<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2030 تک برآمدات 60 بلین ڈالر تک پہنچائی جائیگی ، نئی نیشنل انڈسٹریل پالیسی کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40279287/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم کے خصوصی مشیر برائے صنعت اور پیداوار، ہارون اختر خان  نے  نیشنل انڈسٹریل پالیسی (این آئی پی)  2023-30 کا اعلان کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت دہائیوں پر محیط تحفظ پسندی سے ہٹ کر برآمدات پر مبنی، جدت پر مرکوز صنعتی معیشت کی طرف فیصلہ کن قدم اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پروسپیرٹی فورم 2025 میں  اظہار خیال کرتے ہوئے جو پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکنامی (پی آر آئی ایم ای) کی میزبانی میں منعقد ہوا- انہوں نے معاشی اصلاحات اور صنعتی بحالی کے لیے حکومت کی عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل انڈسٹریل پالیسی کے بڑے میکرو اکنامک اہداف میں 2030 تک برآمدات کو 60 بلین ڈالر تک پہنچانا ، 6 فیصد جی ڈی پی  کی شرح نمو حاصل کرنا ، صنعتی ترقی کی سالانہ شرح 8 فیصد رکھنا اور
کل سرمایہ کاری کو جی ڈی پی  کے 15 فیصد تک بڑھانا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پالیسی موجودہ آئی ایم ایف  پروگرام کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور ایسے اصلاحات پر زور دیتی ہے جو  مالی طور پر متوازن لیکن ساختی طور پر مؤثر  ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی سبسڈیز کے بجائے  ٹیکس کے سادہ طریقے، کم ٹیریف اور ریگولیٹری کارکردگی میں بہتری پر توجہ دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون اختر خان نے اس نئے فریم ورک کو  قومی بحالی کے لیے خاکہ  قرار دیا اور کہا کہ پاکستان  معاشی سفر کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی  تحفظ پسندی کو مقابلہ بازی سے بدل دے گی اور مراعات کو رینٹ سیکنگ سے ہٹا کر کارکردگی پر مبنی ترقی کی طرف منتقل کرے گی۔  ہمارا مقصد یہ ہے کہ ٹیریف برآمدات کی ترقی کا ذریعہ بنیں، نہ کہ تجارت میں رکاوٹ بنیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پالیسی کے تحت کسٹم ڈیوٹی کے نرخ صرف چار سطحوں (0، 5، 10 اور 15 فیصد) میں کم کیے جائیں گے، جبکہ اضافی اور ریگولیٹری ڈیوٹیز مکمل طور پر ختم کر دی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے اندازے کے مطابق ان تبدیلیوں سے صرف موجودہ سال میں صنعت کو 175 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ حکام نے اس اصلاح کو طویل عرصے سے رائج تحفظی ماڈل سے ساختی فرق قرار دیا، جو ملکی مارکیٹوں پر برآمدات کو ترجیح دیتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پالیسی وزیراعظم کی اقتصادی تبدیلی کے ایجنڈے کے مطابق پاکستان کو عالمی اور علاقائی ویلیو چینز میں ضم کرنے کی کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چارٹنگ اے نیو پاتھ ٹوورڈ لمیٹڈ گورنمنٹ اینڈ لوئر ٹیکسز کے عنوان سے ہونے والے اس پروگرام میں نمایاں پالیسی ساز، معیشت دان اور تھنک ٹینک کے افراد شریک ہوئے، تاکہ آزادی، اقتصادی آزادی اور نجی شعبے کی سرگرمیوں کے کردار پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون اختر  نے کہا کہ پاکستان آج ایک اہم موڑ پر ہے، جہاں حکومت عارضی حل کے بجائے طویل مدتی، انتظامی اصلاحات لانے کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہاکہ معاشی استحکام اتفاق سے نہیں حاصل ہوتا، یہ مستقل مزاجی، اعتماد اور مہارت کے ذریعے بنایا جاتا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی تنوع کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ہارون اختر خان نے مزید کہا کہ پالیسی ویلیو ایڈیشن اور ٹیکنالوجی پر مبنی شعبوں جیسے مصنوعی ذہانت، الیکٹرک وہیکلز، کیمیکلز اور گرین ٹیکنالوجیز کو فروغ دیتی ہے جب بعض ممالک ٹیریف کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہاکہ پاکستان اسے معقول بنا رہا ہے، لاگت کم کر رہا ہے، مضبوطی پیدا کر رہا ہے اور عالمی ویلیو چینز میں ضم ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون اختر خان نے حکومت کے دوسرے بڑے اقدام، ریگولیٹری گلیوٹین اور ریفارم انیشیٹو کے بارے میں بھی بتایا، جو بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تین اصلاحاتی پیکجز کے تحت اب تک 465 ریگولیٹری سادگی فراہم کی جا چکی ہیں، جس سے کاروباری اخراجات میں سالانہ 250 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آسان کاروبار ایکٹ 2025 ان اصلاحات کو قانونی تحفظ فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے  سِک انڈسٹریل یونٹس کے لیے ریویل اور ڈیٹ ریزولوشن فریم ورک کے آغاز کا بھی اعلان کیا، جو ایس ای سی پی  ، اسٹیٹ بینک اور پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فریم ورک غیر کارآمد صنعتی اثاثوں کی تنظیم نو کو ممکن بنائے گا اور نیشنل انڈسٹریل ریویل کمیشن (این آئی آر سی ) کے ذریعے اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی کاروبار دوست ماحول قائم رکھنے کے عزم پر زور دیتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ ہراساں نہ کرنے والے ریگولیشن، شکایات کے ازالے کے میکانزم اور سرمایہ کار سہولت فراہم کرنے کے اقدامات مضبوط کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی اور ٹیکس اصلاحات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گرین فیلڈ ہائی ٹیک صنعتوں جیسے ای ویز ، بیٹریز اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے ترجیحی بجلی کے نرخ فراہم کیے جائیں گے اور سپر ٹیکس ختم کر کے متوازن، ترقی پر مبنی ٹیکس نظام کی طرف بڑھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون خان نے کہا ہم تحفظ پسندی سے پیداواری صلاحیت کی طرف، عارضی مراعات سے کارکردگی پر مبنی انعامات کی طرف اور درآمد پر انحصار سے ویلیو ایڈیشن کی طرف جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس طرح ہم صرف فیکٹریاں نہیں بحال کر رہے  بلکہ اس کاروباری روح کو دوبارہ تعمیر کر رہے ہیں جس نے کبھی پاکستان کو جنوبی ایشیا میں ابھرتی ہوئی صنعتی طاقت بنایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ 21ویں صدی میں مقابلہ بازی کا دارومدار جدت، ریگولیٹری کارکردگی، گرین ٹیکنالوجی، اور ڈیجیٹل انٹیگریشن پر ہے ۔  حکومت نجی شعبے اور اکیڈمیا سے مل کر مشترکہ خوشحالی اور پائیدار ترقی کے لیے کام  کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا خوشحالی کا راستہ آسان یا فوری نہیں ہے لیکن جیسا کہ کہاوت ہے ’سب سے بہترین وقت درخت لگانے کے لیے بیس سال پہلے تھا، دوسرا بہترین وقت اب ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہاکہ پالیسی کا ایک اور اہم مقصد وہ ریگولیٹری رکاوٹیں ختم کرنا ہے جو مینوفیکچرنگ کی مقابلہ بازی کو محدود کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹری گلیوٹین انیشیٹو کے تحت 465 پرانی یا اوورلیپنگ ریگولیشنز کو آسان یا ختم کیا گیا، جس سے کاروباری اخراجات میں سالانہ 250 ارب روپے کی بچت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون خان نے کہا کہ یہ اصلاحات ”ہراساں کرنے کی بجائے سہولت فراہم کرنے“ کے وسیع تر اقدام کا حصہ ہیں  اور آنے والا آسان کاروبار ایکٹ 2025 ان آسانیوں کو قانونی تحفظ دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنیز ایکٹ 2017 میں بھی غیر فہرست کمپنیوں کے لیے شامل ہونے اور کام کرنے کے عمل کو آسان بنایا گیا، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس کے تقاضے آسان کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی کا مرکز نیا ڈیٹ ریزولوشن اور صنعتی بحالی فریم ورک ہے، جسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، اور پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ غیر فعال لیکن ممکنہ طور پر قابل عمل صنعتی یونٹس کو قرض اور پرانی ٹیکنالوجی کے بوجھ سے نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل انڈسٹریل ریویل کمیشن ان بے کار اثاثوں کی تنظیم نو، مرجرز اور ایکوزیشنز کی حوصلہ افزائی اور بے کار پلانٹس کو دوبارہ پیداوار اور روزگار میں لانے کا کام کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی اور کریڈٹ مارکیٹس میں پالیسی چند مخصوص اصلاحات متعارف کراتی ہے ، تاکہ لاگت کم اور رسائی بہتر ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائی ٹیک گرین فیلڈ صنعتوں جیسے ای ویز ، ڈیٹا سینٹرز، اور بیٹری مینوفیکچرنگ کے لیے خصوصی بجلی کے نرخ فراہم کیے جائیں گے، جبکہ تجارتی برآمد کنندگان کے لیے پاور ریٹس کم کرنے کے لیے ویلنگ پالیسی میں ترمیم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ حکومت بینکوں کو درمیانے درجے کی کمپنیوں کے لیے کیپٹل ایڈیکیویسی رسک ویٹج کو کم کرنے کی ترغیب دے گی، تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتکاروں کے لیے قرض کی رسائی بڑھ سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم کے خصوصی مشیر برائے صنعت اور پیداوار، ہارون اختر خان  نے  نیشنل انڈسٹریل پالیسی (این آئی پی)  2023-30 کا اعلان کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت دہائیوں پر محیط تحفظ پسندی سے ہٹ کر برآمدات پر مبنی، جدت پر مرکوز صنعتی معیشت کی طرف فیصلہ کن قدم اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان پروسپیرٹی فورم 2025 میں  اظہار خیال کرتے ہوئے جو پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکنامی (پی آر آئی ایم ای) کی میزبانی میں منعقد ہوا- انہوں نے معاشی اصلاحات اور صنعتی بحالی کے لیے حکومت کی عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>نیشنل انڈسٹریل پالیسی کے بڑے میکرو اکنامک اہداف میں 2030 تک برآمدات کو 60 بلین ڈالر تک پہنچانا ، 6 فیصد جی ڈی پی  کی شرح نمو حاصل کرنا ، صنعتی ترقی کی سالانہ شرح 8 فیصد رکھنا اور
کل سرمایہ کاری کو جی ڈی پی  کے 15 فیصد تک بڑھانا شامل ہے۔</p>
<p>یہ پالیسی موجودہ آئی ایم ایف  پروگرام کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور ایسے اصلاحات پر زور دیتی ہے جو  مالی طور پر متوازن لیکن ساختی طور پر مؤثر  ہوں۔</p>
<p>نئی سبسڈیز کے بجائے  ٹیکس کے سادہ طریقے، کم ٹیریف اور ریگولیٹری کارکردگی میں بہتری پر توجہ دی جائے گی۔</p>
<p>ہارون اختر خان نے اس نئے فریم ورک کو  قومی بحالی کے لیے خاکہ  قرار دیا اور کہا کہ پاکستان  معاشی سفر کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی  تحفظ پسندی کو مقابلہ بازی سے بدل دے گی اور مراعات کو رینٹ سیکنگ سے ہٹا کر کارکردگی پر مبنی ترقی کی طرف منتقل کرے گی۔  ہمارا مقصد یہ ہے کہ ٹیریف برآمدات کی ترقی کا ذریعہ بنیں، نہ کہ تجارت میں رکاوٹ بنیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پالیسی کے تحت کسٹم ڈیوٹی کے نرخ صرف چار سطحوں (0، 5، 10 اور 15 فیصد) میں کم کیے جائیں گے، جبکہ اضافی اور ریگولیٹری ڈیوٹیز مکمل طور پر ختم کر دی جائیں گی۔</p>
<p>حکومت کے اندازے کے مطابق ان تبدیلیوں سے صرف موجودہ سال میں صنعت کو 175 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ حکام نے اس اصلاح کو طویل عرصے سے رائج تحفظی ماڈل سے ساختی فرق قرار دیا، جو ملکی مارکیٹوں پر برآمدات کو ترجیح دیتا تھا۔</p>
<p>یہ پالیسی وزیراعظم کی اقتصادی تبدیلی کے ایجنڈے کے مطابق پاکستان کو عالمی اور علاقائی ویلیو چینز میں ضم کرنے کی کوشش ہے۔</p>
<p>چارٹنگ اے نیو پاتھ ٹوورڈ لمیٹڈ گورنمنٹ اینڈ لوئر ٹیکسز کے عنوان سے ہونے والے اس پروگرام میں نمایاں پالیسی ساز، معیشت دان اور تھنک ٹینک کے افراد شریک ہوئے، تاکہ آزادی، اقتصادی آزادی اور نجی شعبے کی سرگرمیوں کے کردار پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔</p>
<p>ہارون اختر  نے کہا کہ پاکستان آج ایک اہم موڑ پر ہے، جہاں حکومت عارضی حل کے بجائے طویل مدتی، انتظامی اصلاحات لانے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہاکہ معاشی استحکام اتفاق سے نہیں حاصل ہوتا، یہ مستقل مزاجی، اعتماد اور مہارت کے ذریعے بنایا جاتا ہے ۔</p>
<p>صنعتی تنوع کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ہارون اختر خان نے مزید کہا کہ پالیسی ویلیو ایڈیشن اور ٹیکنالوجی پر مبنی شعبوں جیسے مصنوعی ذہانت، الیکٹرک وہیکلز، کیمیکلز اور گرین ٹیکنالوجیز کو فروغ دیتی ہے جب بعض ممالک ٹیریف کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں</p>
<p>انہوں نے کہاکہ پاکستان اسے معقول بنا رہا ہے، لاگت کم کر رہا ہے، مضبوطی پیدا کر رہا ہے اور عالمی ویلیو چینز میں ضم ہو رہا ہے۔</p>
<p>ہارون اختر خان نے حکومت کے دوسرے بڑے اقدام، ریگولیٹری گلیوٹین اور ریفارم انیشیٹو کے بارے میں بھی بتایا، جو بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تین اصلاحاتی پیکجز کے تحت اب تک 465 ریگولیٹری سادگی فراہم کی جا چکی ہیں، جس سے کاروباری اخراجات میں سالانہ 250 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ آسان کاروبار ایکٹ 2025 ان اصلاحات کو قانونی تحفظ فراہم کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے  سِک انڈسٹریل یونٹس کے لیے ریویل اور ڈیٹ ریزولوشن فریم ورک کے آغاز کا بھی اعلان کیا، جو ایس ای سی پی  ، اسٹیٹ بینک اور پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ فریم ورک غیر کارآمد صنعتی اثاثوں کی تنظیم نو کو ممکن بنائے گا اور نیشنل انڈسٹریل ریویل کمیشن (این آئی آر سی ) کے ذریعے اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دے گا۔</p>
<p>حکومت کی کاروبار دوست ماحول قائم رکھنے کے عزم پر زور دیتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ ہراساں نہ کرنے والے ریگولیشن، شکایات کے ازالے کے میکانزم اور سرمایہ کار سہولت فراہم کرنے کے اقدامات مضبوط کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>توانائی اور ٹیکس اصلاحات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گرین فیلڈ ہائی ٹیک صنعتوں جیسے ای ویز ، بیٹریز اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے ترجیحی بجلی کے نرخ فراہم کیے جائیں گے اور سپر ٹیکس ختم کر کے متوازن، ترقی پر مبنی ٹیکس نظام کی طرف بڑھا جائے گا۔</p>
<p>ہارون خان نے کہا ہم تحفظ پسندی سے پیداواری صلاحیت کی طرف، عارضی مراعات سے کارکردگی پر مبنی انعامات کی طرف اور درآمد پر انحصار سے ویلیو ایڈیشن کی طرف جا رہے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اس طرح ہم صرف فیکٹریاں نہیں بحال کر رہے  بلکہ اس کاروباری روح کو دوبارہ تعمیر کر رہے ہیں جس نے کبھی پاکستان کو جنوبی ایشیا میں ابھرتی ہوئی صنعتی طاقت بنایا تھا۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ 21ویں صدی میں مقابلہ بازی کا دارومدار جدت، ریگولیٹری کارکردگی، گرین ٹیکنالوجی، اور ڈیجیٹل انٹیگریشن پر ہے ۔  حکومت نجی شعبے اور اکیڈمیا سے مل کر مشترکہ خوشحالی اور پائیدار ترقی کے لیے کام  کررہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا خوشحالی کا راستہ آسان یا فوری نہیں ہے لیکن جیسا کہ کہاوت ہے ’سب سے بہترین وقت درخت لگانے کے لیے بیس سال پہلے تھا، دوسرا بہترین وقت اب ہے۔‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہاکہ پالیسی کا ایک اور اہم مقصد وہ ریگولیٹری رکاوٹیں ختم کرنا ہے جو مینوفیکچرنگ کی مقابلہ بازی کو محدود کرتی ہیں۔</p>
<p>ریگولیٹری گلیوٹین انیشیٹو کے تحت 465 پرانی یا اوورلیپنگ ریگولیشنز کو آسان یا ختم کیا گیا، جس سے کاروباری اخراجات میں سالانہ 250 ارب روپے کی بچت ہوئی۔</p>
<p>ہارون خان نے کہا کہ یہ اصلاحات ”ہراساں کرنے کی بجائے سہولت فراہم کرنے“ کے وسیع تر اقدام کا حصہ ہیں  اور آنے والا آسان کاروبار ایکٹ 2025 ان آسانیوں کو قانونی تحفظ دے گا۔</p>
<p>کمپنیز ایکٹ 2017 میں بھی غیر فہرست کمپنیوں کے لیے شامل ہونے اور کام کرنے کے عمل کو آسان بنایا گیا، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس کے تقاضے آسان کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>پالیسی کا مرکز نیا ڈیٹ ریزولوشن اور صنعتی بحالی فریم ورک ہے، جسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، اور پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔</p>
<p>یہ غیر فعال لیکن ممکنہ طور پر قابل عمل صنعتی یونٹس کو قرض اور پرانی ٹیکنالوجی کے بوجھ سے نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔</p>
<p>نیشنل انڈسٹریل ریویل کمیشن ان بے کار اثاثوں کی تنظیم نو، مرجرز اور ایکوزیشنز کی حوصلہ افزائی اور بے کار پلانٹس کو دوبارہ پیداوار اور روزگار میں لانے کا کام کرے گا۔</p>
<p>توانائی اور کریڈٹ مارکیٹس میں پالیسی چند مخصوص اصلاحات متعارف کراتی ہے ، تاکہ لاگت کم اور رسائی بہتر ہو۔</p>
<p>ہائی ٹیک گرین فیلڈ صنعتوں جیسے ای ویز ، ڈیٹا سینٹرز، اور بیٹری مینوفیکچرنگ کے لیے خصوصی بجلی کے نرخ فراہم کیے جائیں گے، جبکہ تجارتی برآمد کنندگان کے لیے پاور ریٹس کم کرنے کے لیے ویلنگ پالیسی میں ترمیم کی جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ حکومت بینکوں کو درمیانے درجے کی کمپنیوں کے لیے کیپٹل ایڈیکیویسی رسک ویٹج کو کم کرنے کی ترغیب دے گی، تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتکاروں کے لیے قرض کی رسائی بڑھ سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40279287</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Nov 2025 13:48:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/11/13132222c0cacd8.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/11/13132222c0cacd8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
