<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئی بندرگاہوں کے مقامات کی نشاندہی کیلئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279294/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر  سمندری امور محمد جنید انور چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں میں نئی بندرگاہوں کے قیام کے لیے  اعلیٰ سطح پر کثیر ادارہ جاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یہ اقدام اُن کے  ہنڈریڈ ایئرز وژن 2047–2147  کا حصہ ہے، جو انہوں نے حال ہی میں کراچی میں نیشنل میری ٹائم ویک کی افتتاحی تقریب میں پیش کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر کے مطابق 12 رکنی کمیٹی آئندہ ہفتے اپنا پہلا اجلاس منعقد کرے گی، جس میں وہ خود شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تین ماہ میں تفصیلی فزیبلٹی رپورٹ پیش کرے جس میں تکنیکی نتائج، ہائیڈروگرافک نقشے، سیٹلائٹ ڈیٹا اور سرمایہ کاری سے متعلق سفارشات شامل ہوں۔ یہ کمیٹی ہر پندرہ روز بعد اجلاس کرے گی ،تاکہ منصوبے کی رفتار برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی میں پورٹ قاسم اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ، گوادر پورٹ اتھارٹی، وزارتِ بحری امور، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل، سروئیر جنرل آف پاکستان، ہائیڈروگرافر آف پاکستان اور صوبہ سندھ و بلوچستان کی نمائندگی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کا مینڈیٹ ساحلی پٹی کے مختلف مقامات کا تکنیکی و ماحولیاتی جائزہ لینا، مواصلاتی رابطوں، صنعتی امکانات، زمین کی دستیابی، سیکیورٹی عوامل اور تجارتی راہداریوں کا تجزیہ کرنا ہے ،تاکہ بندرگاہوں کے لیے موزوں ترین مقامات تجویز کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا ساحل 1,024 کلومیٹر طویل ہے اور اس کا اقتصادی زون تقریباً 2.4 لاکھ مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے بتایا کہ پورٹ قاسم 65 فیصد، کراچی پورٹ 52 فیصد جبکہ گوادر پورٹ صرف 5 تا 10 فیصد استعداد پر کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق 2035 سے 2045 کے دوران یہ بندرگاہیں مکمل گنجائش تک پہنچ جائیں گی، اس لیے افغانستان، وسطی ایشیا، خلیجی و افریقی تجارتی بہاؤ کے پیش نظر نئی گہری بندرگاہوں کا قیام ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر  سمندری امور محمد جنید انور چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں میں نئی بندرگاہوں کے قیام کے لیے  اعلیٰ سطح پر کثیر ادارہ جاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یہ اقدام اُن کے  ہنڈریڈ ایئرز وژن 2047–2147  کا حصہ ہے، جو انہوں نے حال ہی میں کراچی میں نیشنل میری ٹائم ویک کی افتتاحی تقریب میں پیش کیا۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر کے مطابق 12 رکنی کمیٹی آئندہ ہفتے اپنا پہلا اجلاس منعقد کرے گی، جس میں وہ خود شرکت کریں گے۔</p>
<p>کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تین ماہ میں تفصیلی فزیبلٹی رپورٹ پیش کرے جس میں تکنیکی نتائج، ہائیڈروگرافک نقشے، سیٹلائٹ ڈیٹا اور سرمایہ کاری سے متعلق سفارشات شامل ہوں۔ یہ کمیٹی ہر پندرہ روز بعد اجلاس کرے گی ،تاکہ منصوبے کی رفتار برقرار رہے۔</p>
<p>کمیٹی میں پورٹ قاسم اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ، گوادر پورٹ اتھارٹی، وزارتِ بحری امور، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل، سروئیر جنرل آف پاکستان، ہائیڈروگرافر آف پاکستان اور صوبہ سندھ و بلوچستان کی نمائندگی شامل ہے۔</p>
<p>کمیٹی کا مینڈیٹ ساحلی پٹی کے مختلف مقامات کا تکنیکی و ماحولیاتی جائزہ لینا، مواصلاتی رابطوں، صنعتی امکانات، زمین کی دستیابی، سیکیورٹی عوامل اور تجارتی راہداریوں کا تجزیہ کرنا ہے ،تاکہ بندرگاہوں کے لیے موزوں ترین مقامات تجویز کیے جا سکیں۔</p>
<p>پاکستان کا ساحل 1,024 کلومیٹر طویل ہے اور اس کا اقتصادی زون تقریباً 2.4 لاکھ مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے بتایا کہ پورٹ قاسم 65 فیصد، کراچی پورٹ 52 فیصد جبکہ گوادر پورٹ صرف 5 تا 10 فیصد استعداد پر کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق 2035 سے 2045 کے دوران یہ بندرگاہیں مکمل گنجائش تک پہنچ جائیں گی، اس لیے افغانستان، وسطی ایشیا، خلیجی و افریقی تجارتی بہاؤ کے پیش نظر نئی گہری بندرگاہوں کا قیام ناگزیر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279294</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Nov 2025 18:15:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/13151906df0777b.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/13151906df0777b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
