<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان 2026 میں یوروبانڈ جاری کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، بلومبرگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279296/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق حکومت اپنے مالیاتی پورٹ فولیو  کو متنوع بنانے کی کوشش کے تحت تقریباً 5 سال کے وقفے کے بعد آئندہ سال ڈالر بانڈز کے ذریعے فنڈز اکٹھا کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے سوالات کے جواب میں کہا کہ ملک یورو بانڈ مارکیٹ میں دوبارہ داخل ہونے کا منصوبہ بنا رہا ہے، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم شہزاد نے ملک کے رواں سال پانڈا بانڈز جاری کرنے کے منصوبے کو بھی دہرایا۔ پاکستان نے آخری بار 2021 میں یورو بانڈ مارکیٹ سے فنڈز حاصل کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق گلوبل ڈیبٹ مارکیٹس میں واپسی کا منصوبہ پاکستان کی جانب سے مالیاتی ذرائع میں تنوع لانے کی کوشش کو اجاگر کرتا ہے جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی معاونت سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ اور خودمختار بانڈز پر منافع بہتر ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان 2026 میں اپنے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ  پروگرام کے تحت یوروبانڈ کے اجرا کے ذریعے بین الاقوامی سرمایہ جاتی منڈیوں میں دوبارہ داخل ہونے کا منصوبہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں پاکستان نے اپنے 500 ملین ڈالر مالیت کے یوروبانڈ کی کامیابی سے ادائیگی مکمل کی جو 30 ستمبر 2025 کو میچور ہوا۔ یہ بانڈ 2015 میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے 10 سالہ مدت کے ساتھ جاری کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پاکستان کے ڈالر بانڈز کی قدر میں رواں سال 24 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو ایشیا میں سب سے بہترین کارکردگی قرار دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی حالات میں نرمی کے باعث پاکستان کے قرضوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں مزید کمی سے فرنٹیئر معیشتوں کے لیے بین الاقوامی منڈیوں تک دوبارہ رسائی کا موقع پیدا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی اقتصادی ٹیم کے مطابق پاکستان کی اقتصادی پیش رفت کو تین بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں یعنی فِچ، ایس اینڈ پی اور موڈیز نے بیرونی طور پر تصدیق کی ہے، جنہوں نے حالیہ مہینوں میں ملک کا آؤٹ لک اپ گریڈ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوروبانڈز کے علاوہ اسلام آباد اس سال یوآن میں جاری کیے جانے والے پانڈا بانڈز کے ذریعے 250 ملین ڈالر جمع کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے اور جون میں دو سال سے زائد کے وقفے کے بعد مشرق وسطی کے بینکوں سے 1 بلین ڈالر کی مالی معاونت حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق حکومت اپنے مالیاتی پورٹ فولیو  کو متنوع بنانے کی کوشش کے تحت تقریباً 5 سال کے وقفے کے بعد آئندہ سال ڈالر بانڈز کے ذریعے فنڈز اکٹھا کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔</strong></p>
<p>وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے سوالات کے جواب میں کہا کہ ملک یورو بانڈ مارکیٹ میں دوبارہ داخل ہونے کا منصوبہ بنا رہا ہے، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔</p>
<p>خرم شہزاد نے ملک کے رواں سال پانڈا بانڈز جاری کرنے کے منصوبے کو بھی دہرایا۔ پاکستان نے آخری بار 2021 میں یورو بانڈ مارکیٹ سے فنڈز حاصل کیے تھے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق گلوبل ڈیبٹ مارکیٹس میں واپسی کا منصوبہ پاکستان کی جانب سے مالیاتی ذرائع میں تنوع لانے کی کوشش کو اجاگر کرتا ہے جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی معاونت سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ اور خودمختار بانڈز پر منافع بہتر ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان 2026 میں اپنے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ  پروگرام کے تحت یوروبانڈ کے اجرا کے ذریعے بین الاقوامی سرمایہ جاتی منڈیوں میں دوبارہ داخل ہونے کا منصوبہ رکھتا ہے۔</p>
<p>ستمبر میں پاکستان نے اپنے 500 ملین ڈالر مالیت کے یوروبانڈ کی کامیابی سے ادائیگی مکمل کی جو 30 ستمبر 2025 کو میچور ہوا۔ یہ بانڈ 2015 میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے 10 سالہ مدت کے ساتھ جاری کیا گیا تھا۔</p>
<p>دریں اثنا، بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پاکستان کے ڈالر بانڈز کی قدر میں رواں سال 24 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو ایشیا میں سب سے بہترین کارکردگی قرار دی گئی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی حالات میں نرمی کے باعث پاکستان کے قرضوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں مزید کمی سے فرنٹیئر معیشتوں کے لیے بین الاقوامی منڈیوں تک دوبارہ رسائی کا موقع پیدا ہوا ہے۔</p>
<p>حکومت کی اقتصادی ٹیم کے مطابق پاکستان کی اقتصادی پیش رفت کو تین بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں یعنی فِچ، ایس اینڈ پی اور موڈیز نے بیرونی طور پر تصدیق کی ہے، جنہوں نے حالیہ مہینوں میں ملک کا آؤٹ لک اپ گریڈ کیا ہے۔</p>
<p>یوروبانڈز کے علاوہ اسلام آباد اس سال یوآن میں جاری کیے جانے والے پانڈا بانڈز کے ذریعے 250 ملین ڈالر جمع کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے اور جون میں دو سال سے زائد کے وقفے کے بعد مشرق وسطی کے بینکوں سے 1 بلین ڈالر کی مالی معاونت حاصل کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279296</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Nov 2025 16:21:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/13160948f4f17c2.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/13160948f4f17c2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
