<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوکرین کا روسی تیل تنصیبات پر ڈرون حملہ، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279307/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں جمعہ کو  تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جب یوکرین کے ایک ڈرون حملے سے روسی بحیرۂ اسود کی بندرگاہ نووروسیسک میں واقع ایک آئل ڈپو کو نقصان پہنچا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ کے سودے 1.34 ڈالر یعنی 2.13 فیصد بڑھ کر 64.35 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 1.40 ڈالر یا 2.39 فیصد اضافے سے 60.09 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراسنوڈار ریجن کے آپریشنل ہیڈکوارٹر نے ٹیلیگرام پر بتایا کہ ڈرون کے ملبے نے تین اپارٹمنٹس، ایک آئل ڈپو، ٹرانس شپمنٹ کمپلیکس اور ساحلی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز قیمتیں نسبتاً مستحکم رہی تھیں، کیونکہ روسی تیل پر ممکنہ نئی پابندیوں کے خدشات نے عالمی رسد کی زیادتی کے بارے میں تشویش کو کسی حد تک کم کر دیا تھا، جس نے ایک سیشن قبل قیمتوں میں دو ڈالر سے زیادہ کی کمی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ نے یوکرین جنگ کے تناظر میں روس کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے لوک آئل اور روزنیفٹ سمیت روسی آئل کمپنیوں پر تازہ پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن کے تحت 21 نومبر کے بعد ان کمپنیوں کے ساتھ لین دین پر پابندی ہوگی۔ جے پی مورگن کے مطابق پابندیوں کے باعث روس کے تقریباً 1.4 ملین بیرل یومیہ تیل کو ٹینکروں میں روکا جا رہا ہے کیونکہ کارگو کی ان لوڈنگ سست پڑ گئی ہے، جو روس کی سمندری برآمدی صلاحیت کا تقریباً ایک تہائی بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک نے خبردار کیا کہ 21 نومبر کے بعد روسی کمپنیوں کی جانب سے بھیجے گئے کارگو کی وصولی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال نے مارکیٹ میں بے یقینی کو بڑھا دیا ہے۔ بدھ کو اوپیک کی رپورٹ کے بعد تیل کی قیمتوں میں دو ڈالر سے زائد کمی واقع ہوئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ 2026 میں تیل کی عالمی سپلائی طلب سے کچھ زیادہ رہے گی، جبکہ اس سے قبل خسارے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائیتونگ سیکیورٹیز کے مطابق بدھ کی تیز گراوٹ کے بعد مارکیٹ نے وقتی دباؤ نکال کر صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر میں توقع سے زیادہ اضافہ رپورٹ کیا۔ ای آئی اے کے مطابق 7 نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں خام تیل کے ذخائر 6.4 ملین بیرل بڑھ کر 427.6 ملین بیرل ہوگئے، جبکہ تجزیہ کار محض 1.96 ملین بیرل اضافے کی توقع کر رہے تھے۔ گیسولین اور ڈسٹلیٹ کے ذخائر میں بھی کمی توقعات سے کم رہی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں جمعہ کو  تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جب یوکرین کے ایک ڈرون حملے سے روسی بحیرۂ اسود کی بندرگاہ نووروسیسک میں واقع ایک آئل ڈپو کو نقصان پہنچا۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ کے سودے 1.34 ڈالر یعنی 2.13 فیصد بڑھ کر 64.35 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 1.40 ڈالر یا 2.39 فیصد اضافے سے 60.09 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔</p>
<p>کراسنوڈار ریجن کے آپریشنل ہیڈکوارٹر نے ٹیلیگرام پر بتایا کہ ڈرون کے ملبے نے تین اپارٹمنٹس، ایک آئل ڈپو، ٹرانس شپمنٹ کمپلیکس اور ساحلی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز قیمتیں نسبتاً مستحکم رہی تھیں، کیونکہ روسی تیل پر ممکنہ نئی پابندیوں کے خدشات نے عالمی رسد کی زیادتی کے بارے میں تشویش کو کسی حد تک کم کر دیا تھا، جس نے ایک سیشن قبل قیمتوں میں دو ڈالر سے زیادہ کی کمی کی تھی۔</p>
<p>امریکہ نے یوکرین جنگ کے تناظر میں روس کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے لوک آئل اور روزنیفٹ سمیت روسی آئل کمپنیوں پر تازہ پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن کے تحت 21 نومبر کے بعد ان کمپنیوں کے ساتھ لین دین پر پابندی ہوگی۔ جے پی مورگن کے مطابق پابندیوں کے باعث روس کے تقریباً 1.4 ملین بیرل یومیہ تیل کو ٹینکروں میں روکا جا رہا ہے کیونکہ کارگو کی ان لوڈنگ سست پڑ گئی ہے، جو روس کی سمندری برآمدی صلاحیت کا تقریباً ایک تہائی بنتا ہے۔</p>
<p>بینک نے خبردار کیا کہ 21 نومبر کے بعد روسی کمپنیوں کی جانب سے بھیجے گئے کارگو کی وصولی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال نے مارکیٹ میں بے یقینی کو بڑھا دیا ہے۔ بدھ کو اوپیک کی رپورٹ کے بعد تیل کی قیمتوں میں دو ڈالر سے زائد کمی واقع ہوئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ 2026 میں تیل کی عالمی سپلائی طلب سے کچھ زیادہ رہے گی، جبکہ اس سے قبل خسارے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔</p>
<p>ہائیتونگ سیکیورٹیز کے مطابق بدھ کی تیز گراوٹ کے بعد مارکیٹ نے وقتی دباؤ نکال کر صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر میں توقع سے زیادہ اضافہ رپورٹ کیا۔ ای آئی اے کے مطابق 7 نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں خام تیل کے ذخائر 6.4 ملین بیرل بڑھ کر 427.6 ملین بیرل ہوگئے، جبکہ تجزیہ کار محض 1.96 ملین بیرل اضافے کی توقع کر رہے تھے۔ گیسولین اور ڈسٹلیٹ کے ذخائر میں بھی کمی توقعات سے کم رہی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279307</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Nov 2025 09:37:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/140934343ecac85.webp" type="image/webp" medium="image" height="360" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/140934343ecac85.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
