<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:39:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:39:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رائے: مارکیٹ میں مصنوعی اضافے پر ماہرین کی رہنمائی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279297/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ  بات حیرت انگیز ہے کہ کس طرح مارکیٹ کے بلبلے (مصنوعی اضافہ) جدید مالیاتی منڈیوں کے آغاز سے لے کر آج تک ماہرینِ مالیات کو بار بار حیران کرتے رہے ہیں۔ سترہویں صدی کی ڈچ ٹولِپ مینیا سے لے کر اٹھارویں صدی کے ساؤتھ سی اور میسیسیپی کے جنون، انیسویں صدی کی ریلوے قیاس آرائی، بیسویں صدی کے جاپانی اثاثہ جات کے بلبلے، اور پھر نئی صدی کے ڈاٹ کام، سب پرائم اور کرپٹو کے جنون، ہر بار، بغیر استثنا، عالمی مالیاتی برادری نے “اس بار فرق ہے” کے نعرے کو دہراتے ہوئے اس وقت تک یقین کر لیا جب تک حقیقت سامنے نہ آئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے بلبلوں ( غیر حقیقی نمو) کی ساخت کی تفصیل بیان کر دی ہے اور ہر مرحلے کو نام دے دیا ہے، ڈسپلیسمنٹ، بوم، جوش و خروش، منافع کمانا اور گھبراہٹ، پھر بھی وہ حقیقی وقت میں ایک بلبلے ( مصنوعی اضافے) کو پہچاننے میں ناکام رہتے ہیں۔ اب ایک بار پھر، وال اسٹریٹ پر ایک نئے بلبلے کی بات چل رہی ہے، اور اس کا اثر عالمی مالیات پر بھی پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بار، ظاہر ہے، یہ مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کا بوم ہے جبکہ مارکیٹ میں موجود لوگ ابھی بھی اس پر تقسیم ہیں کہ آیا یہ حقیقی پیداوار میں تبدیلی لائے گا یا مستقبل کے وعدوں کی قیمت خطرناک حد تک زیادہ لگائی جا رہی ہے، بحث کا انداز اور لہجہ پہلے کے بلبلوں کی یاد دلاتا ہے۔ گولڈمین سَکس، جو مبالغہ آرائی سے عموماً پرہیز کرتا ہے، پہلے ہی 1990 کی دہائی کے آخر کے دور سے موازنہ کر رہا ہے۔ ابھی وہ اسے بلبلہ (مصنوعی اضافہ) نہیں کہہ رہے، لیکن اس کے امکان کو بھی رد نہیں کر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے ماہرین نے ڈاٹ کام دور کے پانچ خطرے کے اشارے اجاگر کیے ہیں جو دوبارہ ظاہر ہو رہے ہیں: سرمایہ کاری کا غیر مستحکم حد تک بڑھنا، حصص کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود منافع میں کمی، جارحانہ کارپوریٹ قرضہ جاری کرنا، شرح سود میں کمی جو رسک لینے کو بڑھاتی ہے،کریڈٹ اسپریڈز کے بڑھنے کی ابتدائی علامات&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت، غیر رہائشی ٹیک اور ٹیلیکوم سرمایہ کاری امریکی جی ڈی پی کے 15 فیصد تک پہنچ کر پھر گر گئی تھی۔ اب، آج کے ٹیکنالوجی کے بڑے کھلاڑیوں کی قیادت میں ایک نئی سرمایہ کاری کی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ایمیزون، میٹا، مائیکروسافٹ، الفابیٹ اور ایپل 2025 میں مجموعی طور پر 349 ارب ڈالر خرچ کرنے کے راستے پر ہیں، ایسا اعداد و شمار دو سال پہلے فسانے جیسا لگتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارپوریٹ منافع، فی الوقت، کم نہیں ہوا۔ درحقیقت، ایس اینڈ پی 500 کے خالص منافع کی شرح تیسری سہ ماہی میں تقریباً 13.1 فیصد ہے، جو پانچ سالہ اوسط سے کافی زیادہ ہے۔ لیکن گولڈمین کے مطابق 1990 کی دہائی کے آخر میں، مجموعی سطح پر منافع کئی سال قبل ہی گرنا شروع ہو گیا تھا، حالانکہ مارکیٹ کو اس وقت کوئی فرق نہیں پڑا جب تک اسے حقیقت میں تصدیق نہ ہو گئی۔ کچھ ماہرین کے مطابق یہی بلبلہ (مصنوعی اضافہ) کرتا ہے، یہ نظام کو ایسے اشاروں کی طرف توجہ دینے سے روکتا ہے جو احتیاط کے لیے ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرض کے حجم پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ گولڈمین نے نشاندہی کی کہ ڈاٹ کام دور میں کمپنیوں نے منافع سے پہلے قرض بڑھا لیا تھا۔ اس بار، بڑی سطح پر کمپنیوں کا رویہ زیادہ ذمہ دار انہ دکھائی دیتا ہے، کیونکہ زیادہ تر بڑے ٹیکنالوجی کے سرمایہ کاری کے اخراجات نقد بہاؤ سے پورے کیے جا رہے ہیں۔ لیکن گہرا جائزہ لینے پر تصویر مختلف ہے۔ بڑے ٹیکنالوجی اداروں نے صرف رواں سال بانڈز کے ذریعے 93 ارب ڈالر جمع کیے، پچھلے تین سال کے مجموعی رقم سے زیادہ۔ اور کچھ، جیسے میٹا، نے تخلیقی آف-بیلنس شیٹ فنانسنگ کا سہارا لیا۔ اکتوبر کے آخر میں، اس نے لوئیزیانا میں ڈیٹا سینٹر کے لیے بلو اول کیپٹل کے ساتھ 27 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا، بغیر اپنی اے پلس کریڈٹ ریٹنگ متاثر کیے۔ کاغذ پر یہ ذہانت ہے، لیکن یہ قرض کو نظر سے اوجھل کر دیتا ہے، مگر کیا خطرے سے بھی اوجھل کر دیتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوریکل اور بھی زیادہ جارحانہ ہے۔ اس کا آئندہ سال کا سرمایہ کاری کا حجم آپریٹنگ کیش فلو کا 138 فیصد متوقع ہے، جبکہ میٹا 84 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ اس سال اوریکل کے بانڈ اسپریڈز اپنے ہم منصبوں کی نسبت سب سے زیادہ بڑھ گئے، جو قرض دہندگان کی بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔ میٹا کے 25 سالہ نوٹ کی شرح سود 6.6 فیصد ہے، اسی طرح کے کارپوریٹ بانڈز سے ایک فیصد زیادہ۔ اگرچہ کریڈٹ ریٹنگ ٹھیک ہے، مگر قیمت بندی جیسا کہ جنک بانڈ لگ رہی ہے۔ یہ اس مارکیٹ میں منطقی بھی ہو سکتا ہے جہاں بیلنس شیٹ کی شفافیت کم ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;پھر بھی، یہ 1999 نہیں ہے۔ بالکل نہیں۔ اُس وقت قیمتیں کہیں زیادہ انتہا پسندی پر تھیں، خردہ سرمایہ کاروں کی شرکت شدید جوش و خروش والی تھی، اور بہت سی ٹیک کمپنیوں کی آمدنی بالکل بھی موجود نہیں تھی۔آج کے بڑے ٹیک ادارے (میگا کیپس) حقیقی منافع پیدا کرتے ہیں، لیکن ان کی ترقی کی توقعات ایسے منصوبوں پر مبنی ہیں جو قیاس آرائی اور غیر یقینی وقت کی پیش گوئی پر انحصار کرتے ہیں۔ کسی نہ کسی مرحلے پر، اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں کے طلباء کے لیے یہ ایک سبق آموز مثال بھی ہے کہ فی الحال امریکی بانڈ مارکیٹ اپنا توازن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ لیکن یہ بھی سوتی نہیں رہی۔ کریڈٹ اسپریڈز تاریخی اعتبار سے تنگ ہیں، مگر اب مزید سکڑاؤ نہیں ہو رہا۔ حال ہی میں آئی سی ای بی، بینک آف امریکہ کے امریکی ہائی ییلڈ بانڈز کا انڈیکس کا اسپریڈ 2.76 فیصد سے بڑھ کر 3.15 فیصد ہو گیا ہے۔ معمولی سا فرق، مگر قابل ذکر۔ مارکیٹ اب بھی رسک کو قیمت دے رہی ہے، مگر اتنی لیکویڈیٹی اور طلب موجود ہے کہ چرخے چلتے رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں فیڈرل ریزرو (فیڈ) دوبارہ گفتگو میں آتا ہے۔ 1990 کی دہائی کے آخر میں، شرح سود میں کمی نے مارکیٹ کی بلندی کو بڑھانے اور چھوٹے نقصانات کو چھپانے میں مدد دی۔ اس سال، طویل بڑھوتری کے بعد، فیڈ نے اکتوبر میں شرح سود 25 بنیاد پوائنٹس کم کی اور توقع ہے کہ دسمبر میں دوبارہ کمی کرے گا۔ کچھ ماہرین، بشمول رے ڈالیو نے انتباہ دیا ہے کہ مزید آسان پالیسیاں بلبلے کو مزید پمپ کر سکتی ہیں، نہ کہ اسے محدود کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ ابھی کلاسیکی بلبلہ نہیں ہے، موجودہ مالیاتی ڈھانچہ کافی خطرناک ہے۔ عالمی اے آئی انفرا اسٹرکچر کے قیام کی لاگت 2028 تک تقریباً 3 ٹریلین ڈالر تخمینہ ہے۔ نقد بہاؤ زیادہ سے زیادہ نصف لاگت پورا کرے گا، باقی رقم مارکیٹ سے لینا ہوگی۔ اور چونکہ کمپنیاں روایتی بانڈز اور پرائیویٹ کریڈٹ دونوں ذرائع سے فنڈز اکٹھا کرنے میں جلدی کر رہی ہیں، کریڈٹ مارکیٹس پر دباؤ سب کے سامنے بڑھ رہا ہے۔ خطرہ اب صرف مارکیٹ کی اصلاح نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ اگر یہ سرمایہ کاری متوقع نتائج نہ دے یا سخت کریڈٹ مزید سرمایہ کاری کے چکروں کو متاثر کرے تو حقیقی معیشت پر اثر پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ ہفتوں میں اے آئی پر بحث خاموشی سے بدل گئی ہے۔ اب یہ سپر انٹیلیجنس کے فلسفیانہ سوالات سے زیادہ اس کے فنڈنگ میکانزم پر مرکوز ہے۔ یہاں تک کہ ابتدائی گفتگو ہو رہی ہے کہ کیا ایک دن اوپن اے آئی کو سرکاری فنڈز کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ وہ مستحکم رہ سکے۔ یہ ابھی مرکزی دھارے کی سوچ نہیں ہے، لیکن یہ بحث میں شامل ہو چکی ہے۔ اور یہ بھی ایک اشارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ماضی سے کچھ سیکھنا ہو تو یہ کہ بلبلے خود اعلان نہیں کرتے، اور جتنے ماہر وال اسٹریٹ پر ہیں، وہ اتنے ہی نابینا ہوتے ہیں جب بلبلہ پھول رہا ہوتا ہے۔ یہ منطقی اور ناگزیر لگتے ہیں، حتیٰ کہ وہ لمحہ آئے جب ایسا نہیں ہوتا۔ یہ لمحہ آیا ہے یا نہیں، ابھی واضح نہیں۔ لیکن جب کارپوریٹ قرضے تیز ہو جائیں، آف-بیلنس شیٹ قرضے رائج ہوں، اور کریڈٹ مارکیٹس ہیڈ لائن اور نوٹس کے درمیان فرق کرنا شروع کر دیں، تو نظام اب کامل قیمت پر نہیں ہے۔ یہ کچھ اور قیمت لگا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاہے جو کچھ بھی ہو، یہ زیادہ دیر تک چھپا نہیں رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید اس بار صورتحال واقعی مختلف ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ  بزنس ریکارڈر،2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ  بات حیرت انگیز ہے کہ کس طرح مارکیٹ کے بلبلے (مصنوعی اضافہ) جدید مالیاتی منڈیوں کے آغاز سے لے کر آج تک ماہرینِ مالیات کو بار بار حیران کرتے رہے ہیں۔ سترہویں صدی کی ڈچ ٹولِپ مینیا سے لے کر اٹھارویں صدی کے ساؤتھ سی اور میسیسیپی کے جنون، انیسویں صدی کی ریلوے قیاس آرائی، بیسویں صدی کے جاپانی اثاثہ جات کے بلبلے، اور پھر نئی صدی کے ڈاٹ کام، سب پرائم اور کرپٹو کے جنون، ہر بار، بغیر استثنا، عالمی مالیاتی برادری نے “اس بار فرق ہے” کے نعرے کو دہراتے ہوئے اس وقت تک یقین کر لیا جب تک حقیقت سامنے نہ آئی۔</strong></p>
<p>ماہرین نے بلبلوں ( غیر حقیقی نمو) کی ساخت کی تفصیل بیان کر دی ہے اور ہر مرحلے کو نام دے دیا ہے، ڈسپلیسمنٹ، بوم، جوش و خروش، منافع کمانا اور گھبراہٹ، پھر بھی وہ حقیقی وقت میں ایک بلبلے ( مصنوعی اضافے) کو پہچاننے میں ناکام رہتے ہیں۔ اب ایک بار پھر، وال اسٹریٹ پر ایک نئے بلبلے کی بات چل رہی ہے، اور اس کا اثر عالمی مالیات پر بھی پڑ رہا ہے۔</p>
<p>اس بار، ظاہر ہے، یہ مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کا بوم ہے جبکہ مارکیٹ میں موجود لوگ ابھی بھی اس پر تقسیم ہیں کہ آیا یہ حقیقی پیداوار میں تبدیلی لائے گا یا مستقبل کے وعدوں کی قیمت خطرناک حد تک زیادہ لگائی جا رہی ہے، بحث کا انداز اور لہجہ پہلے کے بلبلوں کی یاد دلاتا ہے۔ گولڈمین سَکس، جو مبالغہ آرائی سے عموماً پرہیز کرتا ہے، پہلے ہی 1990 کی دہائی کے آخر کے دور سے موازنہ کر رہا ہے۔ ابھی وہ اسے بلبلہ (مصنوعی اضافہ) نہیں کہہ رہے، لیکن اس کے امکان کو بھی رد نہیں کر رہے۔</p>
<p>ان کے ماہرین نے ڈاٹ کام دور کے پانچ خطرے کے اشارے اجاگر کیے ہیں جو دوبارہ ظاہر ہو رہے ہیں: سرمایہ کاری کا غیر مستحکم حد تک بڑھنا، حصص کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود منافع میں کمی، جارحانہ کارپوریٹ قرضہ جاری کرنا، شرح سود میں کمی جو رسک لینے کو بڑھاتی ہے،کریڈٹ اسپریڈز کے بڑھنے کی ابتدائی علامات</p>
<p>اس وقت، غیر رہائشی ٹیک اور ٹیلیکوم سرمایہ کاری امریکی جی ڈی پی کے 15 فیصد تک پہنچ کر پھر گر گئی تھی۔ اب، آج کے ٹیکنالوجی کے بڑے کھلاڑیوں کی قیادت میں ایک نئی سرمایہ کاری کی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ایمیزون، میٹا، مائیکروسافٹ، الفابیٹ اور ایپل 2025 میں مجموعی طور پر 349 ارب ڈالر خرچ کرنے کے راستے پر ہیں، ایسا اعداد و شمار دو سال پہلے فسانے جیسا لگتا۔</p>
<p>کارپوریٹ منافع، فی الوقت، کم نہیں ہوا۔ درحقیقت، ایس اینڈ پی 500 کے خالص منافع کی شرح تیسری سہ ماہی میں تقریباً 13.1 فیصد ہے، جو پانچ سالہ اوسط سے کافی زیادہ ہے۔ لیکن گولڈمین کے مطابق 1990 کی دہائی کے آخر میں، مجموعی سطح پر منافع کئی سال قبل ہی گرنا شروع ہو گیا تھا، حالانکہ مارکیٹ کو اس وقت کوئی فرق نہیں پڑا جب تک اسے حقیقت میں تصدیق نہ ہو گئی۔ کچھ ماہرین کے مطابق یہی بلبلہ (مصنوعی اضافہ) کرتا ہے، یہ نظام کو ایسے اشاروں کی طرف توجہ دینے سے روکتا ہے جو احتیاط کے لیے ضروری ہیں۔</p>
<p>قرض کے حجم پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ گولڈمین نے نشاندہی کی کہ ڈاٹ کام دور میں کمپنیوں نے منافع سے پہلے قرض بڑھا لیا تھا۔ اس بار، بڑی سطح پر کمپنیوں کا رویہ زیادہ ذمہ دار انہ دکھائی دیتا ہے، کیونکہ زیادہ تر بڑے ٹیکنالوجی کے سرمایہ کاری کے اخراجات نقد بہاؤ سے پورے کیے جا رہے ہیں۔ لیکن گہرا جائزہ لینے پر تصویر مختلف ہے۔ بڑے ٹیکنالوجی اداروں نے صرف رواں سال بانڈز کے ذریعے 93 ارب ڈالر جمع کیے، پچھلے تین سال کے مجموعی رقم سے زیادہ۔ اور کچھ، جیسے میٹا، نے تخلیقی آف-بیلنس شیٹ فنانسنگ کا سہارا لیا۔ اکتوبر کے آخر میں، اس نے لوئیزیانا میں ڈیٹا سینٹر کے لیے بلو اول کیپٹل کے ساتھ 27 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا، بغیر اپنی اے پلس کریڈٹ ریٹنگ متاثر کیے۔ کاغذ پر یہ ذہانت ہے، لیکن یہ قرض کو نظر سے اوجھل کر دیتا ہے، مگر کیا خطرے سے بھی اوجھل کر دیتا ہے؟</p>
<p>اوریکل اور بھی زیادہ جارحانہ ہے۔ اس کا آئندہ سال کا سرمایہ کاری کا حجم آپریٹنگ کیش فلو کا 138 فیصد متوقع ہے، جبکہ میٹا 84 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ اس سال اوریکل کے بانڈ اسپریڈز اپنے ہم منصبوں کی نسبت سب سے زیادہ بڑھ گئے، جو قرض دہندگان کی بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔ میٹا کے 25 سالہ نوٹ کی شرح سود 6.6 فیصد ہے، اسی طرح کے کارپوریٹ بانڈز سے ایک فیصد زیادہ۔ اگرچہ کریڈٹ ریٹنگ ٹھیک ہے، مگر قیمت بندی جیسا کہ جنک بانڈ لگ رہی ہے۔ یہ اس مارکیٹ میں منطقی بھی ہو سکتا ہے جہاں بیلنس شیٹ کی شفافیت کم ہو رہی ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>پھر بھی، یہ 1999 نہیں ہے۔ بالکل نہیں۔ اُس وقت قیمتیں کہیں زیادہ انتہا پسندی پر تھیں، خردہ سرمایہ کاروں کی شرکت شدید جوش و خروش والی تھی، اور بہت سی ٹیک کمپنیوں کی آمدنی بالکل بھی موجود نہیں تھی۔آج کے بڑے ٹیک ادارے (میگا کیپس) حقیقی منافع پیدا کرتے ہیں، لیکن ان کی ترقی کی توقعات ایسے منصوبوں پر مبنی ہیں جو قیاس آرائی اور غیر یقینی وقت کی پیش گوئی پر انحصار کرتے ہیں۔ کسی نہ کسی مرحلے پر، اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔</p>
</blockquote>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں کے طلباء کے لیے یہ ایک سبق آموز مثال بھی ہے کہ فی الحال امریکی بانڈ مارکیٹ اپنا توازن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ لیکن یہ بھی سوتی نہیں رہی۔ کریڈٹ اسپریڈز تاریخی اعتبار سے تنگ ہیں، مگر اب مزید سکڑاؤ نہیں ہو رہا۔ حال ہی میں آئی سی ای بی، بینک آف امریکہ کے امریکی ہائی ییلڈ بانڈز کا انڈیکس کا اسپریڈ 2.76 فیصد سے بڑھ کر 3.15 فیصد ہو گیا ہے۔ معمولی سا فرق، مگر قابل ذکر۔ مارکیٹ اب بھی رسک کو قیمت دے رہی ہے، مگر اتنی لیکویڈیٹی اور طلب موجود ہے کہ چرخے چلتے رہیں۔</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں فیڈرل ریزرو (فیڈ) دوبارہ گفتگو میں آتا ہے۔ 1990 کی دہائی کے آخر میں، شرح سود میں کمی نے مارکیٹ کی بلندی کو بڑھانے اور چھوٹے نقصانات کو چھپانے میں مدد دی۔ اس سال، طویل بڑھوتری کے بعد، فیڈ نے اکتوبر میں شرح سود 25 بنیاد پوائنٹس کم کی اور توقع ہے کہ دسمبر میں دوبارہ کمی کرے گا۔ کچھ ماہرین، بشمول رے ڈالیو نے انتباہ دیا ہے کہ مزید آسان پالیسیاں بلبلے کو مزید پمپ کر سکتی ہیں، نہ کہ اسے محدود کر سکتی ہیں۔</p>
<p>اگرچہ یہ ابھی کلاسیکی بلبلہ نہیں ہے، موجودہ مالیاتی ڈھانچہ کافی خطرناک ہے۔ عالمی اے آئی انفرا اسٹرکچر کے قیام کی لاگت 2028 تک تقریباً 3 ٹریلین ڈالر تخمینہ ہے۔ نقد بہاؤ زیادہ سے زیادہ نصف لاگت پورا کرے گا، باقی رقم مارکیٹ سے لینا ہوگی۔ اور چونکہ کمپنیاں روایتی بانڈز اور پرائیویٹ کریڈٹ دونوں ذرائع سے فنڈز اکٹھا کرنے میں جلدی کر رہی ہیں، کریڈٹ مارکیٹس پر دباؤ سب کے سامنے بڑھ رہا ہے۔ خطرہ اب صرف مارکیٹ کی اصلاح نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ اگر یہ سرمایہ کاری متوقع نتائج نہ دے یا سخت کریڈٹ مزید سرمایہ کاری کے چکروں کو متاثر کرے تو حقیقی معیشت پر اثر پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>حالیہ ہفتوں میں اے آئی پر بحث خاموشی سے بدل گئی ہے۔ اب یہ سپر انٹیلیجنس کے فلسفیانہ سوالات سے زیادہ اس کے فنڈنگ میکانزم پر مرکوز ہے۔ یہاں تک کہ ابتدائی گفتگو ہو رہی ہے کہ کیا ایک دن اوپن اے آئی کو سرکاری فنڈز کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ وہ مستحکم رہ سکے۔ یہ ابھی مرکزی دھارے کی سوچ نہیں ہے، لیکن یہ بحث میں شامل ہو چکی ہے۔ اور یہ بھی ایک اشارہ ہے۔</p>
<p>اگر ماضی سے کچھ سیکھنا ہو تو یہ کہ بلبلے خود اعلان نہیں کرتے، اور جتنے ماہر وال اسٹریٹ پر ہیں، وہ اتنے ہی نابینا ہوتے ہیں جب بلبلہ پھول رہا ہوتا ہے۔ یہ منطقی اور ناگزیر لگتے ہیں، حتیٰ کہ وہ لمحہ آئے جب ایسا نہیں ہوتا۔ یہ لمحہ آیا ہے یا نہیں، ابھی واضح نہیں۔ لیکن جب کارپوریٹ قرضے تیز ہو جائیں، آف-بیلنس شیٹ قرضے رائج ہوں، اور کریڈٹ مارکیٹس ہیڈ لائن اور نوٹس کے درمیان فرق کرنا شروع کر دیں، تو نظام اب کامل قیمت پر نہیں ہے۔ یہ کچھ اور قیمت لگا رہا ہے۔</p>
<p>چاہے جو کچھ بھی ہو، یہ زیادہ دیر تک چھپا نہیں رہے گا۔</p>
<p>شاید اس بار صورتحال واقعی مختلف ہو۔</p>
<p>کاپی رائٹ  بزنس ریکارڈر،2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279297</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Nov 2025 16:54:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/13161348be37c33.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/13161348be37c33.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
