<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 20:22:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 20:22:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کثیرالجہتی پالیسی اور جیواکنامکس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279291/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈپٹی وزیراعظم اسحق ڈار نے دو روزہ مارگلہ ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے عالمی تعاون کو فروغ دینے، علاقائی سطح پر جیو اکنامکس کو مضبوط کرنے اور عالمی اقدار کے زوال اور یک طرفہ بلاک سیاست کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے کردار کو مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس بیان میں کچھ داخلی تضادات موجود ہیں جن کی وضاحت درکار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کثیر قطبی عالمی نظام کا آغاز 1991 میں ہوا، جب امریکہ اپنی واحد سپر پاور کی حیثیت کھو رہا تھا، چین اقتصادی حریف کے طور پر ابھرا، اور روس نے یوکرین کے ساتھ جاری جنگ کے دوران اپنی اہم فوجی طاقت کا مؤثر مظاہرہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کثیر الجہتی پالیسی کو گلوبلائزیشن کے مترادف سمجھا جاتا تھا جس نے ڈالر کی بالادستی کو یقینی بنایا اور سرمایہ کی آزادانہ نقل و حرکت کو فروغ دیا۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ سرمایہ وہ ممالک منتقل ہوا جہاں پیداوار کے اخراجات کم تھے، خاص طور پر امریکہ سے چین، تاکہ منافع زیادہ سے زیادہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حقیقت کہ امریکہ نے اپنی زیادہ تر مینوفیکچرنگ اور پیداوار دیگر ممالک کو منتقل کر دی تھی، ایک سخت حقیقت کے طور پر سامنے آئی۔ اس نے چین کو موقع دیا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کی پابندیوں اور محصولات کے خطرات کو ناکام بنا سکے۔ اس کے علاوہ، جب ڈچ حکومت نے چینی کمپنی نیپکسریا پر کنٹرول حاصل کیا، تو چین نے یورپ پر سیمی کنڈکٹر برآمدی کنٹرول نافذ کر دیے، کیونکہ تمام مینوفیکچرنگ چین میں ہی ہو رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد روس نے پابندیوں کے دباؤ میں اپنی مینوفیکچرنگ کو فوجی سازوسامان کی پیداوار کی طرف منتقل کیا جس سے اس کی معاشی ترقی مغربی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی۔ مزید یہ کہ یورپ کی جانب سے روسی سستی توانائی کی خریداری پر پابندیوں نے جرمنی  یورپ کی سب سے بڑی معیشت کے صنعتی زوال کو تیز کیا اور دیگر یورپی ممالک پر بھی اثر ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حقیقت کچھ بھی ہو، امریکہ پابندیوں اور محصولات کو ہتھیار کے طور پر استعمال جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم یورپ کے علاوہ جس نے بظاہر سیکیورٹی وجوہات کے تحت امریکی دباؤ کے آگے جھک کر عمل کیا، باقی دنیا ملٹی پولر حقیقتوں کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی سطح پر جیو اکنامکس بھی آج مکمل طور پر کارگر نہیں ہے، کیونکہ دنیا تیزی سے مغرب اور جنوبی ممالک کے درمیان قطبی ہو رہی ہے۔ فی الوقت کئی ممالک دنیا کے بدلتے ہوئے نظام یعنی یک قطبی سے کثیر قطبی کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں اور اس دوران اپنی معیشتوں کے لیے ممکنہ فوائد کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ اپنے سیکیورٹی مفادات کو بھی یقینی بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ ایک مؤثر ادارے کے طور پر کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم سلامتی کونسل کے مستقل ارکان زیادہ تر ممالک کی رائے پر عمل نہیں کر رہے، خاص طور پر فلسطین میں جاری نسل کشی کے معاملے میں، جس کی وجہ سے اس کی مؤثریت شدید طور پر زیرِ سوال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی بات درست ہے کہ دنیا اخلاقی اقدار کے زوال کا سامنا کر رہی ہے، خاص طور پر اسرائیلی اقدامات کے حوالے سے، تاہم یہ تبدیلی بنیادی طور پر سوشل میڈیا کے اثر کی وجہ سے ہے، کیونکہ مغربی ممالک کے عوام اصل صورتحال سے آگاہ ہیں اور اب اسرائیلی اقدامات کی حمایت نہیں کرتے، حالانکہ ان کی حکومتیں اپنی پالیسی میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں لائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکطرفہ بلاک پالیٹکس کا حوالہ غالباً یورپ کے لیے مخصوص ہے، جس نے ایسے فیصلے کیے جو نہ صرف ان کے اقتصادی مفاد میں نہیں بلکہ ان کی عوامی رائے کی نمائندگی بھی نہیں کرتے۔ پاکستان اس وقت دانشمندی سے تینوں سپر پاورز کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے، جسے مکمل حمایت حاصل ہونی چاہیے۔ ملک کے بہترین مفاد میں یہ ضروری ہے کہ یہ مصروفیت جاری رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈپٹی وزیراعظم اسحق ڈار نے دو روزہ مارگلہ ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے عالمی تعاون کو فروغ دینے، علاقائی سطح پر جیو اکنامکس کو مضبوط کرنے اور عالمی اقدار کے زوال اور یک طرفہ بلاک سیاست کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے کردار کو مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس بیان میں کچھ داخلی تضادات موجود ہیں جن کی وضاحت درکار ہے۔</strong></p>
<p>کثیر قطبی عالمی نظام کا آغاز 1991 میں ہوا، جب امریکہ اپنی واحد سپر پاور کی حیثیت کھو رہا تھا، چین اقتصادی حریف کے طور پر ابھرا، اور روس نے یوکرین کے ساتھ جاری جنگ کے دوران اپنی اہم فوجی طاقت کا مؤثر مظاہرہ کیا۔</p>
<p>کثیر الجہتی پالیسی کو گلوبلائزیشن کے مترادف سمجھا جاتا تھا جس نے ڈالر کی بالادستی کو یقینی بنایا اور سرمایہ کی آزادانہ نقل و حرکت کو فروغ دیا۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ سرمایہ وہ ممالک منتقل ہوا جہاں پیداوار کے اخراجات کم تھے، خاص طور پر امریکہ سے چین، تاکہ منافع زیادہ سے زیادہ کیا جا سکے۔</p>
<p>یہ حقیقت کہ امریکہ نے اپنی زیادہ تر مینوفیکچرنگ اور پیداوار دیگر ممالک کو منتقل کر دی تھی، ایک سخت حقیقت کے طور پر سامنے آئی۔ اس نے چین کو موقع دیا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کی پابندیوں اور محصولات کے خطرات کو ناکام بنا سکے۔ اس کے علاوہ، جب ڈچ حکومت نے چینی کمپنی نیپکسریا پر کنٹرول حاصل کیا، تو چین نے یورپ پر سیمی کنڈکٹر برآمدی کنٹرول نافذ کر دیے، کیونکہ تمام مینوفیکچرنگ چین میں ہی ہو رہی تھی۔</p>
<p>فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد روس نے پابندیوں کے دباؤ میں اپنی مینوفیکچرنگ کو فوجی سازوسامان کی پیداوار کی طرف منتقل کیا جس سے اس کی معاشی ترقی مغربی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی۔ مزید یہ کہ یورپ کی جانب سے روسی سستی توانائی کی خریداری پر پابندیوں نے جرمنی  یورپ کی سب سے بڑی معیشت کے صنعتی زوال کو تیز کیا اور دیگر یورپی ممالک پر بھی اثر ڈالا۔</p>
<p>یہ حقیقت کچھ بھی ہو، امریکہ پابندیوں اور محصولات کو ہتھیار کے طور پر استعمال جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم یورپ کے علاوہ جس نے بظاہر سیکیورٹی وجوہات کے تحت امریکی دباؤ کے آگے جھک کر عمل کیا، باقی دنیا ملٹی پولر حقیقتوں کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔</p>
<p>علاقائی سطح پر جیو اکنامکس بھی آج مکمل طور پر کارگر نہیں ہے، کیونکہ دنیا تیزی سے مغرب اور جنوبی ممالک کے درمیان قطبی ہو رہی ہے۔ فی الوقت کئی ممالک دنیا کے بدلتے ہوئے نظام یعنی یک قطبی سے کثیر قطبی کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں اور اس دوران اپنی معیشتوں کے لیے ممکنہ فوائد کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ اپنے سیکیورٹی مفادات کو بھی یقینی بنا رہے ہیں۔</p>
<p>اقوام متحدہ ایک مؤثر ادارے کے طور پر کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم سلامتی کونسل کے مستقل ارکان زیادہ تر ممالک کی رائے پر عمل نہیں کر رہے، خاص طور پر فلسطین میں جاری نسل کشی کے معاملے میں، جس کی وجہ سے اس کی مؤثریت شدید طور پر زیرِ سوال ہے۔</p>
<p>نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی بات درست ہے کہ دنیا اخلاقی اقدار کے زوال کا سامنا کر رہی ہے، خاص طور پر اسرائیلی اقدامات کے حوالے سے، تاہم یہ تبدیلی بنیادی طور پر سوشل میڈیا کے اثر کی وجہ سے ہے، کیونکہ مغربی ممالک کے عوام اصل صورتحال سے آگاہ ہیں اور اب اسرائیلی اقدامات کی حمایت نہیں کرتے، حالانکہ ان کی حکومتیں اپنی پالیسی میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں لائیں۔</p>
<p>یکطرفہ بلاک پالیٹکس کا حوالہ غالباً یورپ کے لیے مخصوص ہے، جس نے ایسے فیصلے کیے جو نہ صرف ان کے اقتصادی مفاد میں نہیں بلکہ ان کی عوامی رائے کی نمائندگی بھی نہیں کرتے۔ پاکستان اس وقت دانشمندی سے تینوں سپر پاورز کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے، جسے مکمل حمایت حاصل ہونی چاہیے۔ ملک کے بہترین مفاد میں یہ ضروری ہے کہ یہ مصروفیت جاری رہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279291</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Nov 2025 14:43:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/131433132e8eab2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/131433132e8eab2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
