<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 17:11:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 17:11:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کو گرڈ لیوی مسئلہ فوری حل کرنے کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279306/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کو ہدایت کی ہے کہ ٹیکسٹائل صنعت کے لیے گرڈ ٹرانزیشن لیوی اور آر ایل این جی چارجز کی ریٹرو اسپیکٹیو ایکچوئلائزیشن سے متعلق مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں۔ ذرائع کے مطابق یہ ہدایات خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت کاروباری برادری کے وفد کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں دی گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری نمائندگان نے مؤقف اختیار کیا کہ گرڈ ٹرانزیشن لیوی نے ہائی ایفیشنسی کمبائنڈ ہیٹ اینڈ پاور پلانٹس کو غیر متناسب طور پر نقصان پہنچایا ہے، حالانکہ یہ پلانٹس صنعتی عمل میں استعمال ہونے والی ویسٹ ہیٹ کو بروئے کار لا کر 60 سے 80 فیصد تک کارکردگی حاصل کرتے ہیں۔ تجویز دی گئی کہ صنعتی گیس ٹیرف زمرے میں شامل سی ایچ پی پلانٹس کو 60 فیصد کارکردگی کے معیار اور سالانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کی بنیاد پر دوبارہ درجہ بند کیا جائے۔ اس کے ساتھ یہ سفارش بھی سامنے آئی کہ آر ایل این جی حکومت کی سبسڈی کے بغیر اصل قیمت پر فراہم کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما اور کے سی سی آئی پر مشتمل وفد نے مزید شکایت کی کہ کیپٹو لیوی پر سیلز ٹیکس الگ سے وصول کیا جا رہا ہے۔ آر ایل این جی کے ریٹروسپیکٹو چارجز کے معاملے پر اجلاس نے فیصلہ کیا کہ صنعتوں کو درپیش مسئلہ حل کرنے کے لیے اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن مشترکہ طور پر اقدامات کریں گے۔ پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا سہ ماہی بنیادوں پر آر ایل این جی چارجز کی حقیقت سازی سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما کی جانب سے عائد تحفظات کے تناظر میں پیٹرولیم ڈویژن گرڈ ٹرانزیشن لیوی کے حسابی طریقہ کار کا دوبارہ جائزہ لے گا، خاص طور پر پییک آور ٹیرف پر انحصار اور آئی ایم ایف پروگرام کی پابندیوں سے متعلق امور کا۔ پاور ڈویژن جمعہ 14 نومبر تک کیپٹو لیوی پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کے معاملے پر وضاحت فراہم کرے گا، جو ایس آئی ایف سی اور وزیرِ مملکت کے دفتر کو بھیجی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری برادری نے دعویٰ کیا کہ آر ایل این جی کے 75 ارب روپے کے ریٹروسپیکٹو چارجز صنعتی صارفین کے بجلی بلوں میں شامل کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث صنعت کو مالی دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ متعلقہ عرصے کے مالی حسابات پہلے ہی بند کیے جا چکے ہیں۔ مزید کہا گیا کہ اگرچہ اوگرا کی جانب سے آر ایل این جی چارجز کی ایکچوئلائزیشن عدالت میں چیلنج کر دی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود صنعتوں کو بل جاری کیے جا رہے ہیں۔ ایف پی سی سی آئی اور جی سی سی آئی نے مطالبہ کیا کہ عدالتی فیصلے تک ان چارجز کی وصولی مؤخر کرنے کی سہولت دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی نے ایف بی آر کے اہلکاروں کی جانب سے سیلز ٹیکس ایکٹ کی شق 40 بی کے تحت مخصوص فیکٹریوں میں تعیناتی پر بھی اعتراض اٹھایا اور اسے بعض کاروباروں کے خلاف امتیازی سلوک قرار دیا۔ وزیرِ مملکت نے ہدایت دی کہ کمیٹی کے اگلے اجلاس میں ملتان چیمبر آف کامرس کی جانب سے شق 40 بی کے تحت موصول شکایات کو لازماً زیرِ غور لایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے ساتھ تجارت میں الیکٹرانکس کی درآمد پر دی گئی چھوٹ 45 دن میں ختم ہو رہی ہے۔ کوئٹہ چیمبر آف کامرس نے اس کی مدت ایک سال تک بڑھانے کی درخواست کی، جسے اجلاس میں زیرِ بحث لایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کو ہدایت کی ہے کہ ٹیکسٹائل صنعت کے لیے گرڈ ٹرانزیشن لیوی اور آر ایل این جی چارجز کی ریٹرو اسپیکٹیو ایکچوئلائزیشن سے متعلق مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں۔ ذرائع کے مطابق یہ ہدایات خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت کاروباری برادری کے وفد کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں دی گئیں۔</strong></p>
<p>کاروباری نمائندگان نے مؤقف اختیار کیا کہ گرڈ ٹرانزیشن لیوی نے ہائی ایفیشنسی کمبائنڈ ہیٹ اینڈ پاور پلانٹس کو غیر متناسب طور پر نقصان پہنچایا ہے، حالانکہ یہ پلانٹس صنعتی عمل میں استعمال ہونے والی ویسٹ ہیٹ کو بروئے کار لا کر 60 سے 80 فیصد تک کارکردگی حاصل کرتے ہیں۔ تجویز دی گئی کہ صنعتی گیس ٹیرف زمرے میں شامل سی ایچ پی پلانٹس کو 60 فیصد کارکردگی کے معیار اور سالانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کی بنیاد پر دوبارہ درجہ بند کیا جائے۔ اس کے ساتھ یہ سفارش بھی سامنے آئی کہ آر ایل این جی حکومت کی سبسڈی کے بغیر اصل قیمت پر فراہم کی جائے۔</p>
<p>اپٹما اور کے سی سی آئی پر مشتمل وفد نے مزید شکایت کی کہ کیپٹو لیوی پر سیلز ٹیکس الگ سے وصول کیا جا رہا ہے۔ آر ایل این جی کے ریٹروسپیکٹو چارجز کے معاملے پر اجلاس نے فیصلہ کیا کہ صنعتوں کو درپیش مسئلہ حل کرنے کے لیے اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن مشترکہ طور پر اقدامات کریں گے۔ پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا سہ ماہی بنیادوں پر آر ایل این جی چارجز کی حقیقت سازی سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔</p>
<p>اپٹما کی جانب سے عائد تحفظات کے تناظر میں پیٹرولیم ڈویژن گرڈ ٹرانزیشن لیوی کے حسابی طریقہ کار کا دوبارہ جائزہ لے گا، خاص طور پر پییک آور ٹیرف پر انحصار اور آئی ایم ایف پروگرام کی پابندیوں سے متعلق امور کا۔ پاور ڈویژن جمعہ 14 نومبر تک کیپٹو لیوی پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کے معاملے پر وضاحت فراہم کرے گا، جو ایس آئی ایف سی اور وزیرِ مملکت کے دفتر کو بھیجی جائے گی۔</p>
<p>کاروباری برادری نے دعویٰ کیا کہ آر ایل این جی کے 75 ارب روپے کے ریٹروسپیکٹو چارجز صنعتی صارفین کے بجلی بلوں میں شامل کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث صنعت کو مالی دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ متعلقہ عرصے کے مالی حسابات پہلے ہی بند کیے جا چکے ہیں۔ مزید کہا گیا کہ اگرچہ اوگرا کی جانب سے آر ایل این جی چارجز کی ایکچوئلائزیشن عدالت میں چیلنج کر دی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود صنعتوں کو بل جاری کیے جا رہے ہیں۔ ایف پی سی سی آئی اور جی سی سی آئی نے مطالبہ کیا کہ عدالتی فیصلے تک ان چارجز کی وصولی مؤخر کرنے کی سہولت دی جائے۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی نے ایف بی آر کے اہلکاروں کی جانب سے سیلز ٹیکس ایکٹ کی شق 40 بی کے تحت مخصوص فیکٹریوں میں تعیناتی پر بھی اعتراض اٹھایا اور اسے بعض کاروباروں کے خلاف امتیازی سلوک قرار دیا۔ وزیرِ مملکت نے ہدایت دی کہ کمیٹی کے اگلے اجلاس میں ملتان چیمبر آف کامرس کی جانب سے شق 40 بی کے تحت موصول شکایات کو لازماً زیرِ غور لایا جائے۔</p>
<p>ایران کے ساتھ تجارت میں الیکٹرانکس کی درآمد پر دی گئی چھوٹ 45 دن میں ختم ہو رہی ہے۔ کوئٹہ چیمبر آف کامرس نے اس کی مدت ایک سال تک بڑھانے کی درخواست کی، جسے اجلاس میں زیرِ بحث لایا گیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279306</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Nov 2025 09:27:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/14092457aefe9cb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/14092457aefe9cb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
