p>
<p>پیٹ ہیگسیٹھ نے ایکس پر کہا کہ آج میں آپریشن سدرن اسپئیر کا اعلان کر رہا ہوں۔ یہ مشن ہمارے ملک کا دفاع کرے گا، علاقے سے نارکو دہشت گردوں کو ختم کرے گا، اور ہمارے عوام کو مارنے والی منشیات سے حفاظت فراہم کرے گا۔</p>
<p>اس پوسٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آپریشن کس نوعیت کا ہوگا یا پہلے سے جاری فوجی کارروائیوں سے کس طرح مختلف ہوگا۔</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کیریبین اور مشرقی پیسفک میں ایک فوجی مہم چلا رہی ہے، جس میں نیول اور فضائی افواج کو اینٹی ڈرگز مہم کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔ امریکی اعداد و شمار کے مطابق، امریکی افواج نے ستمبر کے اوائل سے اس خطے میں بین الاقوامی پانیوں میں تقریباً 20 جہازوں پر حملے کیے، جن میں کم از کم 76 افراد ہلاک ہوئے۔</p>
<p>پینٹاگون کے ایک ترجمان نے آپریشن سدرن اسپئیر کی نوعیت کے بارے میں وضاحت سے بچتے ہوئے پیٹ ہیگسیٹھ کی ایکس پوسٹ کی طرف رجوع کرنے کو کہا۔</p>
<p>سی بی ایس نیوز نے بدھ کو متعدد ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سینئر فوجی حکام نے ٹرمپ کو وینزویلا میں ممکنہ کارروائیوں کے لیے تازہ آپشنز پیش کیے، جن میں زمینی حملے بھی شامل تھے۔</p>
<p>وینزویلا نے منگل کو کہا کہ وہ اپنے ساحل کے قریب امریکی بحری موجودگی کے خلاف ایک بڑے قومی فوجی تعیناتی کا اعلان کر رہا ہے، جس میں کیریبین میں نئے آنے والے امریکی ایئرکرافٹ کیریئر اسٹریک گروپ، پورٹو ریکو بھیجے گئے ایف-35 سٹیلتھ طیارے، اور چھ امریکی بحری جہاز شامل ہیں۔ کاراکاس کا خدشہ ہے کہ یہ تعیناتی دراصل ایک ریجیم چینج منصوبہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279324</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Nov 2025 12:40:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/1412395303048f5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/1412395303048f5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
